Spread the love

       مسرت اللہ جان


بچپن سے ایک کہانی سنتے آرہے ہیں کہ ایک بچہ اپنے گھر میں ہر وقت مار کھاتا رہتا تھا ‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہر وقت سچ بولتا رہتا نتیجے میں اس کے گھر والے اس کی ٹھکائی کرتے رہتے-

ایک دن اس کی ایک رشتہ دار خاتون جوبیوہ تھی اس کے گھرآئی جب اس نے بچے کی مار دکھائی تو اسے کہہ دیا کہ میر ے ساتھ چلو میرے گھر میں رہو ‘ کم از کم میرے گھر میں مار تو نہیں کھائو گے. بچہ بھی ہر روز کی مار سے تنگ تھا اپنے رشتہ دار خاتون کے ساتھ نکلا لیکن ساتھ ہی میں اس سے کہہ دیا کہ ایسا نہ ہو کہ میں سچ کہوں اور آپ مجھے ماریں اور گھر سے نکال دیں.

جواب میں اس بچے کی خاتون رشتہ دارنے اسے کہہ دیا کہ ڈرنے کی ضرورت نہیں میرے گھر میں رہو اور سچ بولتے رہو. کوئی تمھیں کچھ نہیں کہے گا. بچہ بھی رشتہ دار خاتون کے ہاں آگیا ‘ دو دن گزرنے کے بعد اس خاتون نے بچے سے پوچھ لیا کہ اب تو کوئی ڈر نہیں ‘ کوئی مار نہیں ‘

تو جواب میں اس بچے نے جواب دیا کہ میں یہاں پر سچ نہیں بول سکتا ورنہ مار میں نے یہاں بھی کھانی ہے. اس بچے کے اس جواب میں خاتون نے اسے کہہ دیا کہ نہیں بیٹا ڈرنے کی ضرورت نہیں ‘ ہمیشہ سچ بولاکرو ‘


یہ بھی پڑھیں 

  1. چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولے دے”
  2. بےخانماں‌ریڈیوآرٹسٹ اورخوگرحمد کا گلہ
  3. خیبر پختونخواہ کے "ڈمان” اور ہندوستانی فنکاروں کے گھر
  4. پیارے دا جی گل کے نام……از مسرت اللہ جان

خاتون کے دلاسہ دینے پر اس بچے نے ہمت کی اور پوچھ لیا کہ آپ تو بیوہ عورت ہے ‘ یہ سرخی پاوڈر کیوں لگاتی ہیں اور کس کیلئے لگاتی ہیں. بس یہی پوچھنا تھا کہ اسی خاتون نے چپل اٹھا کر بچے کی ٹھکائی شروع کردی اور بچے نے آہ و زاری شروع کی کہ میں کہتا تھا کہ سچ بولنے پر مجبور مت کریں لیکن یہی سچ تھا جو آپ سے برداشت نہیں ہوا اور ابھی آپ مجھے مار رہی ہیں.

سچ بولنا انتہائی مشکل ہے ہم اتنا سچ بولتے ہیں جتنے میں ہمارا فائدہ ہو ‘ ورنہ سچ اتنا کڑوا ہوتا ہے کہ بولنے والے کا حلق تک اس کی کڑواہٹ محسوس کرتا ہے. سچ ہر کسی سے برداشت نہیں ہوتا اور ماشاء اللہ آج کا دور ایسا ہے کہ ہر کوئی کہتا ہے کہ زہر دیا کرو مگر اسے جھوٹ میں لپیٹ کر ‘ تبھی یہ لوگ برداشت کرینگے .

سینتالیس سال کی عمر میں کم و بیش 27 شعبہ صحافت میں گزارنے کے بعد آج یہی محسوس ہورہا ہے کہ ہم اس شعبے میں مس فٹ ہیں ‘ جب ہم نئے نئے روزنامہ آ ج پشاور میں شوبز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ڈیسک سنبھالتے تھے اس وقت کوئی بڑا پروگرام ہوتا تو ہمیں کہا جاتا کہ ابھی تم جونئیر صحافی ہو ‘  سینئر ہو جائو گے تو تمھیں بھی وی آئی پی پروگراموں میں بلایا جائیگا.

الحمد اللہ .اس وقت سے لیکر آج تک کبھی کسی کی شخصیت ‘ پیسے ‘ گاڑی نے متاثر نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ کبھی ان چیزوں کی پروا نہیں کی لیکن ایک خواہش تھی کہ ہمیں بھی وی آئی پی لوگ پروگراموں میں بلا لیں. اس وقت ہم کچھ لوگوں کی اس بات پر متفق ہوگئے کہ سینئر ہو جائینگے تو ہمیں بھی بڑے بڑے وی آئی پی پروگراموں میں بلایا جائیگا.

سیاستدان ‘ ہو ‘ افسران ہو ہم بھی ان کے گڈبک میں شامل ہونگے . ہمیں بھی تحائف ملیں گے. لیکن برا ہو اس سچ کا ‘جو آج ہمیں بھی سینئر ہونے کے باوجود بھی وی آئی پی پروگراموں میں جانے سے روکتا ہے.

غالبا 2010 کی بات ہے نواز شریف جھگڑا میں سابق گورنر کے گھر پر مہمان تھے اور انہوں نے صبح سویرے آنا تھا ‘ ہمیں صبح سویرے ٹی وی چینل سے یہ احکامات ملے کہ چونکہ تمھیں دفتر آنے کی جلدی ہوتی ہے اس لئے وہاں پہنچو ‘

صبح آٹھ بجے کا وقت دیا گیا تھا ‘ صبح آٹھ بجے کے بجائے نواز شریف کم و بیش ساڑھے بارہ بجے پہنچے تبھی سابق گورنر جو اس وقت ان کے کارکن اور سینیٹر تھے کے گھر میں ہم صحافیوں کی قدر و عزت پیداہوئی ‘

ورنہ صبح آٹھ بجے سے ساڑھے بارہ بجے تک نہ کسی نے پوچھا کہ "تم انسان ہو کہ گدھے” پانی تک کا کسی نے نہیں پوچھا ‘ . خیر نواز شریف کی آمد کے بعد صحافیوں سے بات چیت کا سلسلہ شروع ہوا جب سب بیٹھ گئے تو میں نے اپنے صحافی دوستوں کو کہا تھا کہ پہلا سوال میں کرونگا.

انہوں نے اثبات میں جواب دیا . نواز شریف نے بیٹھتے ہی کہا کہ آپ کا شکریہ کہ آپ نے ہمیں وقت دیا ‘ جواب میں سب سے پہلے میں نے جواب دیا کہ آپ کا شکریہ کہ آپ آٹھ بجے کے بجائے ساڑھے بارہ بجے پہنچے اور ہمیں انسان سمجھا گیا ورنہ تو بیٹھنے کیلئے کرسی تک نہیں تھی ‘

میرے صحافی دوست بھی حیران و پریشان ہوگئے ‘ لیکن اس سے زیادہ پریشانی نواز شریف کے چہرے پر دیکھنے میں آئی انہوں نے سابق گورنر کو جو ان کے دائیں ہاتھ پر بیٹھے تھے دیکھا ‘ تو جواب میں ان صاحب نے یہ کہہ دیا کہ کوئی مسئلہ نہیں آپ کیلئے الگ پروگرام ہے.

خیر نواز شریف نے معذرت بھی کرلی ‘ لیکن ان صاحب کے الگ پروگرام پر میں نے جواب دیا کہ صاحب ہم الگ پروگرام والے لوگ نہیں ‘ اگر صحافیوں کو بلایا کریں تو کم از کم ان کے بیٹھنے کا بندوبست کرلیا کریں ہم آپ کے کارکن نہیں.

اس کے بعد بات چیت ہوئی لیکن بات چیت کے خاتمے کے بعد ایک صاحب جو بعد میں بڑے ” صاحب ” بن گئے ‘ ہمیں میزبان کی طرف لے گئے اور کہہ دیا کہ ” بھائی یہ کوئی طریق ہے تم نے ہمیں اپنے گھر میں بے عزت کردیا”

خیر ان کی اس روئیے کے باعث ہم اپنے ٹیم کے ہمراہ واپس نکل آئے . بعد میں پتہ چلا کہ نواز شریف نے ٹی وی چینل کے مالک کو میری شکایت لگائی تھی لیکن اللہ بھلا کرے اس وقت ہمارے بیورو چیف نے معاملہ سنبھال لیا .

دفتر پہنچ کر احساس ہوا کس طرح کا سچ بولنا ہے

غالبا سال 2012 کی بات ہے عمران خان پشاور میں رنگ روڈ پر بڑے جلسے کرتے تھے ‘ ہمیں بھی حکم ملا کہ جاکر لائیو بیپر کرنا ہے ‘ ہم بھی وہاں جا کر سیٹنگ کرنے لگے ‘ ٹی وی پر لائیو بیپر سے قبل ایک صاحب نے فون پر پوچھا کہ کتنے افراد کے بیٹھنے کی جگہ ہے ‘

ہم نے سچ بول دیا کہ جگہ تو تین ہزار کی ہے اور تقریبا دو ہزار کرسیاں لگا دی گئی ہیں اور کم و بیش چار پانچ ہزار افراد یہاں پر آسکیں گے. یہ سننا تھا کہ فون بند ہوا اوراگلا فون آفس سے آیا کہ ایک دوسرے ساتھی رپورٹر کو بھجوایا جارہا ہے آپ فوری طور پر واپس دفتر رپورٹ کریں.

خیر واپس آکر دفتر میں بیٹھ کر جب دوسرے ساتھی کی رپورٹنگ دیکھی تو ہمار ے ساتھی رپورٹر نے وہی لائیو بیپر دے دیا اور کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ آئے ہیں.تبھی ہمیں اندازہ ہوا کہ ہمیں آج تک بولنے کا طریقہ نہیں آیا.یا پھر ہم سچ کو بغیر لگی پٹی بولتے ہیں جو برداشت کسی سے نہیں ہوتا .

اتنی لمبی تمہید ایک نوجوان صحافی کے اس سوال پر لکھ دی کیونکہ اس نے گذشتہ روز پوچھ لیا کہ بھائی آپ اتنے سینئر ہو آپ سرکار کے گڈ بک میں ابھی تک شامل نہیں ہوں ‘ نہ ہی سوات سے آڑو کی پیٹیاں آپ کیلئے آتی ہیں ‘

نہ ہی کسی وزیر کیساتھ آپ کی یار ی دوستی ہے ‘ نہ ہی کسی ممبر اسمبلی کی طرف سے کسی پروگرام میں نظر آتے ہیں ‘جواب میں اسے کہہ دیا کہ ” دا چا دا پخپلہ نو بیا ژاڑے سہ لہ.. یعنی جو کچھ ہے ہم اپنے آپ ہی اس کے ذمہ دار ہیں

اور وہ خاموش رہ کر نہ سمجھتے ہوئے بھی سر ہلاتا رہ گیا.میں نے صحافی دوست کو مزید بتانے کیلئے کہہ دیا کہ بھائی ہم وہ صحافی ہیں جنہیں گھر میں دوسری چائے کی کپ کا بھی کوئی نہیں پوچھتا ‘ باہر وی آئی پی پروگراموں کی بات تو بڑی بات ہے.

یہ نہیں کہ ہم اپنے آپ کو سچ کا علمبردار سمجھتے ہیں ہم بھی اتنا ہی سچ بولتے ہیں جتنے میں ہمارا کام چل جائے لیکن مصیبت یہی ہے کہ اس عمر میں آکر بھی ” چاپلوسی اور خوشامد”والے جراثیم ابھی تک ہم میں پیدا نہیں ہوسکے.

اور امکان ہے کہ کرونا کے ویکسی نیشن جو اب سرکار نے لازمی قراردی ہے یہ ویکسین لگانے کے بعد بھی ہم میں یہ ” چ اور خ ” پیدا نہیں ہوسکیں گے

Translate »