Spread the love
محمد صداقت
ہریپور

ہریپور کا تقریباً ڈیڑھ سو سالہ قدیم فراہمی آب کا نظام جو آج بھی مکمل طور پرفعال اور شہری علاقوں کو تازہ اور ٹھنڈا پانی فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہے ۔

1880 سے 1901 کے درمیان ہریپورشہر کے مختلف محلہ جات کیلئے انگریز سرکار کی جانب سے بنایاجانے والے نظام آب کی نشانیاں آج بھی محلہ کھوہ ،محلہ رسالداریاں ،محلہ چوکی پولیس ،محلہ ملک پورہ ،محلہ موتیاں اور چند دیگر مقامات پر بھی دیکھی جاسکتی ہیں

مقامی لوگوں اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق جب خالصہ سرکار کی فوجی چھائونی ہریپور انگریزوں کے قبضہ میں آئی تووہ ہریپور کے فراہمی و نکاسی آب کے نظام سے کافی متاثر ہوئے

جہاں شہر کے مختلف مقامات پر شہریوں کو تازہ پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے شہر سے چند کلومیٹر دوری پر یونین کونسل شاہ مقصود کے علاقے ٹھنڈا چوہا کے مقام پر قدرتی چشموں کے قریب چھ تالاب بنائے

جن میں جمع ہونے والا پانی چار کلومیٹر دو شہری علاقوں میں چھ انچ قطر کی پائپ لائنوں کے ذریعے پہنچایا گیا ۔

جہاں سے شہری بلاتعطل ہر وقت تازہ اور شفاف پانی حاصل کرسکتے تھے ۔کیوں کہ ٹھنڈا چوہا کا علاقہ نسبتاً اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے پانی بغیر موٹر یا بجلی کے باآسانی شہری علاقوں تک پہنچ جاتا تھا۔


یہ بھی پڑھیں

  1. مانسہرہ میں ایشیاء کی پرندوں کی سب سے بڑی افزائش گاہ کوجدید سہولتیں فراہم
  2. طویل خشک سالی سے ہریپورکے آبی ذخائرکم ترین سطح پر آگئے
  3. اخوندسالاک کابلگرامی مغلیہ سلطنت کےخلاف قبائل کو متحد کرنیوالے صوفی بزرگ
  4. ریلوے حادثات ،باتوں سے بڑھ کرعمل کی ضرورت

اور یہ قدرتی چشمے آج بھی شہری اور دیگر ملحقہ علاقوں میں روزمرہ استعمال اور زرعی ضروریات کو پورا کررہے ہیں ۔جبکہ موسم گرما کے دوران یہ چشمے گرمی کے ستائے شہریوں کیلئےراحت کا سامان بنتے ہیں ۔جہاں ہر روز گرمی کے ستائے اور سیروتفریح کیلئے آنے والے لوگ ان چشموں سے سیراب ہوتے ہیں

بہائو میں کبھی کمی نہیں دیکھی گئی

مقامی لوگوں کے مطابق گذشتہ کئی صدیوں سے جاری و ساری ان چشموں کے منبع کے بارے میں کسی کو کوئی معلومات نہیں ،اور نہ ہی کبھی ان کے بہائو میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے ۔

محمد اقبال نامی ایک مقامی شخص کے مطابق انہیں ان کے والد جن کی عمر سو سال سے زیادہ تھی نے بتایا کہ انہیں ان کے بزرگوں نے بھی یہی بتایا تھا کہ یہ چشمے اسی طرح جاری و ساری ہیں

ٹھنڈا چوہا گائوں کے اردگرد واقع یہ قدرتی چشمے گذشتہ ڈیڑھ سو سال کے دوران کبھی بھی خشک ہوئے نہ ان کے بہائو میں کمی آئی ہے ،شاید یہ کئی صدیوں سے ایسا ہوتا آرہا ہے ،ان کی حقیقی عمر کے بارے میں جاننا شاید ممکن نہ ہو

محمد صفدر نامی ایک شخص نے بتایا کہ ڈیڑھ سو سال قبل انگریز دو ر میں قائم ہونے والا فراہمی آب کا نظام انتہائی کارگر اور مستند ہے جہاں کبھی ایک دن کیلئے بھی پانی کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی ۔اور شہر کے اکثر علاقوں میں اب بھی لوگ اس پانی سے مستفید ہورہے ہیں

فیاض احمد نامی ایک شہری کے خیال میں اگر حکومت کی ترجیحات میں شامل ہو تو تازہ اور قدرتی پانی کی فراہمی کا صدیوں قدیم طریقہ انتہائی کم لاگت میں دوبارہ باآسانی بحال کیا جاسکتا ہے

ان کے بقول اگرچہ اب تو تقریبا ہر گھر میں بورنگ موجود ہے ،یا ٹیوب ویل کے ذریعے گھر گھر پانی پہنچانے کا انتظام ہوچکا ہے ،لیکن جو مٹھاس اور ٹھنڈک اس پانی کی ہے وہ لذت کہیں اور نہیں مل سکتی

ایسا نظام جہاں شہریوں کو ہمہ وقت تازہ پانی کی فراہمی ممکن تھی

ایک اور شہری محمد افضال کا کہنا تھا ،اگرچہ اس دور میں ہر گھر میں پانی کا نلکا نصب کرنا ممکن نہ تھا لیکن انگریزوں نے ہر محلے اور آبادی کے مرکزی علاقے میں شیر کے منہ والے فوارے نصب کررکھے تھے ۔

جہاں سے مقامی آبادی بلا تعطل ہر وقت اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے تازہ اور شفاف پانی حاصل کرسکتے تھے ۔

لیکن وقت کی تیز رفتاری اور بڑھتی ہوئی بے ہنگم تعمیرات کے باعث یہ فوارے شہری علاقوں سے غائب ہونے لگے کیوں کہ اب تقریبا ہر گھر میں پانی کا نلکا یا موٹر نصب ہوچکی ہے

جب ان فواروں کا استعمال متروک ہوا تو کہیں تو وہ زمانے کی دستبرد کا شکار ہوگئے اور کہیں چور انہیں اکھاڑ کر لے گئے

اب جو چند ایک مقامات پر اگر فوارے موجود بھی ہیں تو ان میں پانی نہیں آتا کیوں کہ ٹائون میونسپل اتھارٹی ان فواروں تک پہنچنے والی لائنیں منقطع کردی ہیں ۔

فیاض احمد نامی ایک شہری کے خیال میں اگر حکومت کی ترجیحات میں شامل ہو تو تازہ اور قدرتی پانی کی فراہمی کا صدیوں قدیم طریقہ انتہائی کم لاگت میں دوبارہ باآسانی بحال کیا جاسکتا ہے

منصوبے کی تجدید ممکن اور زیر غور ہے ،ٹائون میونسپل

جس سے نہ صرف حکومت کو بجلی کے بلوں کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپے کی بچت ہوگی بلکہ شہری علاقوں میں آئے روز پیدا ہونے والی پانی کی قلت پر بھی قابو پایا جاسکتا ہے

تاہم ٹائون میونسپل کے ایک ذمہ دار ابرار علوی کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ٹھنڈا چوہا کے قدرتی چشموں سے شہر میں پانی کی فراہمی بحال کرنیکا منصوبہ زیرغور ہے

کیوں کہ یہ منصوبہ انتہائی کم لاگت ،قابل عمل اور موثر ہے ،جس کے بحال ہونے سے اگلے دوعشروں کیلئے شہر کی پانی کی ضروریات بآسانی پوری کی جاسکتی ہیں

Translate »