سید عتیق


پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی اور ممتاز جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی کا جو سفر یکم اپریل 1936ء کو بھوپال سے شروع ہوا تھا آج پچاسی سال بعد 10 اکتوبر 2021ء کو اسلام آباد میں ختم ہو گیا ۔اب ان کی صرف یادیں باقی رہیں گی  یا پھر ان کا وہ تاریخی منصوبہ جس پر صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ناز ہے ۔ یعنی پاکستان کا ایٹم بم جو مسلمانوں کی حربی طاقت کا سب سے شاندار مظہر ہے ۔

پاکستان کے جوہری پروگرام میں کردار ادا کرنے کے علاوہ ڈاکر عبدالقدیر خان نے پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی سپارکو کو دوبارہ منظم کرنے، اور خلائی پروگرام، خصوصاً پہلے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل پروجیکٹ اور سیٹلائٹ لانچ وہیکل میں اہم کردار ادا کیا

قیام پاکستان کے وقت ان کی عمر گیارہ سال تھی ۔ 1952میں بھوپال سے میٹرک کرنے کے بعد پاکستان آ گئے ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ہجرت کی سنت بچپن میں ہی ادا کر لی ۔ اور پھر عمر بھر پاکستان اور اسلام سے محبت کا رشتہ قائم رکھا ۔ کراچی یونیورسٹی سے فزکس میں گریجویشن کی ڈگری لینے کے بعد وہ کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن میں اوزان اور پیمانے چیک کرنے والے انسپکٹر مقرر ہوئے۔ اس دوران انہیں سکالر شپ پر جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا تو وہ نوکری چھوڑ کر مغربی برلن چلے گئے ۔

ابتدائی زندگی اور ہجرت کی سنت

1961ءمیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مغربی برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے وہ چار سال بعد نیدر لینڈ کی ڈیلفٹ یونیورسٹی منتقل ہو گئے جہاں سے 1967ء میں انہوں نے اپنی ڈگری لی ۔ اس کے بعد وہ ڈاکٹریٹ کے لیئے بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی لیون چلے گئے جہاں سے انہوں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری 1972ء میں حاصل کی اور فزکس ڈائنامک س ریسرچ لیبارٹری سے منسلک ہو گئے جو ہالینڈ کے دارلحکومت ایمسٹر ڈیم میں یورینیم کی افزودگی اور سینٹری فیوجز تیار کرنے والی لیبارٹری ہے ۔

اسی دوران انہوں نے ہالینڈ میں ہی شادی بھی کر لی ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا خاص شعبہ یورینیم کی افزودگی تھا ۔ یہ شعبہ یورینیم کی دھات کو ایٹم بم میں استعمال کے قابل بنانے کا پیچیدہ ترین کام کرتا تھا یہ کام جن آلات سے کیا جاتا ہے اسے سینٹری فیوجز کہتے ہیں ۔

ڈاکٹر خان ہالینڈ میں تھے جب 1974ء میں انڈیا نے پہلے پہل ایٹمی تجربات کیئے تو پاکستان کے لیئے ناگزیر ہو گیا کہ وہ بھی ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرے بصورت دیگر انڈیا کی برتری پاکستان کو کمزور کر دے گی ۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس سلسلے میں اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو خط لکھ کر اس مسئلے پر توجہ دینے کا کہا۔


یہ بھی پڑھیں


پاکستان اپنی طرف سے ایٹم بم کی تیاری کے لیئے فیزیبیلٹی رپورٹ تیار کر چکا تھا ۔ اور اس کام کا سب سے مشکل مرحلہ وہی تھا جسے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ذریعے ہی ممکن بنایا جا سکتا تھا۔ بھٹو نے پاکستان کے اس وقت کے مجوزہ ایٹمی ادارے پی اے ای سی کے اس وقت کے سربراہ ڈاکٹر بشیرالدین محمود کے ذریعے ڈاکٹر خان سے رابطہ کیا اور انہیں وزیر اعظم سے ملاقات کا کہا ۔

دسمبر 1974ء میں ڈاکٹر خان ہالینڈ سے پاکستان وزیر اعظم سے ملاقات کے لیئے پہنچے جہاں وزیر اعظم بھٹو کے علاوہ غلام اسحاق خان ، آغا شاہی اور ڈاکٹر مبشر حسن بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر خان نے انہیں ایٹم بم کی تیاری کے لیئے جملہ تفصیلات سمجھائیں اور پاکستانی سائنسدانوں کو اہم ہدایات دیں ۔

پاکستان سے واپسی کے بعد ڈاکٹر خان کو ان کے ادارے نے دوسرے سیکشن میں تبدیل کر دیا ۔ چار ماہ بعد اپریل 1976ء میں ڈاکٹر اے کیو خان نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا یورینئیم افزودگی اور سینٹری فیوجز کا شعبہ سنبھال لیا ۔

اگلے چھ سال انہوں نے نظر بندی میں گزارے جب تک کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی نظر بندی ختم نہ کر دی ۔ فروری 2009ء میں پابندی ختم ہونے کے بعد بھی وہ اپنی نقل و حرکت سے حکومت کو آگاہ رکھنے کے پابند تھے اور ہر وقت سکیورٹی حصار میں رہتے تھے

اس دوران ڈاکٹر خان یورینکو گروپ لمیٹڈ میں بھی کام کرتے رہے جو مختلف ممالک کو ایٹمی ایندھن فراہم کرنے والی کمپنی تھی اس یہ کمپنی ہالینڈ ، برطانیہ اور جرمنی کی ملکیت تھی پاکستان کا جوہری پروگرام 1972 سے منیر احمد خان کی قیادت میں پلوٹونیم کی افزودگی کی بیناد پر کام کر رہا تھا۔

ابتدا میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان یورینکو گروپ کے ساتھ کام کرتے ہوئے پاکستان کے جوہری پروگرام میں مدد فراہم کرتے رہے ۔ اسی کمپنی سے یورینئیم افزودگی اور سینٹری فیوجز چوری کر کے پاکستان کو فراہم کرنے کا الزام ڈاکٹر اے کیو خان پر عائد کیا گیا اور بعد میں ہالینڈ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں ڈاکٹر اے کیو خان کو باعزت بری کر دیا ۔

عدالت سے برات اور پاکستان منتقلی

مقدمے میں ایٹمی تحقیقات سے وابستہ یورپین سائنسدانوں کے بیانات کی روشنی میں عدالت کا کہنا تھا کہ کمپنی کی کوئی چیز چوری نہیں کی گئی بلکہ ڈاکٹر سے کیو خان نے صرف وہ معلومات اور طریقہ کار پاکستان منتقل کیا جو کتابوں میں لکھا ہوا ہے کوئی خاص چیز نہیں چرائی ۔

ابتداء میں پاکستان کے ایٹمی تحقیقاتی ادارے کا نام انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹری تھا جس کے اس وقت سربراہ ڈاکٹر منیر احمد خان تھے۔ جسے چند سال بعد جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان ریسرچ لیبارٹری کا نام دیا۔ اور کہوٹہ میں اسے بنایا گیا ۔ اب یہ ادارہ براہ راست پاکستان آرمی کی انجنیئر کور کی نگرانی میں آ چکا تھا ۔ اور ڈاکٹر خان اس کے چیف سائنٹسٹ مقرر ہوئے

 پاکستان میں ایٹم بم کی تیاری کے مشن کی قیادت

پاکستان کے جوہری پروگرام میں کردار ادا کرنے کے علاوہ ڈاکر عبدالقدیر خان نے پاکستان کی قومی خلائی ایجنسی سپارکو کو دوبارہ منظم کرنے، اور خلائی پروگرام، خصوصاً پہلے پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل پروجیکٹ اور سیٹلائٹ لانچ وہیکل میں اہم کردار ادا کیا۔

آپ نے پاکستان میں کئی انجینیئرنگ یونیورسٹیوں کے قیام میں بھی ایک اہم کردار ادا کرنے کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینیئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں میٹیرلوجی اینڈ میٹریل سائنس انسٹی ٹیوٹ بھی قائم کیا۔

1998ء میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے ایٹمی طاقت ہونے کا اعلان کیا تو اس کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان قومی ہیرو بن گئے جنرل پرویز مشرف نے انہیں یکم جنوری سن دو ہزار کو بحیثیت چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر اے کیو خان کو اپنا مشیر مقرر کیا ۔

ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی کا الزام اور پابندیاں

دسمبر 2003ء میں اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق ادارے واچ ڈاگ نے حکومت پاکستان کو ایک خط لکھ کر بتایا کہ پاکستان نے ایران،لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کی ہے ۔ پاکستان پر لگنے والے الزام کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنایا اور ان پر دبائو ڈال کر ایٹمی ٹیکنالوجی دیگر ممالک تک پہنچانے کا اعتراف کروایا گیا ۔

جنوری 2004ء میں ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر خان نے  تسلیم کیا کہ یہ کام انہوں نے ذاتی طور پر کیا ۔ اس طرح محسن پاکستان نے پاکستان کو اس الزام سے بچادیا جس کے نتیجے میں پاکستان کو ممکنہ طور پر شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا یہ خطرہ بھی موجود تھا کہ امریکہ حملہ کر کے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو ختم کر دیتا مگر ڈاکٹر اے کیو خان نے اپنی قربانی دے کر پاکستان کا دفاع کیا ۔ بعد میں متعدد بار ڈاکٹر خان نے تسلیم کیا کہ انہوں نے وہ بیان دبائو میں آ کر دیا تھا ۔ اس کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا مگر حکومت پاکستان نے ڈاکٹر خان کو ان کے گھر پر نظر بند کر دیا

اور اگلے چھ سال انہوں نے نظر بندی میں گزارے جب تک کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی نظر بندی ختم نہ کر دی ۔ فروری 2009ء میں پابندی ختم ہونے کے بعد بھی وہ اپنی نقل و حرکت سے حکومت کو آگاہ رکھنے کے پابند تھے اور ہر وقت سکیورٹی حصار میں رہتے تھے ۔

جس کے خلاف وہ سپریم کورٹ میں درخواست بھی دے چکے تھے کہ وہ آزاد نہیں ہوئے ۔ مگر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل ہی وہ انتقال کر گئے ۔

انتقال اور تدفین

21 اگست کو ڈاکٹر اے کیو خان کا کرونا ٹیسٹ پازیٹیو آیا ۔ یکم ستمبر کو ان کی طبیعت بگڑنے پر انہیں ہسپتال داخل کیا گیا مگر پھر طبیعت بہتر ہو گئی اور وہ رو بہ صحت ہوئے مگر ایک ماہ بعد دس اکتوبر کو انہیں شدید تکلیف ہوئی اور وہ انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر قومی پرچم سرنگوں کر دیا گیا جب کہ ان کی نماز جنازہ آج ساڑھے تین بجے فیصل مسجد میں ادا کرنے کے بعد انہیں سپرد خاک کر دیا گیا ۔

انا للہ و انا الیہ راجعون

 

ان کی نماز جنازہ آج ساڑھے تین بجے فیصل مسجد میں ادا کرنے کے بعد انہیں سپرد خاک کر دیا گیا

علالت کے دوران متعدد بار ان کے انتقال کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں ۔ جن کے بعد انہوں نے قوم سے اپنی صحتیابی کے لیئے دعائوں کی درخواست کی تھی ۔ آج ہر پاکستانی اس محسن پاکستان کے لیئے دعا گو ہے ۔ جس کی کاوشوں اور محنت سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔

سرکاری اعزازت اور سیاست میں ناکامی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو 13 طلائی تمغوں سے نوازا گیا جب کہ آپ پہلے پاکستانی ہیں جنہیں 3 صدارتی ایوارڈز بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ عبدالقدیر نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی تحریر کیے۔
1996 میں جامعہ کراچی نے عبدالقدیر کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند عطا کی جبکہ  14 اگست 1996 میں صدر فاروق لغاری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز دیا اور پھر 1989 میں انہیں ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

2012ء میں انہوں نے اپنی سیاسی پارٹی قائم کی جس کا نام انہوں نے تحریک تحفظ پاکستان رکھا مگر نقل و حرکت محدود ہونے کی وجہ سے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے سکے ۔ اور کوئی قابل ذکر کامیابی نہ ملی ۔ نظریاتی اعتبار سے وہ مذہبی اور پاکستان سے محبت رکھنے والے شخص کے طور پر معروف تھے ۔

Translate »