صداقت حسن


ضلع ہریپور کی تحصیل غازی کے ایک مسیحی جوڑے نے اپنی نویں جماعت میں زیرتعلیم 14 سالہ بیٹی کے اغواء اور قبول اسلام کے بعد اس کی زبردستی شادی کا الزام عائد کیا ہے

غازی کے علاقے مبین بانڈہ کی رہائشی نورین مسیح اور ان کے شوہر فرانسس مسیح نے اپنے ویڈیو بیان اور پولیس کے پاس جمع کروائی جانے والی تحریری درخواست میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک مقامی رہنما اور پولیس پر ملزم کی پشت پناہی کا بھی الزام عائد کیا ہے

متاثرہ خاندان کا موقف کیا ہے ؟

مبین بانڈہ تحصیل غازی کے رہائشی جوڑے نورین مسیح اور فرانسس مسیح نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیان میں موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی نویں جماعت کی طالبہ 14 سالہ بیٹی پرنسی کو 3 اگست کی رات پونے ایک بجے کے قریب اپنے گھر سے غائب پائی گئی

والدین کے مطابق انہوں نے اپنے طور اپنے اردگرد اور قریبی علاقوں میں لڑکی کی تلاش شروع کردی۔اس دوران انہیں علم ہوا کہ ان کی بیٹی کو اسی علاقے کے رہائشی ذوالقرنین ولد زاہد اقبال نے اغواء کرلیا ہے ۔

جس پر انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنما اور سرکاری ٹھیکیدار سے مدد کیلئے رابطہ کیا ،کیوں کہ ہمارے علم میں یہ بات بھی آئی تھی کہ اغواء کے معاملے میں اس رہنما کا بیٹا بھی ملوث ہے


یہ بھی پڑھیں


متاثرہ جوڑے کے مطابق پی ٹی آئی رہنما نے انہیں چند روز میں ان کی بیٹی کو ڈھونڈکر واپس لانے کی یقین دہانی کروائی ،لیکن اس کے بیٹے اور خود اس کی ملزم کو پشت پناہی کے باعث یہ وعدہ پورا نہ ہوسکا

نسرین مسیح نے اپنے بیان میں مزید کہا 9 اگست کو اختر شاہ نے انہیں اطلاع دی کہ ان کی بیٹی نے صوابی میں قبول اسلام کے بعد عدالت کے ذریعے ذوالقرنین سے شادی کرلی ہے

جس پر انہوں نے اعتراض کیا کہ ان کی بیٹی ابھی انتہائی کم عمر ہے ،کیونکہ نادرا کے جاری کردہ برتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق پرنسی کی تاریخ پیدائش 10 جنوری 2007 ہے ،اس طرح اس کی موجودہ عمر 14 سال 6 ماہ میں جو کہ پاکستانی قانون کے مطابق بھی شادی کی عمر نہیں ہے

نسرین مسیح اور فرانسس مسیح کے مطابق انہوں نے دوبارہ پی ٹی آئی رہنما کو اپنی بیٹی کو ڈھونڈنے اور اس کو واپس لانے کیلئے مدد طلب کی ۔جس کے جواب میں اس نے بات کو سنجیدگی سے سننے کے بجائے انہیں اور دیگر مسیحی خاندانوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا

خاتون نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ رہنما نے انہیں صلح پر آمادہ کرنے کیلئے دبائو ڈالنا شروع کردیا ۔جبکہ اس دوران غازی پولیس نے بھی 8 روز گزرنے کے باوجود ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لینا شروع کردیا ۔اس کے بجائے پولیس نے ان سے کہا کہ وہ اس کیس کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں کیوں کہ ان کی بیٹی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے کے بعد عدالت میں پسند کی شادی کرلی ہے

متاثرہ جوڑے نے حکومت سے اپیل کی کہ ہماری اور ہمارے دیگر عزیز واقارب کی حفاظت یقینی بنائی جائے کیوں بیٹی کے اغواء کے بعد ان لوگوں کو بھی خطرہ لاحق ہے

پولیس کا موقف

اس حوالے سے ایس ایچ او غازی شفیق الرحمن نے تصدیق کی ہے فرانسس مسیح کی مدعیت میں اس کی بیٹی کے اغواء کا پرچہ درج کرلیا گیا ہے ،تاہم ابتدائی معلومات اور چھان بین کے مطابق مسماۃ پرنسی نے اسلام قبول کرنے کے بعد ضلع صوابی کی تحصیل شاہ منصور کی ایک مقامی عدالت میں ذوالقرنین ولد زاہد کے ساتھ شادی کرلی ہے ،اگرچہ ذولقرنین کے والد زاہد کو حراست میں لے لیا گیا لیکن لڑکا اور لڑکی تاحال دونوں روپوش ہیں

پرنسی یا زینب بی بی

اے سی پی کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق پرنسی ولد فرانسس مسیح نے عدالت میں جمع کروائی جانے والی ایک بیان حلفی میں اقرار کیا ہے کہ ان کی عمر تقریبا 16 ،17 سال ہے اور وہ مکمل ہوش و حواس میں رہتے ہوئے بلاترغیت و لالچ اسلام قبول کرتی ہیں ۔اور شریعت محمدیہ کے مطابق مقررہ حق مہر کے عوض کے ذوالقرنین ولد زاہد کے ساتھ شادی کرنے پر رضامند ہوں

قانون کیا کہتا ہے

اگرچہ عدالت میں جمع کروائی جانے والے حلف نامے میں خاتون کا شناختی کارڈ نمبر درج نہیں ،تاہم قانونی ماہرین کیمطابق اگر کسی لڑکی کے پاس نکاح کے وقت شناختی کارڈ موجود نہ ہو تو اس صورت میں کسی مستند ڈاکٹر کی رائے یا جاری کردہ سرٹیفکیٹ عدالت میں قابل قبول ہوتا ہے ۔جس کی بنیاد پر عدالت نکاح کو شرعی قانون کے لحاظ سے قابل قبول قرار دیتی ہے ۔

ہمارے ہاں عموماً دو طرح معاملات کو دیکھا جاتا ہے ،شرعی قوانین اور تعزیر ات پاکستان ،تاہم کہیں اگر کہیں ایسا معاملہ پیش آجائے جہاں جس میں دونوں قوانین کی رائے باہم متصادم ہوتو وہاں شرعی قوانین کو زیادہ مقدم سمجھا جاتا ہے اور اس حوالے سے متعدد عدالتی فیصلے موجود ہیں

Translate »