عمران حیدر تھہیم


    ایک مشہور ہندی کہاوت ہے کہ

” باپ پہ پُوت، پِتا پہ گھوڑا، بوہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا "

مَیں نے جب 2019 کے کوہ پیمائی کے سیزن میں یہ سُنا کہ لیجنڈری کوہ پیما مُحمّد علی سدپارہ کے 20 سالہ بیٹے ساجد سدپارہ نے کے۔ٹو پہاڑ کو سر کر لیا تو فوراً میرے ذہن میں مُندرجہ بالا ہندی کہاوت عود کر آئی۔ مُجھے انتہائی خُوشی ہوئی کہ علی سدپارہ کے کوہ پیمائی کے فن کا جاں نشین اور حقیقی وارث کوئی اور نہیں خُود اُسکا اپنا بیٹا ہی بنا ہے

اور ماشاء اللہ کیا اُٹھان ہے کہ پہلی آٹھ ہزاری چوٹی سر کی بھی تو بھلا کونسی؟ وہ جس کو سر کرنے کےلیے دُنیا بھر کے کوہ پیما عُمر بھر ریاضت کرتے ہیں اور تب جا کر اُنہیں قُدرت کی صنّاعی کے اس شاہکار کے سینے پر قدم دھرنے کا موقع ملتا ہے۔ کے۔ٹو بلاشُبہ پہاڑوں کا بادشاہ ہے۔

علی سدپارہ کو مَیں بہت عرصہ سے فالو کر رہا ہوں۔ جب 2016 میں نانگا پربت کو موسمِ سرما میں اُسکی سربراہی میں سر کیا گیا تھا تو تب مَیں اُس تاریخی مُہم جُوئی کو لائیو ٹریکر پر مانیٹر کر رہا تھا۔

اُس تاریخی فتح کے بعد مَیں نے علی سدپارہ کی ہر ایکٹیویٹی کو باقاعدہ طور پر فالو کیا۔ اس عظیم کوہ پیما کے بارے میں تفصیل سے پڑھنا اور اسکے سابقہ و موجودہ کارناموں سے آگاہی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ علی سدپارہ کی مُستقبل کی مُہمات پر بھی مَیں نے باریک بِینی سے نظر رکھنا شروع کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:

علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ دونوں باپ بیٹا کے زیاراتِ مُقدّسہ کےلیے ایران، عراق اور شام جانے سے لیکر کے۔ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کی مُہم جُوئی تک مَیں نے دونوں کی ہر ایکٹیویٹی سے متعلق جانکاری حاصل کی اور اُنکا بغور مطالعہ کیا۔

پھر 5 فروری 2021 کو علی سدپارہ، جان سنوری اور یوہان پابلو موہر کے لاپتہ ہو جانے کے بعد دُنیا بھر کی ایڈونچر اور کلائمبنگ کمیونٹی کے ہیجان، پریشانی اور دُکھ کو بھی مَیں نے انتہائی قریب سے دیکھا، پڑھا، سُنا، سمجھا اور اُس پر لکھا۔

5 فروری کے کے۔ٹو سانحہ کے بعد جس چیز نے مُجھے سب سے زیادہ مُتاثر کیا وہ ساجد سدپارہ کا نہ صرف بطور کوہ پیما بلکہ بطور ایک فرمانبردار بیٹا ہونے پر مشتمل اُسکا ذاتی ڈسپلن اور مجموعی کنڈکٹ تھا۔

مَیں حیران تھا کہ علی سدپارہ نے اپنے اس سپوت کی کیسی کمال تربیت کی ہے۔
یہ سمجھنے کےلیے آپ ایک لمحہ آنکھیں بند کریں اور تصوّر کریں کہ آپ اپنے عالمی شُہرت یافتہ کوہ پیما باپ کے ساتھ کے۔ٹو کو موسمِ سرما میں سر کرنے کےلیے ایک غیر مُلکی کلائنٹ کے ساتھ رختِ سفر باندھ کر گھر سے روانہ ہوئے ہیں۔

کئی روز کی ٹریکنگ کے بعد کے۔ٹو بیس کیمپ پر پہنچ کر اپنی مُہم جُوئی کا آغاز کرتے ہیں اور پھر آپکا ہر دن، ہر لمحہ اپنے باپ کی رفاقت میں گُزرنا شروع ہو جاتا ہے۔ وہی رفاقت جسکی کمی آپکو اپنے لڑکپن میں اکثر محسوس ہوتی تھی لیکن مجبوری یہ تھی کہ باپ کو آپ کےلیے روزی کمانے کی غرض سے اکثر گھر سے باہر پہاڑوں کی مُہم جُوئی پر کئی کئی دن رہنا پڑتا تھا

اور جب کبھی وہ جاڑے کے دنوں میں واپس گھر آتا تھا تو اُسے بے روزگار رہنا پڑتا تھا اور وقت اسی تگ و دو میں گُزر جاتا تھا کہ کس طرح گھر کے اخراجات پُورے کیے جائیں۔ لہٰذا اپنے باپ سے رموزِ زندگی اور اُس سے اُسکا ہُنر سیکھنے کا قیمتی وقت آپ کے ہاتھ سے ہر سال گُزر جاتا تھا۔

لیکن اب یہ کیسا خُوبصورت موقع آپکو مل چکا تھا کہ جس میں آپ اپنے باپ سے اُسکا کوہ پیمائی کا ہُنر اس کھیل کے بہترین پلے گراؤنڈ یعنی کے۔ٹو کی آغوش میں گُزار رہے تھے۔ گویا باپ اپنے فن کی معراج اور بیٹا اپنی تربیت کے بہترین لمحات سے گُزرنے کا مزا لے رہے تھے۔ لیکن پھر ایک دن اپنے مقصد کے انتہائی فیصلہ کُن موڑ پر قُدرت آپ سے رُوٹھ جاتی ہے۔

آپ کے کانوں میں اچانک اپنے باپ کی حُکمیہ آواز پڑتی ہے کہ بیٹا اب اس مقام سے تُم واپس چلے جاؤ اور مَیں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ پہاڑ کی چوٹی سے ہو کر آتا ہوں۔ میری واپسی تک تُم کے۔ٹو کے کیمپ 4 پر بیٹھے رہنا۔

شومئی قسمت کہ یہ مقام دُنیا کے انتہائی دُشوار گُزار اور بلند ترین مقامات میں سے ایک مقام ہے جہاں ہر قدم پر موت کا رقص جاری ہے اور ہر تنفّس پر یُوں گُمان ہوتا ہے کہ گویا حلق پر آرا چل رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

چاہتے نہ چاہتے، گِرتے پڑتے آپ کسی نہ کسی طرح باپ کے حُکم پر سرِتسلیم خَم کرتے ہوئے اُس بلند ترین اور انتہائی سرد انتظار گاہ پہنچتے ہیں اور پھر انتظار کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جسکا اختتام سوائے خُدا کی ذات کے کسی کو معلوم نہیں۔

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی
تُم چلے ہو تو کوئی روکنے والا بھی نہیں

دُور و نزدیک سے اُٹھتا نہیں شورِ زنجیر
اور صحرا میں کوئی نقشِ کفِ پا بھی نہیں

اگر یہی ہورہا ہے تو پھر سوچیں کہ آپ کو کرب و ابتلا کے کس درجے سے گُزر کا زندہ رہنا پڑ رہا ہے؟

بند آنکھیں کھول کر دیکھیں، آپ اُس بھیانک منظر کے محض تصوّر سے گُزرے ہیں جس کے حقیقی منظر سے ساجد سدپارہ گُزر آیا ہے۔

جی ہاں، ساجد سدپارہ کی زندگی میں 5 دسمبر 2020 سے 6 فروری 2021 کی شام تک ہونے والے واقعات کا تصوّر ہی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ کےلیے خوفزدہ کرنے کےلیے کافی ہے۔کے۔ٹو کی انتہائی بُلندیوں پر شدید سرد برفیلی راہوں میں اپنے باپ کو کھو کر، گھنٹوں اُسکا راہ تکتے رہنے اور پھر اُمید کھو کر اپنی ہی موت وحیات کی کشمکش کے سائے سائے دُنیا کے مُشکل اور وحشی ترین پہاڑ کی جان لیوا اُترائی اُتر کر زندہ سلامت آجانا صرف ساجد سدپارہ جیسے سپوت کا ہی خاصہ ہو سکتا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی کہ 5 فروری 2021 کو کے۔ٹو پر علی سدپارہ اپنے دو ساتھیوں سمیت لاپتہ ہو گئے تھے اور ساجد سدپارہ زندہ سلامت نیچے اُتر آیا تھا۔ بلکہ ساجد سدپارہ کا اصل امتحان تو اُسکے بعد شروع ہوا۔

مُحمّد علی سدپارہ اور اُسکے ساتھیوں کی لاشیں تلاش کرنے کا ہیجان خیز اور اعصاب شکن مرحلہ شروع ہوا۔ سرچ مشن میں ناکامی اور بعد ازاں علی سدپارہ کی موت کے آفیشل اعلان کے بعد ساجد سدپارہ کے سامنے باپ کی جُدائی اور اوائل عُمری میں ہی خاندان کی کفالت کی ذمّہ داری کا چیلنج بھی پہاڑ بن کر کھڑا ہو گیا۔

18 فروری 2021 کو مُحمّد علی سدپارہ کی موت کے سرکاری اعلان کے بعد مارچ 2021 میں ساجد سدپارہ نے موسم گرما کے کوہ پیمائی کے موجودہ سیزن میں اپنے باپ اور اُسکے ساتھیوں کی لاشوں کی تلاش اور اُنکی موت کے اسباب جاننے کےلیے ایک بار پھر کے۔ٹو پر جانے کا اعلان کر دیا۔

اور آخر کار اس کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے ساجد سدپارہ اور کینیڈین فوٹوگرافر ایلیا سیکلی اپنی ٹیم کے ہمراہ 24 جون 2021 کو کے۔ٹو کےلیے روانہ ہوئے۔ ٹھیک ایک ماہ بعد یعنی 25 جولائی کو اطلاع ملی کہ علی سدپارہ اور اُسکے دونوں ساتھیوں کی لاشیں کے۔ٹو کے کیمپ 4 سے اُوپر واقع ڈیتھ زون کے باٹلنَیک سیکشن کے آس پاس نظر آ گئی ہیں جنہیں وہاں سے لانے کےلیے کے۔ٹو کی تاریخ کے پہلے اور اپنی نوعیت کے سب سے مُشکل ترین آپریشن کی ضرورت ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:

26 جولائی کو جب مُہم جُوئی پر آئے ہوئے پاکستانیوں سمیت مُختلف قومیتوں کے 40 کے قریب کوہ پیما کے۔ٹو کے کیمپ 4 پر پہنچے تو قرین قیاس تھا کہ اُنکی مدد ساجد سدپارہ کی ٹیم کو مُیسّر آ جائے گی اور یُوں اس قومی ہیرو اور اُسکے دو ساتھیوں کی لاشوں کو کے۔ٹو کے ڈیتھ زون سے بحفاظت نیچے اُتار لیا جائے گا۔

لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا اور "ہَوَس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا” کے مصداق اُن سب "ہیروز” کوہ پیماؤں نے اپنی ذاتی ستائش کو ترجیح دی اور 27 جولائی کو 6 پاکستانی کوہ پیماؤں سمیت کُل 19 کوہ پیماؤں نے کے۔ٹو سر کر لیا اور مزید 21 کوہ پیما اگلے دن کے۔ٹو کی چوٹی پر پہنچنے کےلیے کیمپ 4 پر تیّار بیٹھے تھے۔

اُدھر ہی ساجد سدپارہ اور ایلیا سیکلی اپنے تین پورٹرز کیساتھ اس چیلنج سے نبردآزما تھے کہ تینوں لاشوں کو کیسے بحفاظت نیچے اُتارا جائے۔ تاہم افرادی قوت کی کمی کےباعث ساجد سدپارہ نے ایک اور جراتمندانہ فیصلہ کیا۔ اپنے اور اپنے باپ کے ادھورے خواب کے تکمیل کےلیے اُس نے بھی اپنے ساتھی ایلیا سیکلی اور پی۔کے۔شرپا کے ہمراہ دیگر 21 کوہ پیماؤں کے ساتھ 28 فروری کی صُبح ایک بار پھر کے۔ٹو کو سر کر لیا

اور یُوں وہ دُنیا کا کم عُمر ترین کوہ پیما بن گیا جس نے عظیم کے۔ٹو پہاڑ کو 2 بار سر کیا ہے۔ اس کارنامے کے بعد بھی اُسکا مشن مُکمّل نہیں ہوا اور اُس نے واپسی پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ آئس لینڈ کے کوہ پیما جان سنوری اور چلی کے یوہان پابلو کی لاشوں کو کلائمبنگ رُوٹ کے درمیان سے ہٹا کر سائیڈ پر محفوظ جگہ پر اور پھر اپنے باپ کی لاش کو کیمپ 4 تک لاکر اعزاز کے ساتھ دفن کر کے اپنی والدہ کی ہدایت کے مطابق آخری رسومات ادا کرکے فاتحہ پڑھی اور آج پہاڑ سے نیچے اُتر آیاہے۔ اگلا لائحہ عمل ایک دو دن میں سامنے آ جائے گا۔

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم ترے شہر سے جاتے ہوئے مرجاتے ہیں

یہ مُحبّت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

عظیم علی سدپارہ کے پرستار ہونے کے ناطے مَیں اُسکے اِس فرمانبردار بیٹے کو مُحبّت بھرا سلام پیش کرتا ہوں۔ اور دُعا کرتا ہوں کہ ساجد سدپارہ زندگی کے ہر چیلنج کے سامنے اپنے باپ کی طرح سینہ سپر ہو کر سُرخرو ہو۔ (آمین)

 

عمران حیدر تھہیم گذشتہ دس سال سے کوہ پیمائی اور مہم جوئی کے شعبہ سے وابستہ ہیں ،اور اس حوالے سے اپنی ایک منفرد اور مستند رائے رکھتے ہیں

Translate »