مسرت اللہ جان


خیبر پختونخواہ حکومت نے صوبے کے نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کرنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق تحصیل سطح پرگرائونڈز کی تعمیر کیساتھ ساتھ کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ شروع کیا ہے ، وزیراعلی خیبر پختونخواہ جو خود وزیر کھیل ہیں اس شعبے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں.

صوبائی وزارت کھیل نے کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک ہزار سہولیات منصوبہ شروع کیا ہے جو صوبے کے تمام اضلاع میں یکساں طور پرکام کررہا ہے اس منصوبے کے تحت مختلف علاقوں میں اوپن ائیر جیم بنائے گئے ہیں جبکہ کھیلوں کی شائقین کے پیش نظر گرائونڈز کی تعمیر بھی جاری ہیں ، چترال میں پولو ؛ فٹ بال کیلئے علیحدہ گرائونڈز بنائے جارہے ہیں اسی طرح جنوبی اضلاع میں اسی پراجیکٹ کے تحت والی بال اور باسکٹ بال سمیت دیگر کھیلوں کیلئے جمنازیم بھی قائم کئے جارہے ہیں جسے نہ صرف مقامی افراد استعمال کریں گے بلکہ سکولوں کے طلباء و طالبات بھی اس سے مستفید ہونگے

کھیلوں کے ایک ہزار سہولیات منصوبے میں نہ صرف کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کیلئے نئے گرائونڈز ، جمنازیم کی تعمیر جاری ہے بلکہ صوبے کے مختلف کالجز میں واقع کھیلوں کی سہولیات کی بہتری کیلئے اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی جاری ہے جس میں طالبات کیلئے ان کے سکولوں میں جمنازیم جیسی سہولیات کی اپ گریڈیشن کی جارہی ہیں

جنوبی اضلاع جیسے علاقے جو اس سے قبل کھیلوں کی عدم دستیابی کا شکار تھے اب بہتر ہونا شروع ہوگئے ہیں اور مختلف کالجز میں بھی کھیلوں کی ایک ہزار سہولیات منصوبے کے تحت سکیمیں مکمل کی جارہی ہیں.کھیلوں کے ایک ہزار منصوبے میں 217 سکیموں پر کام جاری ہے جن پر اب تک 115 سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں جس کی منظور شدہ سکیموں کی ٹوٹل مالیت 1285 ملین روپے ہیں.


یہ بھی پڑھیں


اسی منصوبے کے ذریعے متعدد نئے کھیل بھی متعارف کروائے گئے نئے متعارف ہونیوالے کھیلوں میں فٹ سال کیلئے گرائونڈز کے قیام سمیت پشاور سپورٹس کمپلیکس میں کلائمبنگ وال بنائے گئے ہیں جو صوبے کے دیگر اضلاع میں بنائے جارہے ہیں

صوبے کے پہلے سائیکل ویلیوڈرم کے قیام کی منظوری بھی صوبائی حکومت کا بڑا اقدام ہے جس کیلئے جگہ مختص کی گئی ہیں اور اس پر کام بھی صوبائی حکومت جلد ہی شروع کریگی اور یہ لاہور کے بعد خیبر پختونخواہ کا پہلا واحد سائیکل ویلیو ڈرم ہوگا

وزیراعلی خیبر پختونخواہ جو خود بھی ہاکی کے کھیل سے وابستہ رہے ہیں انہوں نے صوبے میں ہاکی کے کھیل کے احیاء کیلئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہاکی لیگ کا آغاز کیا ، جو اس وقت بھی جاری ہے ، جس میں آٹھ مختلف ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں

صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ان ریجنل ٹیموں میں قومی ہاکی ٹیم کے بتیس کھلاڑی بھی حصہ لے رہے ہیں جس سے نئے کھلاڑیوں کی تربیت بھی ہورہی ہیں جبکہ صوبے میں نئے بننے والے آسٹرو ٹرف جنہیں صوبائی حکومت نے بنایا ہے میں ان کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع بھی مل رہا ہے

اسلامیہ کالج پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان،چارسدہ ، بنوں ،کوہاٹ سمیت مختلف اضلاع میںبارہ آسٹرو ٹرف مکمل ہوچکے ہیں جبکہ تین مزید آسٹرو ٹرف کی منظوری بھی صوبائی حکومت نے دی ہے جس سے آسٹرو ٹرف کی تعداد پندرہ ہو جائیگی اور یوں کھلاڑیوں کو آسٹرو ٹرف پر کھیلنے کے مواقع میسر آئیں گے.

جبکہ ان آسٹرو ٹرف کی صفائی کیلئے بھی پچاسی لاکھ روپے کی مالیت کی پہلی مرتبہ مشین بیرون ملک سے منگوائی گئی ہیں جو نہ صرف پشاور بلکہ دیگر اضلاع میں بھی مہیا ہوگی اور یوں آسٹرو ٹرف کی صفائی کا مسئلہ بھی حل ہو جائیگا.

ضم اضلاع کیلئے صوبائی حکومت کی ترجیحات

ضم ہونیوالے قبائلی اضلاع کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے کھیلوں کے گرائونڈزسمیت سہولیات کی فراہمی بھی خیبر پختونخواہ حکومت کوشاں ہے ، ان علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کیلئے ایک اہم قدم حال ہی میں اٹھایا گیا ہے اور اس کیلئے چارارب روپے کی لاگت سے میدان بنانے کی منظوری دی گئی ہیں ،

ان منصوبوں کے تحت ضلع کرم ، اورکزئی ، مہمند ، خیبر ، باجوڑ سمیت تمام ضم اضلاع میں کھیلوں کیلئے سٹیڈیم بنائے جارہے ہیں جن میں بیشتر اگلے دو سال تک مکمل ہو جائینگے.

کالام میں کرکٹ سٹیڈیم کے قیام کا منصوبہ بھی صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ کا بڑا منصوبہ ہے جس پر اگلے سال تک کام شروع ہونیکا امکا ن ہے120 کنال رقبے پر مشتمل منصوبہ 358 ملین روپے کا ہے اس سٹیڈیم کی تعمیر سے پانچ ہزار فٹ سے بلندی پر بننے والے کرکٹ گرائونڈز پر پی سی بی کو بھی ایک بین الاقوامی گرائونڈ مل جائیگا

جہاں پر پاکستانی کرکٹر کالام کے موسم میں تربیتی سیشن کرسکیں گے.کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر کیساتھ ساتھ یہاں پر ہاسٹل بھی تعمیر کیا جائیگا جسے صوبائی حکومت سیاحتی مقاصد کیلئے بھی استعمال کرسکے گی اس منصوبے کی خاص بات یہاں پر کنکریٹ کی جگہ مصنوعی لکڑی استعمال کی جائیگی تاکہ کالام کے قدرتی حسن کو بحال رکھا جاسکے.

صوبائی سپورٹس ڈائریکٹریٹ نے صوبائی دارالحکومت پشاور کے ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم سمیت حیات آباد سپورٹس کمپلیکس میں واقع کرکٹ گرائونڈ کی اپ گریڈیشن پر کام شروع کیا ہے جو اگلے سال کی پہلی سہ ماہی تک مکمل ہو جائینگے

ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف بین الاقوامی کرکٹ کی سرگرمیاں صوبے میں شروع ہو جائینگی بلکہ پی ایس ایل کے میچز بھی پشاور میں کئے جائینگے حیات آباد میں بننے والے سپورٹس کمپلیکس کی مالیت 994 ملین روپے ہے جو اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائیگا جبکہ ارباب نیاز کرکٹ سٹیڈیم پر ایک ارب نوے کروڑ روپے کی لاگت آئیگی اور یہ . فروری 2022 تک مکمل ہو جائیگا..

Translate »