صفدرحسین


میرا کوئی بھی نام فرض کرلیں اس سے مجھے کوئی فرق نہیں‌پڑتا لیکن دنیا میں‌میری افغان کی حیثیت سے ایک شناخت ہے

اور میں‌ ان لاکھوں افغانوں‌میں‌شامل ہوں‌جو کئی سالوں سے امن،سکون اور محفوظ مستقبل کیلئے دنیا کے کونے کونے میں‌ٹھوکریں کھا رہے ہیں میں‌جب اپنے اردگرد لوگوں‌کو اپنی زندگی میں‌مگن دیکھتا ہوں تو میرے اندر کم مائیگی کا احساس اور بھی گہرا ہوجاتا ہے

ایک وقت تھا جب میں‌نوجوان اور جذباتی اور سب سے بڑھ کر مایوسی کا شکار تھا ،میرے ملک پر بدامنی اور غیریقینی کے گہرے بادل چھائے تھے .جب مجھے کوئی راہ سجھائی نہ دی تو ہزاروں‌ دیگر نوجوانوں‌کی طرح ایک روز گھروالوں‌کو بتائے بغیر گھر سے نکل پڑا اور طالبان کے ساتھ شامل ہوگیا .

آج اس بات کو 20 سال سے زیادہ وقت گزرچکا ہے ،اس دوران میں‌بہت کچھ بھول چکا ہوں‌یا بھلانے کی کوشش میں‌اپنے آپ سے لڑتا رہا ہوں‌،لیکن ایک ہفتہ قبل جب طالبان ایک بار پھر کابل میں‌داخل ہوئے تو بھولے ہوئے ماضی کی بہت سی تلخ و شیریں یادیں‌ایک بار پھر ایک ایک کرکے سامنے آنے لگیں‌

یہ 2001 کا سال تھا اس وقت مجھے طالبان کی ساتھ شامل ہوئے ایک سال گزرچکاتھا ،جب افغانستان پر امریکی حملوں کاآغاز ہوا تو اس وقت میں کابل کی شمالی پہاڑیوں پر بنے ایک دفاعی مورچے پر تعینات تھا ،پہلے روز صبح کی اذانوں کے ساتھ پہلا دھماکہ سنائی دیا تو اپنے ساتھیوں کی آنکھوں میں چمک نظرآئی

لیکن یہ چمک جلد ہی ماند پڑنے لگی ،کیوں کہ ہمیں احساس ہوچکا تھا کہ ہمارے پاس موجود پرانی بندوقیں دورآسمانوں میں اڑتی مشینوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں


یہ بھی پڑھیں


ہمارے پاس موجود دونوں طیارہ شکن گنیں بھی پرانی اور فرسودہ ہیں ،پہلی بار احساس ہوا کہ کھلے مقابلے میں لڑنے کے جذبے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کاہونا بھی ضروری ہےجو ہمارے پاس نہیں تھی ۔

میں ایک عام طالب رضا کار سپاہی تھا ،جس کا سفر پکتیکا سے شروع ہوا اور کابل میں جا کر ختم ہوگیا ۔میں جو بات کررہا ہوں یا میرا کم وبیش ایک سال کا تجربہ یا مشاہدہ ایک عام سپاہی کی حد تک محدود ہے ،جہاں ہمیں صرف حکم یا نظم کا پابند بنایا گیا تھا

ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ دشمن کس طرح کا ہوگا ،کتنا طاقتور ہوگا ؟

بس جو بات میرے ذہن میں تھی وہ یہی تھی کہ بس دشمن کا مقابلہ کرنا ہے آخری سانس تک ۔۔۔۔۔لیکن یہ حسرت آخر تک دل میں ہی رہی کیوں کہ دشمن ہماری نظروں اوجھل اور پہنچ سے دور رہا

جب امریکی حملوں کا آغاز ہوا تو اس وقت میں کابل شہر میں موجود تھا ۔حملے سے ایک روز قبل ہمارے کمانڈر کی جانب سے مجھے اپنے دیگر ساتھیوں کیساتھ کابل کے شمال میں واقع پہاڑوں پر بنے ایک مورچہ پر پہنچ کر ڈیوٹی سنبھالنے کا حکم ملا

اس دن فضا میں قدرے خاموشی اور بے چینی محسوس ہورہی تھی۔خنک ہوا ہمارے انتظار کے لمحوں کو مزید طویل کررہی تھی ۔اپنے مورچے پر پہلا دن اپنے ساتھیوں کیساتھ خوش گپیوں اور تیاریوں میں گزر گیا ۔اگر چہ میرے زیادہ تر ساتھی نوجوان تھے جو ملک کے مختلف علاقوں سے میری طرح آئے تھے ۔

دنیا ہمارے بارے میں جو کہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مجھ سمیت زیادہ تر دوستوں کے ذہن اور دل میں واضح تصور موجود تھا کہ ہم یہاں کیوں ہیں اور کیا کررہے ہیں ؟

اس دن مجھے پہلی دفعہ انتظار کے کٹھن ہونے کا احساس ہوا کیوں کہ دشمن کے انتظار میں ہمارے لئے ایک ایک گھڑی بھاری ہورہی تھی ۔

اگرچہ اب مجھے تاریخ اچھی طرح یاد نہیں لیکن یہ رات کا آخری پہر تھا ،جب ہمیں دھند میں لپٹے کابل شہر سے پہلے زورداردھماکے کی آوازسنائی دی

اورحملہ شروع ہوگیا

اس کے بعد کابل کی فضاء امریکی طیاروں کی چنگاڑ اور بموں کی زوردار آوازوں سے گونجنے کاسلسلہ شروع ہوگیا ۔

جس کے جواب میں کابل کے اطراف کی پہاڑیوں پر نصب اینٹی ایئرکرافٹ گنوں کے دھانے کھل گئے۔تاریک رات میں کابل کے چاروں اطراف سے آسمان کی جانب گنوں سے نکلنے والی گولیوں کی روشنی دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کسی بارات کے موقع پر آتشبازی ہورہی ہو

اس سے اگلا دن خاموشی سے گزرگیا ،رات ڈھلتے ہی فضا اتحادی طیاروں کی گھن گرج سے لرزنا شروع ہوجاتیمجھ سمیت میرے تمام ساتھیوں کو بھی اندازہ ہورہا تھا کہ سب کچھ یکطرفہ ہے ،برابر کا کوئی مقابلہ نہیں تھا

اور اگلے تین چند روز میں صورتحال واضح ہوگئی اور ہمارے کمانڈر کو اوپر سے پسپائی اختیار کرنے کا حکم مل گیایہ عجلت کے لمحات تھے ،ہمارے پاس جو سامان کا تھیلا تھا اس میں ایک آدھ کپڑوں کا جوڑا اور کھانے کیلئے سوکھی روٹی

سرشام ہم ٹکڑیوں میں بکھر کراور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھتے ہوئے کابل سے نکلنا شروع ہوگئے ۔حملوں کے شروع ہوئے 13 واں روز تھا جب ہم پکتیا پہنچ گئے ،وہاں ہمارا ٹھکانہ ایک بہت بڑی قلعہ نما کوٹھی تھی ،مجھے میرے ساتھیوں نے بتایا کہ یہ شاید گلبدین حکمتیار یا کسی اور وارلارڈ کی رہائش گاہ تھی لیکن خانہ جنگی کے دوران ہونے والی تباہی اس کی درودیوار سے عیا ں تھی ۔

یہ قلعہ نما مکان ایک پہاڑی ٹیلے کی چوٹی پرواقع تھا جس کے سامنے تاحد نگاہ تک پھیلا ہوا وسیع و عریض میدانی علاقہ تھا ۔وہاں سے چند کلومیٹر دور ہی روسی دور میں بنایا جانے والا طالبان کے زیر استعمال ایک بہت بڑا کمپائونڈ تھا ،جس میں بڑی تعداد میں فوجی عمارتیں ،گاڑیاں اور دیگر سازوسامان موجود تھا ۔

ہمارے قیام کے دوران اردگرد علاقوں پر میزائلوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ بلاتعطل جاری تھا ،ایک روزعلی الصبح میں نے روسی کمپائونڈ کے قریب ہلچل اور افراتفری کا ماحول دیکھا ۔اگرچہ ہمیں وہاں اس علاقے کے قریب جانے کی اجازت تو نہ تھی ،لیکن اندازہ ہورہا تھا کہ طالبان وہ کمپائونڈ چھوڑ کر اپنا سامان اور گاڑیاں لیکر وہاں سے روانہ ہورہے تھے ۔

ااس واقعہ کے اگلے روز ہم نماز ظہر کی تیاری میں مصروف تھے کہ آسمان میں جیسے کسی طیارے کے انجن کی آواز سنائی دی ۔اوپر دیکھا تو تیزی سے گزرتے میزائل کی جھلک دکھائی دی اس کے چند لمحوں بعد ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا


یہ بھی پڑھیں

جس کے نتیجے میں ہماری پوری عمارت بھی لرزتی ہوئی محسوس ہوئی ۔ابھی کچھ ساتھی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ ہمیں اپنی رہائش کو چھوڑ کر وہاں سے قریب ہی پہاڑی میں بنے ایک اسلحہ ڈپو میں منتقل ہوجانے کا حکم دیدیا گیا

یہ ڈپوبھی روسی قبضے کے دوران ایک پہاڑ کے اندر بنایا گیا تھا ،جو باہرسے توعام سا دکھائی دے رہا تھا لیکن اندرکافی وسیع اور گنجائش کا حامل تھا ۔دوسرا اس کے داخلی راستے اس طرح پیچ دار انداز میں بنائے گئے تھے کہ اس کے باہر اگر شدید دھماکہ بھی ہو تو اندر اس کے نہایت معمولی اثرات پہنچ پاتے

بے خوفی سے موت کے خوف احساس تک

اگرچہ محاذ پررہنے کے دوران دل سے موت کا خوف ختم ہوچکا تھا ،لیکن تھوڑی دیر گزرنے کے بعد ڈپو میں گھٹن کا احساس ہونے لگا ،جو بتدریج خوف میں ڈھلنے لگا ،شام ہوتے ہی ڈپو کے اندر گہری خاموشی چھا گئی ،باہر فضا میں وقفے وقفے سے جنگی جہازوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں

وہاں ہم 30 سے 40 کے درمیان لوگ موجود تھے ،لیکن کوئی بھی آپس میں گفتگو نہیں کررہا تھا ،بلکہ گہرے سکوت میں کسی کونے سے دبی ہچکیوں کی آواز سنائی دینے لگی جن کی تعداد رفتہ رفتہ بڑھنے لگی ۔
یہ سارے عرصہ کے دوران شاید پہلا موقع تھا جب مجھے اپنے عزیز رشتہ یا دوست یاد آنا شروع ہوگئے ،یا اس بڑے ہال میں موجود لوگوں کی سسکیوں اور رونے کی آواز نے مجھ پر مایوسی طاری کرنا شروع کردی

مجھے ایک کونے میں دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے کئی گھنٹے گزر چکے تھے ،رات گیارہ بارہ بجے کا وقت ہوگا جب اچانک مجھ پر شدید گبھراہٹ طاری ہونے لگی ۔

میں نے اپنی چادر اٹھائی اور ڈپو سے باہرچلاآیا ۔پہرے پر موجود ساتھی نے پوچھا کیا مسئلہ ہے ؟
کچھ نہیں یار بس دل گھبرا رہا تھا اندر ذرا ہوا میں ٹہلنا چاہتا ہوں اس نے مجھے جانے کی اجازت دی لیکن جلدی واپس آنے اور زیادہ دور نہ جانے کی تاکید کی

محافظ کو بتا کر میں باہر نکل آیا اور آہستہ آہستہ چلتے سامنے ایک چھوٹے پہاڑی ٹیلے کی چوٹی پر پہنچ گیا ،چوٹی پر دو درخت تھے ،میں چادر بچھا کر اس پر بیٹھ گیا ،میرے سامنے چاروں اطراف گہرے سکوت کا راج تھا ،دور دور بنے گھر بھی گہرے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے ،کبھی کبھار کسی جانور کے چیخنے کی آواز سکوت کو مضطرب کردیتی ۔

میں اپنی سوچوں میں ڈوبا ملجگے اندھیرے میں کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کررہاتھا ،مجھے وہاں بیٹھے تقریباً ایک گھنٹہ گزرا ہوگا کہ اچانک فضا میں دور سے جنگی جہازوں کے آنے کی چنگاڑ سنائی دی ،میں اپنی جگہ پر ساکت بیٹھا فضا میں دیکھ رہا تھا ،کہ اچانک روسی کمپائونڈ جسے طالبان نے دو دن قبل خالی کردیا تھا پر ایک شعلہ لپکتا ہوا دکھائی دیا اور پھر زمین کو دہلا دینے والے دھماکے شروع ہوگئے ،

دھماکے اتنے زور دار تھے کہ میں سات آٹھ کلومیٹر دور ہونے کے باوجود اپنی جگہ سے اچھل کر دوسری طرف جا گرا اور تھوڑی دیر بعد مجھے ایسے لگا جیسے میرے اردگرد پتھروں کے ٹکڑے گرے ہوں ،اندھیرے میں مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ میں اب کیا کروں ؟

میں نے اپنی چادر جلدی سے اپنے اوپر اوڑھ لی اور درخت کے تنے سے چپک کر بیٹھ گیا اور صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگا ۔

کمپائونڈ سے اٹھتے شعلے کئی کلومیٹردور سے دکھائی دے رہے تھے ،مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں اب کیا کروں اور کس طرف جائوں ،مجھ ایسا لگ رہا تھا کسی بھی وقت ہماری جائے پناہ یعنی اسلحہ ڈپو پر بمباری شروع ہو جائے گی ۔میں نے جلدی سے پہاڑی سےنیچے اترنا شروع کردیا

جب میں ہال میں پہنچا تو وہاں موجود دیگر لوگوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ موت کا خوف کتنی بھیانک شے ہوتی ہے ۔

واپسی کا کٹھن سفر

رات گزری تو اگلی صبح ہمیں نئی منزل کی جانب کوچ کرنے اور بکھرجانے کا حکم مل گیا ،ہمارے ساتھ بہت سے غیرمقامی ساتھی بھی تھے ،یہ حقیقت ہے کہ مجھے پہلی بار اپنی کم مائیگی اور ان کی بے بسی کااحساس ہوا کیوں کہ جو ہمارے مشکل وقت کے دوست بنے تھے ہم ان کے لئے کچھ نہیں کرپا رہے تھے

ہم علی الصبح ایک دوسرے سے بوجھل دلوں کے ساتھ ٹکڑیوں کی شکل میں جدا ہونا شروع ہوگئے ۔ہماری ٹکڑی دس بارہ لوگوں پر مشتمل تھی ،سب مختلف سمتوں میں روانہ ہوئے ،اگرچہ میری منزل پکتیکا تھی ،لیکن ہمارے ساتھ چند دیگر ساتھیوں نے سرحد پار جانا تھا ،ہمیں رات کو ہی پاک افغان سرحد بند ہوجانے اور سرحدی علاقوں میں اتحادی فوجوں کے اترنے کی خبر مل چکی تھی

حالات اور خیالات بدلتے دیر نہیں لگتی

میں اپنی ٹکڑی کیساتھ جب شاہراہ پر پہنچا تو وہاں اور بھی بہت سے غیرملکی ساتھی موجود تھے ،جو کسی گاڑی کی تلاش میں سرگرداں تھے ،لیکن کوئی بھی ٹیکسی یا پرائیویٹ گاڑی انہیں سرحد کی جانب لے جانے پر آمادہ نہ تھی ۔میں نے مدد کا فیصلہ کیا اور متعدد گاڑی والوں سےبات کی ،لیکن ان کا رویہ انتہائی بدلا ہوا نظر آرہا تھا ،کل تک جن کیلئے ہم قابل احترام اور باعث فخر ہوا کرتے تھے ان کی بدلی آنکھیں واضح طور پر دکھائی دے رہی تھیں ،یہ بات میرے لئے اور بھی باعث شرمندگی تھی

کافی تگ و دو اور منت سماجت کے بعد تین گاڑیاں ان لوگوں کو سرحد کی جانب لے جانے پر آمادہ ہوگئیں ،اور ہم انتہائی عجلت میں جتنے لوگوں کیلئے ممکن ہوسکا گاڑیوں میں سوار ہوکر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوگئے
میں سب سے پچھلی گاڑی پر سوار تھا ، اور تینوں گاڑیاں فاصلہ رکھتے ہوئے چل رہی تھیں ۔

ہمیں روانہ ہوئے ایک تقریباً ایک گھنٹہ ہوچکا ہوگا جب فضا میں ایک بار پھر جنگی جہازوں کی چنگاڑیں سنائی دینے لگیں ۔

پھر میری آنکھوں نے ایک نہ بھولنے والا منظر دیکھا جب اگلی دونوں گاڑیوں اور سواروں کے ٹکڑے ہوا میں اڑتے اور بکھرتے دیکھے ۔

یہ میرے حسین خوابوں سے مزین سفر کے آغاز کا اندوہناک انجام تھا،میں زخمی جسم اور روح کے ساتھ اپنے گھر کی جانب روانہ ہو گیا ،اور کئی روز چھپتے چھپاتے اور پہاڑوں اور دروں سے ہوتا ہوا میں اپنے گھر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا ۔

خوبصورت مستقبل کی امید اور تمنا

اس کے بعد ہر روز اچھے دنوں کی امید کے ساتھ طلوع اور غروب ہوتا ،میں اپنے گزرے دنوں کی تلخ یادوں کو بھلانے کی کوشش میں مصروف رہا ،اور کچھ عرصہ بعد اپنے اہل و عیال کو لیکر پاکستان کے ایک مہاجر کیمپ میں پہنچ گیا اس امید پر کہ ایک دن ضرور آئے گا جب میرے بچے بے خوف وخطر اپنے وطن اور اپنی سرزمین پر لوٹ سکیں گے اور سکون وخوشحالی کی زندگی بسر کرسکیں گے

آج ان واقعات کو گزرے بیس سال ہوچکے ہیں ،میں مزدوری کیلئے کئی سالوں سے ایک یورپی ملک میں مقیم ہوں ،آج جب طالبان ایک بار پھر واپس کابل میں داخل ہوچکے ہیں تو ماضی کی بہت سے تلخ یادیں ایک بار پھر میرے دل و دماغ کو اپنے گھیرے میں لے رہی ہیں

لیکن اب میری ایک ہی خواہش ہے کہ کاش میرے ملک اور میری قوم کو بھی امن و سکون کا لمحہ میسر آجائے ۔وہ بندوق کے بجائے قلم سے اپنے مستقبل تحریر کریں ۔اور وہ کسی مرحلے پر بھی جذباتی ہو کر ان دیکھی منزلوں‌کی جانب گامزن نہ ہوجائیں‌

مجھے یقین ہے کہ میرے وطن رہنمائوں‌کو بھی اب احساس ہوچکا ہوگا کہ ان کی آپس کی نااتفاقی ان کے بچوں‌کو خاک و خون کا رزق بنادیتی ہے

Translate »