صداقت حسن


ہریپورپولیس نے لاپتہ ہونے والی مسیحی لڑکی اور اس کے مبینہ اغواء کار کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کردیا
جہاں لڑکی نے کو عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے کے بعد دارلامان جبکہ لڑکے اور اس کے والد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

تاہم اس کہانی کا دلچسپ موڑ یہ ہے کہ لڑکی نے عدالت میں جبری طور پر مذہب کی تبدیلی اور شادی کے دعوے کو مسترد کردیا ہے ۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے لڑکی نے کہا کہ اس نے اپنی مرضی اور بغیر کسی خوف یا دبائو کے اسلام قبول کیاہے اور ذوالقرنین زاہد سے شادی کی ہے

غازی پولیس نے 11 اگست کو مبین بانڈہ تحصیل غازی کی رہائشی نورین مسیح اور ان کے شوہر فرانسس مسیح کی مدعیت میں نویں جماعت کی طالبہ اپنی بیٹی پرنسی کے اغوا کے الزام میں ذوالقرنین زاہد اور اس کے والدزاہد اقبال کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا

جو 3 اگست کی رات کو اپنے گھر سے لاپتہ ہوگئی تھی


یہ بھی پڑھیں


غازی پولیس کے مطابق انہوں نے ذوالقرنین زاہد اور اسکے والد زاہد اقبال کو گرفتار کرلیا اور ان کے گھر سے لاپتہ ہونے والی مسیحی لڑکی کو بھی برآمد کرلیا گیا

لڑکی کو جمعرات کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ چار کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے 164 کا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے ذوالقرنین پر اپنے اغواء اور زبردستی مذہب تبدیلی کے الزام کو مسترد کردیا

پولیس کے مطابق لڑکی نے عدالت کو اپنے بیان میں بتایا کہ اس نے اپنا مسیحی نام پرنسی سے تبدیل کرکے اسلامی نام زینب رکھا ہے اور یہ سب کچھ اس کی مرضی سے ہوا ہے

اور اس نے صوابی کی ایک عدالت میں ذوالقرنین کے ساتھ نکاح کرلیا ہے اور وہ اب اپنے شوہر کیساتھ رہنا چاہتی ہیں ۔تاہم عدالت نے لڑکی کو دارالامان جبکہ لڑکے اور اس کے والد کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

واضح رہے کہ دستیاب دستاویزات اور شواہد کے مطابق دونوں کی شادی 7 اگست کو ہوئی ،جس میں لڑکی کا حق مہر 4 لاکھ روپے نقد ،4 تولہ سونا اور کسی ناچاقی کی صورت میں 15 ہزار روپے ماہوار مقرر ہوا ہے

والدین اپنے موقف پر قائم

تاہم لڑکی کے والدین نے ایک بار پھر اس دعوے کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی قانونی طور پر شادی کی عمرکو نہیں پہنچی ،جبکہ اس کے پاس موجود میڈیکل سرٹیفکیٹ جعلی ہیں ۔

لڑکی کے والدین نے کہا نادرا کے جاری کردہ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے مطابق اس کی تاریخ پیدائش 10 جنوری 2007 ہے اس طرح لڑکی کی موجودہ عمر صرف 14 سال 6 ماہ ہے

Translate »