Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:9 Minute, 36 Second

            راحت ملک


25جولائی 2021کے روز آزاد جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونگے 45نشستوں کے انتخابی نتائج حتمی طور پر 27جولائی تک آئیں گے البتہ غیر سرکاری نتائج سے 25 جولائی کی رات تک آگاہی ہوجائے گی۔آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج بہت اہم ہیں ۔

پاکستان اور آزاد کشمیر کی داخلی صورتحال اور حکومت کی خارجہ پالیسی کے خدوخال نمایاں کرنے میں اسکےاثرات بہت گہرے ہونگے ۔یہ نقطہ نظر بظاہر انتخابی نتائج کے داخلی دائرے تک محدود ہے جبکہ انتخابی عمل کی شفافیت اورعدم شفافیت کے اثرات قطعی مختلف سطح کے حامل ہونگے۔

عدم شفافیت کے امکان کو رد کرنا آسان نہیں، میں اس پہلو کو مقبوضہ کشمیر میں 370کی آئینی دفعہ کے خاتمے کے بعد ،پاکستان کی مرکزی مقتدرہ کے سردمہر غیر موثررد عمل کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں،جبکہ ملکی داخلی سیاست پر اس سے پاکستان کے سیاسی تناظر کی صورتگری پہلے سے زیادہ واضح ہوجائےگی۔

ملکی سیاسی صورتحال کا گھمبیر پہلو یہ ہے کہ یہاں سیاسی میدان صرف سیاسی کھلاڑیوں کی مخاصمت تک محدود نہیں بلکہ اس میں غیر سیاسی عناصر اور حقیقی عوامی سیاسی قوتوں کے درمیان رسہ ،کشی تناﺅ ،تصادم زیادہ تشویشناک سطح تک پہنچ چکا ہے جس سے سیاسی ثقافت مکدر ہوگئی ہے ۔

خالصتاً سیاسی حریفوں کے درمیان سیاسی کشمکش موجود ہوتو اعداد وشمار رائے عامہ کے جائزوں ،سیاسی جماعتوں کے،قائدین و امیدواروں کے کردار نیز حکومتی جماعت کی کارکردگی مد نظر رکھ کر اندازہ لگانا آسان ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج کیا ہونگے؟


یہ بھی پڑھیں

  1. ڈیورنڈ معاہدہ اورافغانستان کے زیر قبضہ پاکستان کے علاقے جن پر کوئی بات نہیں‌کرتا
  2. اکیسویں صدی کے اسباق یا اہداف؟
  3. کشمیر کی تقسیم ناقابل قبول ،غلام نہیں‌ برابرحقوق چاہتے ہیں‌،راجہ فاروق حیدر
  4. آزادکشمیرانتخابات میں‌حصہ لینے والی اہم جماعتوں کے بارے میں‌ جانیے

اس کے برعکس جب سیاسی میدان میں فیصلہ کن کردار طاقتور ریاستی محکمے اپنا لیں تو آخری لمحے تک یقین سے کچھ کہنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ،الحمد اللہ اب ملک بھر میں عوامی ،سیاسی و تجزیاتی شعور و آگہی ” تیسری موثر” مگر "نادیدہ قوت ” کے متعلق بہت واضح اور نمایاں ہوچکی ہے کیونکہ بیسیوں واقعات نے پس پردہ کرداروں کو اب سرعام  عیاں کردیا ہے ۔

چنانچہ اب ملکی سیاسی منظر نامہ سیاسی جماعتوں کے سیاسی داﺅ پیچ کی دسترس سے بہت باہر نکل کر اس مقام پر آن پہنچا ہے ۔جہاں ریاستی طاقت مرکزی کردار ادا کرتی ہے ۔مذکورہ صورتحال میں سیاسی ثقافت غیر آئینی آلودگی کی وجہ سے ہموار اور سادہ عمل نہیں رہی بلکہ ماحولیاتی آلودگی یعنی سیاسی کٹافت میں بڑھتا ہوا اضافہ تناﺅ کا سبب بن چکا ہے ۔

یہ سوال بہت سنجیدہ ہوگیا ہے کہ آیا 25جولائی 2021 ا 25جولائی2018 کا تسلسل تو نہیں ہوگا؟

انتخابی سیاسی جلسوں میں تمام جماعتوں نے سیاسی اخلاقیات کی حدود پائمال کی ہیں غیر مہذب پن ناشائستہ اظہار بیان اور سیاسی مقاصد منشور کی تصریح کے برعکس مخالفین کی شخصی کردار کشی کی مہم میں مرکزی حکومت کے وزراءنے بڑے اہتمام کےساتھ حسب سابق حصہ لیا

خاص طور پر وفاقی وزیر جناب علی امین گنڈا پور نے اخلاقیات کے ساتھ قوانین کو بھی اپنے جوتے کی نوک پر رکھا،عام طور پر حکمران جماعت انتخابات میں قانون و سیاسی اخلاق کی زیادہ پاسداری کرتی ہے تاکہ اگر اسے نتائج بدلنے کی ضرورت پڑ جائے تو عام افراد اس واردات کے الزام کو بہ آسانی رد کرسکیں

جناب علی امین کو آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے انتخابی مہم میں شرکت سے روکا تو وزیراعظم پاکستان خود انہیں اپنے ہمراہ انتخابی جلسے میں لے گئے یہ اقدام انتخابی مہم موثر بنانے سے زیادہ آزاد کشمیر کے الیکشن کمیشن کو متنازعہ بنانا اور اسے بےوقعت و بے اختیار ثابت کرنے کی کامیاب سعی تھی

بعد ازاں جناب علی امین نے اس حکم کی پھر خلاف وزری کی تو الیکشن کمیشن کے مقامی حکام نے حکمران پی ٹی آئی کے چار انتخابی امیدواروں کو انتخابی عمل سے خارج کرنے کے لئے اقدامات کا مطالبہ یا سفارش کردی ہے

اگر اس سفارش پر من وعن عمل ہوا تو پی ٹی آئی کےلئے بہت بڑا انتخابی دھچکہ ہوگا اور شاید یہ پیغام بھی کہ فارن فنڈنگ کیس کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں چھ سال تک زیر التواءرکھنے کے اسباب و حالات بھی بدل سکتے ہیں،

لیکن کیا فی الواقع آزاد کشمیر الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کے مذکورہ افراد کو الیکشن سے باہر کرنے کا فیصلہ کر پایے گا؟ مجھے ایسا ہوتا ممکن دکھائی نہیں دے رہا ۔ الا کہ طاقت کے مرکز کے ارادے میں تبدیلی نہ آجایے

جون میں رونما ہونے کچھ واقعات اس کا اشارہ بلیغ تو ہیں

وزیراعظم جناب عمران خان جب امریکہ تشریف لے گئے تھے تو وہاں انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حل پر سابق صدر ٹرمپ کی ثالثی تسلیم کر لی تھی کہا گیا تھا کہ ایسا سہ فریقی سطح پر ہوا ہے، واشنگٹن نئی دہلی اور اسلام آباد مسئلہ کشمیر کے پرامن سفارتی حل پررضا مندہوگئے ہیں۔

جناب عمران خان نے تو نریندر مودی کی اتنخابی کامیابی کی امید و دعا کرتے ہوئے اسے مسئلہ کشمیر کے حل کی کلید قرار دیا تھا۔ امریکی دورے سے واپسی پر جناب عمران خان نے اپنے دورے کی کامیابی کا بھرپور دعویٰ کرتے ہوئے اسے ورلڈکپ جیتنے کے ثانی عمل کے مماثل کہا تھا۔

یادرہے کہ جناب وزیر اعظم نے واشنگٹن کے دورے میں کسی بھی سطح پر امریکی حکام یا صدر سے باضابطہ دوطرفہ مذاکرات نہیں کئے تھے صدر ٹرمپ سے البتہ ایک مختصر سی ملاقات ہوئی جسکا فوٹو سیشن بھی ہوا تھا۔

عمران خان صاحب نے کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کے جلدحل کی نوید سنا دی تھی ۔ ان کے دورے سے چند روز قبل پاکستان آرمی کے چیف اف آرمی سٹاف واشنگٹن پہنچے تھے انہوں نے پیٹاگون کا خصوصی دورہ کیا اور امریکی عسکری قیادت سے تفصیلی بات چیت کی تھی

جناب جنرل قمر باجوہ کا دورے کے موقع پر جس شاندار اور اعلیٰ سطح پر استقبال کیا گیا تھا وہ امریکی سفارتی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ تھا ۔ اس دورے کے چند ماہ بعد ہی بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے بھارتی آئین کی دفعہ 370کو اپنی پارلیمانی عددی اکثریت کے بل بوتے پر منسوخ کردیا

اور یوں مقبوضہ کشمیر جو اب تک آئینی طور پر بھارتی یونین کا باضابطہ جغرافیائی حصہ نہیں تھا۔ اسے بھارت میں ضم کرلیا یہ نیشنل کانفرنس اور بھارت کے درمیان نام نہاد معاھدہ الحاق کی اہم شق بلکہ شرط کے سراسر منافی تھا جو یک طرفہ طور پر ختم ہوگئی

بلاشبہ بھارتی آئین کی دفعہ 1 کی صراحت فہرست بند اول کی ذیلی دفعہ 15 تاحال ترمیم نہیں کی گئی جن میں بھارتی یونین کے مشمولات کی تصریح کی گئی ہے یا جنہیں یونین کی جغرافیائی حدود سے استثنیٰ حاصل ہے.

مودی سرکار کی آئینی ترمیم نے کشمیر کے سوال کی نوعیت بدل دی ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ ثالث یعنی اس وقت کے امریکی صدرسمیت طاقت کے کسی بھی اہم عالمی مرکز سے بھارتی اقدام کی مخالفت نہیں کی گئی

حد تو یہ ہے کہ اس نازک مرحلے پر اسلام آباد نے بھی رسمی مخالفت سے آگے بڑھ کر کوئی ایسا اقدام نہیں کیا تھا جو نئی دہلی اور اہم عالمی مراکز میں تشویش پیدا کرتا، میرا قیاس ہے کہ بھارتی اقدام امریکی دورے میں طے پانے والا سہ فریقی اتفاق کا نتیجہ تھا اور اس کے عقب میں پاکستان کی جانب سے سی پیک کے منصوبے کے چینی سرحد سے متصل علاقے کو غیر متنازعہ بنانے کی ضرورت کار فرماتھی ،

بعد ازاں مرکزی مقتدرہ نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں اس منطقے کو پاکستانی وفاق میں صوبے کا درجہ دینے کا ارادہ ظاہرکیا تھا عملی طور پر گو کہ جی بی تاحال وفاق پاکستان کی وفاقی/ صوبائی اکائی نہیں بن سکا

تاہم خوشگوار نکتہ یہ ہے کہ 370کے خاتمے کے بعد پاکستان کے نرم خو روپے کے بدلے میں نئی دہلی نے اب متنازعہ علاقے میں سی پیک بنانے پر اپنی سابقہ تنقید بہت کم کردی ہے یہ الگ موضوع ہے کہ موجودہ حکومت نے کس لئے اور کن بنیادوں پر سی پیک کو "پیک ” کر رکھا تھا،

 

اس کے وزراءکھلے عام برسر اقتدار آتے ہی سی پیک کو محدود کرنے کے بیانات دیبے لگے تھے اب صورتحال یہ ہے کہ جی بی میں تو پی ٹی آئی حکمران ہے جو جے پی کی انتظامی حیثیت بدلنے کی مدعی ہے

مگر اس سلسلہ میں ملک گیر سیاسی اتفاق رائے کے علاوہ کم از کم آزاد جموں کشمیر کی حمایت اشد ضروری ہے مسلم لیگ جس کے انتخابی جلسے زیادہ جاندار تھے عوامی مقبولیت میں آگے رہی ہے اور جموں کشمیر کو صوبائی درجہ دینے کی مخالف بھی ہے اسے انتخابات میں دیوار سے لگ کر کیاوہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے جسکا منصوبہ واشنگٹن سے شروع ہو کر نئی دہلی تک پہنچا ہے۔؟

اگر کشمیر میں نون لیگ برسراقتدار آجائے تو مذکورہ منصوبہ التوا کا شکار ہوگا جبکہ اس منصوبے کو آگے بڑھانے کےلئے آزاد کشمیر میں ایسی حکومت و اسمبلی کی ضرورت ہے جو وہاں کی اسمبلی سے صوبائی درجہ دیئے جانے کی قرار داد منظور کرایے

حکومتی دعوے اور جلسوں کی حقیقت

چنانچہ یہ ہدف جبھی پورا ہوسکتا ہے اگر پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں حکومت بنائے جبکہ انتخابی جلسوں کے مناظر میں اس کے امکانات دکھائی نہیں دے رہے کہ پی ٹی آئی اکثریت حاصل کرسکے

مخلوط حکومت بھی شاید مطلوبہ اغراض کی ضمانت نہیں دے سکتی تو کیا حالات کو وقت کے بہاﺅ پر چھوڑ دیا جائےگا یا معاملات سنبھالنے کےلئے انتخابی عمل و واقعات میں مداخلت کر کے ان کا رخ اور بہاﺅ از خود متعین کرنے کی کوشش کی جائے گی ؟

ان امکانات میں مجھے دوسرے عمل کا زیادہ خدشہ نظر آرہا ہے۔ کیا چین بھی سی پیک کے علاقے کو غیر متنازعہ بنانے کےلئے یہی کچھ نہیں چاھےگا ؟ ہوسکتا ہے وہ بھی جی بی و آزاد کشمیر کی اسمبلیوں سے من پسند قرار دادیں منظور کرانے کی خواہش رکھتا ہو؟

داسو ڈیم پر ہونے والی حالیہ دہشت گردی کی واردات پر اس حوالے سے بھی توجہ دینی چاہیے۔ چین کشمیر کو گرم محاذ رکھنے کا بھی متمی ہو گا تاکہ امریکی اتحادی و متحارب معاشی ہمسائے بھارت پر دفاعی اخراجات کا دباﺅ برقرار رہے؟؟

یوں لگتا ہے کہ چین نے سطور بالامیں ابھرتے امکان کی آگہی اور تائید کی بناپر ہی لداخ میں بھارت کے محاذ پر گزشتہ برس درجہ حرارت بڑھانے کے اقدامات کئے ہوں؟آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج شفاف عمل کے ذریعے پی ٹی اائی کے حق میں نہ آئے تو اسکی سیاسی ساکھ متاثر ہوگئی

نتائج بدلنے کے تباہ کن اثرات

اور اگر اسکی ساکھ اور روبہ عمل” منصوبے” کو بچانے کیلئے نتائج بدل نے کی ضرورت پڑی تو بھی کشمیر سمیت پاکستان میں سیاسی جو ردعمل سامنے آئے گا۔ اس کا بوجھ بھی ناقابل برداشت ہوسکتا ہے یہ بنیادی مخمصہ ہے جس سے نبردآزماہونا مشکل تر اور خدشات سے بھر پور عمل ہوسکتا لہذا یادرکھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کی کوشش نے ہی وہاں بھارت کے خلاف مزاحمتی وآزادی کی تحریک کی بنیاد رکھی تھی۔

پاکستان پر اس انتخابات کے اپنے مخصوص اثرات ہونگے آزاد کمشیر میں غیر شفاف انتخابات سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ پاکستان میں فوری طور پر اگر انتخابی ڈول ڈالا گیا تو وہ بھی جانبدارانہ و شفافیت سے عاری ہوگا جوملک کو مزید گہرے اور شدید سیاسی عدم استحکام کی طرف دھکیل دے گا

جبکہ افغانستان میں ابھرتی کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان کو درپیش ممکنہ خطرات سے بخیر وخوبی نبرد آزمائی کیلئے ملک میں وسیع البنیاد سیاسی استحکام اور ایک مضبوط تجربہ کار منتخب شدہ جمہوری حکومت کی اشد ضرورت ہے ایسے میں کیا فیصلہ ساز حلقے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات سے گریز کریں گے؟ اس سوال کا عملی جواب ہمارے مستقبل کے خدوخال کی وضاحت کرنے گا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post اکیسویں صدی کے اسباق یا اہداف؟
Next post پاکستان کی امریکہ کے لیے سہولت کاری
Translate »