آزادی ڈیسک


آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیریوں کے خلاف تشدد بندکیا جائے ،اورمقبوضہ جموں وکشمیر کی آبادی و جغرافیائی حدود کو بدلنے کے حوالے سے حالیہ اقدامات کو فوری طور پر واپس لیا جائے

میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں میرواعظ نے کہا حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر میں شہری ہلاکتوں میں اضافہ سے اس بات کی ضرورت ہے کہ اس مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا جائے تو پورے خطے کو کیلئے پریشان کن ہے ۔جبکہ خطے کی جغرافیائی ہیت بدلنے کے اقدامات بھی فوری توجہ کے متقاضی ہیں

اپنے بیان میں انہوں نے خط متارکہ پر فائربندی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا یہ فیصلہ دیرینہ ضرورت تھی جس کے نتیجے میں لائن کے دونوں اطراف بسنے والے کشمیریوں کو سکون کاسانس لینا کا موقع ہے ۔ہم نے ہمیشہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کیلئے اقدامات کی تائید کی ،جس پر چلتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے


یہ بھی پڑھیں

  1. آزاد کشمیر انتخابات ،45 نشستیں‌،701 امیدوار،28 لاکھ ووٹرز،فیصلہ 25 جولائی
  2. حریت کے بغیر بھارت کا کشمیری قیادت سے رابطہ کیا معنی رکھتا ہے ؟
  3. عمران خان،موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کشمیریوں سے غداری ہوگی
  4. غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا

لیکن بدقستی سے اس کے بعد بھی ابھی تک مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کیلئے حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔جہاں آج بھی لوگ جبرکاشکار ہیں ،میرواعظ اور ان کے اہلخانہ کووڈ کا شکار ہوئے ،جبکہ دیگر قیادت بھی صحت کےمسائل سے دوچار ہے

حریت قیادت سمیت سینکڑوں نوجوان اور سیاسی قیدی مختلف جیلوں میں قید یا گھروں میں قید ہیں ،یاسین ملک عارضہ قلب میں مبتلا ہیں ،جبکہ شبیر شاہ کی صحت بھی بگڑچکی ہے
انسانی حقوق کے عالمی ادروں اور شہریوں کی جانب سے متعدد بار اپیل کئے جانے کے باوجود سیاسی قیدیوں کو رہا نہیں کیاجارہا ہے ،جبکہ کووڈ کی وجہ سےحالات پہلے سے زیادہ دگرگوں ہیں

حتیٰ کے کووڈ کےدوران بھی ریاستی جبرکا سلسلہ جاری رہا

بیان میں مزید کہا گیا اگست2019 میں آرٹیکل 370 اور 35 اے کے یکطرفہ خاتمے اور جموں و کشمیر کو دو اکائیوں میں تبدیلی کے فیصلے سے خطے کی جغرافیائی و آبادیاتی نوعیت بدلنے کے نتیجے میں کشمیریوں کو اپنے شناخت کھوجانے کا خطرہ لاحق ہے

کیوںکہ ان اقدامات کے نتیجے میں مقامی ملازمتوں ،زمین اور قدرتی وسائل غیرمقامی لوگوں کے ہاتھ جانے کے خوف سے عام لوگوں میں عدم تحفظ بڑھا ہے ،جس کے نتیجے میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا ہورہے ہیں

جبکہ دوسری جانب مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ کوششیں نہ ہو نے کی وجہ سے عام شہریوں ،پولیس اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ اور ہتھیاراٹھانے والے نوجوانوں کے حراستی قتل کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے

مسئلہ کشمیر کا حل صرف مذاکرات

میر واعظ عمرفاروق نے اپنے بیان میں مزید کہا
ہم نے ہمیشہ خطے کے امن اور ترقی کی وکالت کی ہے ،ہمیں یقین ہے کہ پاکستان ۔لشمیری عوام اور بھارت صرف مذاکرات کے ذریعےتنازعہ کشمیر کا پائیدار حل ڈھونڈسکتےہیں

لیکن مذاکرات سے قبل اعتماد سازی کی فضاء قائم کرنے کیلئے ماحول تیار کرنا ضروری ہے ،اس لئے حکومت ہند سب سے پہلے ان تمام اقدامات کو واپس لے جن سے کشمیر کی جغرافیائی ترتیب میں ردوبدل ہوا اور مقامی لوگوں کے حقوق چھینے گئےاور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے

Translate »