راحت ملک،کوئٹہ

24نومبر دوپہر دو بجے کا پہر تھا ڈاکٹر کہور بلوچ کی کراچی سے فون کال آئی ان کی زیر طبع کتاب کی اشاعت کے متعلق بات ہوئی علاوہ اس کے سیاسی مسائل ونقطہ ہائے نظر میں تجدید کیلئے بھی کچھ نقاط زیر بحث آئے میں نے عرض کیا کہ 25نومبر کو میری کوئٹہ واپسی ہے ڈاکٹر صاحب نے بھی اپنی صحت یابی بارے اطمینان کا اظہار کیا طے پایا وہ چند روز بعد کراچی سے کوئٹہ پہنچیں گے تو کتاب سمیت دیگر امور پر بحث کو آگے بڑھا کر اس کی شکل صورت اور جزبات مرتب کریں گے

جنہیں پارٹی کی متوقع مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں تحریری طور پر پیش کیا جائے تاکہ پارٹی کی مرکزی قیادت کی رائے اور اعتماد کے ساتھ بلوچستان کے سیاسی منظرنامے اور کلچر میں بدلے ہوئے حالات کی روشنی میں ایسی جدت کاری کی پیش بندی ہو جس کی جڑیں ہماری سیاسی تاریخ میں بھی جڑی رہیں اور مستقبل اور حال کے سیاسی معاشی آئینی قومی سوالات کی روشن فکری کی لو فروزاں ہو

ملک اور خطے میں آنے والی معاشی سفارتی حکمت عملییوں کے نئے تناظرات میں بلوچستان کی قومی سیاست آگے بڑھانے کیلئے ممکنہ امکانات کی نشاندہی کی جا سکے خبر نہ تھی کہ ڈاکٹر کہور بلوچ سے یہ آخری مکالمہ ہو رہا ہے رات دس بجے ان کے انتقال کی خبر ملی تو افسوس دکھ اور مایوسی نے گھیر لیا

ڈاکٹر کہوربلوچ۔ راحت ملک

ڈاکٹر صاحب سیاسی زندگی کے احیاے نو کے ابتدائی دنوں میں ہم سے رخصت ہو گئے جبکہ دوستوں کی جانب سے ان سے رہنمائی کی جائز امیدیں بندھ رہی تھیں ڈاکٹر کہور بلوچ اس موسم میں رخصت ہوئے جبکہ گلاب شاخوں پر پھول بھی نہیں تھے کہ ان کی میت اور قبر پر محبت و عقیدت کے اظہار کیلئے نچھاور کئے جا سکتے سیاسی اور موسمیاتی حوالوں سے ڈاکٹر کہور بلوچ نے دنیا چھوڑنےکے لیے خزاں رسیدہ رت کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کا جواب یقینا ان کے پاس بھی نہیں تھا کیونکہ وہ تو جدوجہد کے نئے سفر میں نئی منزلوں کی سمت گامزن ہونے کا مصمم عزم رکھتے تھے!!!

غم دکھ اور اذیت کے لمحوں میں ڈاکٹر کہور بلوچ کے خاندان کے ساتھ شراکت غم کا فریضہ ادا کرنا واجب تھا گو کہ وہ سیاسی اعتبار سے ہم خیال دوستوں پر مشتمل وسیع حلقے بلکہ ایک سیاسی خاندان کے چشم و چراغ تھے 27نومبر کو تربت ضلع کیچ کی بستی شاپک پہنچے ایک دوسرے کو پرسہ دیتے اور ٹوٹے ہوئے حوصلوں کے باوجود سب احباب دوسروں کو حوصلہ دینے کی کوشش کرتے اشکبار نگاہوں سے آسمان کی وسعتوں کو تکتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں

تربت جاتے ہوئے رستے میں ایک غمناک اطلاع ملی کہ پارٹی کے نو منتخب صوبائی صدر رحمت بلوچ کے چچا کا بھی گزشتہ روز انتقال ہو گیا تھا پنجگور میں رکنا اور سوگوار خاندان سے اظہار تعزیت و دعائے مغفرت کرنا لازم ٹھہرا شام گئے شاپک سے تربت روانہ ہوئے تو کراچی سے ایک اور بری خبر پہنچی نیشنل پارٹی کے قائد جناب ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے جوانسال بھتیجے فوت ہو گئے تھے

مرحوم کی میت اگلے دن 28نومبر کو تربت پہنچی تدفین اور مغفرت و فاتحہ خوانی کی رسم نبھائی گئی اس اعتبار سے تربت کا سفر انتہائی دلخراش اور دکھ دینے والا تھا لیکن فطرت کے اٹل فیصلوں سے کسے مفر ہے۔

تربت شہر کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی صاف ستھری کشادہ دو رویہ سڑکیں بتا رہی تھیں کہ ڈاکٹر مالک بلوچ نے صوبے کی وزارت اعلیٖ کے مختصر عرصہ میں اس شہر کو محدود وسائل کے باوجود محنت و لگن اور احساس ذمہ داری کے ذریعے جدید شہری سماج میں بدل دیا ہے اگر انہیں اقتدار میں رہنے کا مزید موقع ملتا تو یقینا پانچ کلو میٹر کا وژن پھیل کر کئی کلو میٹر پر محیط ہو جاتا پانچ کلو میڑ کا دائرہ محدود سہی نطقہ آغاز تو بہر حال عمدہ ہے

بدلتے ہوئے تربت کا تذکرہ

تربت شہر جدید دور کی ترقی کے مراحل طے کرنے کا اہل ہو چکا ہے مکران یونیورسٹی کی عمارت اور تدریسی عمل آنے والے دنوں میں روشن اور محفوظ ترقی یافتہ مستقبل کی بنیاد ہے جامعہ میں ہزار ہا طلباء زیر تعلیم ہیں خوشگوار بات یہ ہے کہ یہاں طالبات کی تعداد چالیس فیصد ہے۔

دائیں سے۔ ڈاکٹر خالد ہمایوں ۔راحت ملک۔ڈاکٹر کہور بلوچ۔ آغا گل۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ۔ڈاکٹر سرجن عزیز الله ۔پروفیسر شفیع آغا۔سرور جاوید۔ راغب تحسین۔ اور علی بابا تاج۔

تربت میں میڈیکل کالج بھی قائم ہو چکا ہے جبکہ طالبات کے لیے ڈگری کالج کے علاوہ کیڈٹ کالج بھی تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے لاء کالج عارضی عمارت میں تدریسی فرائض ادا کر رہا ہے اس کی اپنی عمارت تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔

تربت کے سفر میں محترم چاچا اللہ بشک بزدار، برادرم ڈاکٹر غلام محمد کھیتران، برادرم صدیق کھیتران کی رفافت میسر تھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے تربت کی ثقافتی ترقی اور تاریخی آثار کو محفوظ رکھنے کیلئے تربت میں کلچر سینٹرل بھی قائم کیا ہے جو تکمیل کے مراحل کی سست روی کاشکار ہے

شاید موجودہ حکومتوں کی ترجیحات میں ثقافتی ورثے کی حفاظت کی اہمیت نہ ہو اس کلچر سینٹر کیلئے ڈاکٹر مالک بلوچ نے اپنے دور میں 65آسامیاں پیدا کی تھیں ان پر تقرریاں ہنوز زیر التواء ہیں کلچرل سینٹر کا موجودہ عملہ رضا کارانہ طور پر کام کر رہا ہے اور اس امید پر پرعزم ہے کہ کسی نہ کسی روز انہیں مستقل روزگار مل جائے گا ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جس نے ماسٹرز کیا ہوا ہے لیکن بے روزگاری کے ہاتھوں سینٹر میں خاکروب کا کام کر رہا ہے

سینٹر میں قائم لائبریرین کی حالت انتہائی ناگفتہ ہے خاتون لائبریرین کیلئے دفتر موجود نہیں طالبات کو بھی مطالعہ کیلئے مناسب سہولت اور جگہ مسیر نہیں سینٹر میں بلوچی موسیقی کی تربیت کا کام ہو رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سینٹر کی تکمیل اور دیگر آلات و سہولیات بالخصوص لائبریری جلد از جلد مکمل کرنے کیلئے مطلوبہ فنڈز کا اجراء ہو اور حکومت اس میں دلچسپی کا مظاہرہ کرے۔

تربت میں چار روز کے قیام میں جامعہ مکران شعبہ بلوچی کے سربراہ پروفیسر صبور خان نے خصوصی طور پر مدعو کیا چاچا اللہ بشک نے بلوچی زبان و ادب کی تاریخ اور افادیت پر مفصل لیکچردیا۔

پریس کلب تربت کے صدر طارق مسعود صاحب نے میٹ دی پریس کا اہتمام کیا جبکہ اسی شام نیشنل پارٹی ضلع کیچ کے صدر عبدالشکور بلوچ نے کل جماعتی کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں پارٹی کے سینکڑوں افراد شریک ہونے جہاں گوادر تحریک مکران کے حالات، خطے میں ابھرتی ہوئی مخدوش صورتحال افغان بحران، بدامنی اور بارڈر ٹریڈ کی بندش سے پیدا شدہ مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی گوکہ یہ دورہ تعزیتی نوعیت کا تھا لیکن زندہ دلان کیچ نے اسے محبتوں کے اظہار کا نادر عمل بنا دیا کیچ کے تمام احباب کا ان کی محبت اور برادرانہ احترام سے مالا مال کرنے پر دلی شکریہ ادا کرنا انتہائی واجب ہے

ڈاکٹر کہور بلوچ آپ سدا ہمارے دلوں اس اس دھرتی کی تاریخ کے اوراق میں تابندہ رہیں گے۔###

(تربت سے واپسی پر علالت کے باعث تحریر مین تاخیر ہوئی جس کی معذرت)

Translate »