حبیب احمد


برسین کیمپ کے قریب ہونے والے دھماکے کے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے (تصویر سوشل میڈیا)

ضلع کوہستان کے علاقے داسو میں ہائیڈرو پروجیکٹ پر کام پر جانے والی بس میں دھماکہ کے نتیجے میں 13 افراد جاں بحق جبکہ 40 زخمی ہوگئے ہیں

حکام کے مطابق  تحقیقات جاری ہیں ،جس کے بعد دھماکہ یا حادثہ کی نوعیت کا تعین ممکن ہوسکے گا

یہ بھی پڑھیں 


  1. ضلع کرم میں‌ دہشتگردوں‌ کے ساتھ مقابلے میں‌ افسر سمیت دو جوان شہید
  2. وادی نیلم میں‌ سیلابی ریلے میں‌ میاں‌بیوی جاں‌بحق ،درجنوں‌مکانات بہہ گئے
  3. جسد یورپ کا رستا ہوا زخم ،سربنیکا قتل عام کے 26 سال
  4. بنگلہ دیش،فوڈ فیکٹری میں‌ آتشزدگی کے نتیجے میں‌ ہلاکتیں‌60 سے بڑھ گئیں‌

اسسسٹنٹ کمشنر داسو محمد عاصم عباسی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہہ ’اس واقعے میں 13 افراد جاں بحق  ہوئے ہیں جن میں 9 چینی شہریوں کے علاوہ دو ایف سی اہلکار اور دو مقامی باشندے شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 40 ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’یہ سب افراد ایک بس میں سوار ہو کر داسو ڈیم کی سائٹ پر کام کرنے جا رہے تھے کہ یہ حادثہ پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’علاقے میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اس کے لیے ہیلی کاپٹر بھی منگوائے جا رہے ہیں۔‘
خبر رساں ادارے کے مطابق اعلیٰ حکام نے دھماکے کے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’اپر کوہستان میں چینی انجینیئرز کو لے جانے والی بس کو دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔‘
داسو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کے دفتر کے ایک اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ ‘صبح سات بجے کے قریب داسو ڈیم ورکرز کی منی بس میں دھماکے کی اطلاع موصول ہوئی یے جس کے بعد ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو گئی ہیں۔’
انہوں نے مزید بتایا کہ’ورکرز کی بس میں سلنڈر دھماکے کی اطلاعات موصول ہوئی۔ حادثے کے مقام پر موبائل سگنلز نہ ہونے کی وجہ سے اطلاعات موصول ہونے میں دشواری کا سامنا ہے تاہم چند گھنٹوں میں واقعے کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کر دیا جائے گا۔‘
اسسٹنٹ کمشنر داسو محمد عاصم عباسی نے کہا کہ’ ہمارے پاس ابھی تک تخریب کاری کے حوالے سے کوئی شواہد نہیں ہیں تاہم اس پر تحقیقات جاری ہیں۔‘
’شواہد کی جانچ کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور یہ امکان بھی ہے کہ حادثہ گاڑی میں کسی تکنیکی خرابی کے باعث پیش آیا ہو۔‘
ترجمان واپڈا نے بھی اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’گاڑیوں میں چینی تعمیراتی کمپنی کے کارکن موجود تھے اور اس وقت جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ زخمیوں کو جائے حادثہ سے ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔‘
ترجمان واپڈا کے مطابق چیئرمین واپڈا امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے داسو روانہ ہو گئے ہیں۔

 

ابتدائی خبر

Translate »