Spread the love

آزادی ڈیسک


افغانستان کی کابل انتظامیہ کا ہر گزرتے دن کیساتھ گھیرا تنگ کرنیوالے طالبان کا ایک اعلی سطح وفد چین پہنچ چکا ہے

طالبان کا وفد ایک ایسے وقت میں بیجنگ میں موجود ہے جب دوحہ معاہدے کے مطابق افغان سرزمین سے امریکی فوج کے مکمل انخلا کا وقت قریب تر ہوتا جا رہا ہے داخلی محاذ پر بھی طالبان ملک کے غالب حصہ پر قابض ہو چکے ہیں اور حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان نے چین کیساتھ ملنے والی سرحد کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا

چین افغان سرحد اور خدشات

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان صرف 76 کلومیٹر طویل سرحد ہے جو ناقابل گزر اور دشوار گزار پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے جہاں مواصلات کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں لیکن اس کے باوجود چین کو خدشہ ہے اس کے سنکیانگ کے علاقے میں گڑبڑ پھیلانے کیلئے افغانستان کی سرزمین کو استعمال کیا جا سکتا ہے


یہ بھی پڑھیں

  1. 46 افغان فوجی اہلکاروں‌ کی وطن واپسی اور امراللہ صالح کا منفی ردعمل
  2. افغان فوج کے پانچ افسران اور 41 اہلکاروں‌ کو پاکستان نے پناہ دیدی
  3. افغانستان جہاں طالبان ،وارلارڈز اور جنگ کے سوا اور بھی دنیائیں‌ آباد ہیں‌
  4. ڈیورنڈ معاہدہ اورافغانستان کے زیر قبضہ پاکستان کے علاقے جن پر کوئی بات نہیں‌کرتا

جہاں ماضی میں بھی ویغور مسلمانوں کے حوالے سے مسائل پیدا ہوتے رہے ہیں اور اس بارے میں چین پر ویغور مسلم اقلیت کیساتھ امتیازی سلوک روا رکھے جانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے

طالبان ترجمان محمد نعیم نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وفد نے چین کو یقین دہانی کروائی ہے کہ طالبان افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینگے

چین کی دعوت پر دورہ کرنے والے وفد میں ‏‎افغان طالبان سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر ,خیراللہ خیراللہ، عبدالسلام حنفی،شہاب الدین دلاور،مطیع الحق خالص، عماریاسر،نبراس الحق عزیز،سہیل شاہین اور ڈاکٹر نعیم شامل ہیں

جبکہ چین کی جانب سے وزیر خارجہ وانگ لی نے وفد سے ملاقات کی اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ لی کا کہنا تھا ہمییں امید ہے کہ طالبان ہمارے خدشات کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں

وانگ لی نے کہا طالبان اہم عسکری و سیاسی قوت ہیں جو امن عمل مصالحت اور تعمیر نو میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

چین کو یقین ہے کہ طالبان اپنے عوام کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے امن مذاکرات اور تمام نسلی گروہوں کے مابین ہم آہنگی کیلئے کام کرینگے

طالبان ترجمان محمد نعیم کا کہنا تھا چین نے افغان عوام کیساتھ تعاون جاری رکھنے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور معاملات کو سلجھانے میں ہر ممکن تعاون کی یقین دھانی کروائی ہے

جبکہ امارت اسلامیہ کی جانب سے افغان عوام کیساتھ تعاون جاری رکھنے اور بالخصوص کووڈ سے نمٹنے کیلیے چین کی مدد پر شکریہ ادا کیا ہے

واضح رہے کہ طالبان قیادت کی جانب سے افغانستان کے ہمسایہ ممالک کیساتھ روابط بہتر بنانے کی کوششوں میں تیزی آ رہی جس کا مقصد اپنی ممکنہ واپسی کے حوالے اہم ممالک کے ساتھ اعتماد سازی ہے .حالیہ ہفتوں کے دوران طالبان وفود ماسکو اور تہران کا دورہ کر چکے ہیں

اس کے علاوہ اندرونی محاذ پر بھی ان کی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں ان کے دعوؤں کیمطابق ملک کا 80 فیصد سے زائد علاقہ ان کے زیرنگیں ہے جن میں پاکستان ایران اور ازبکستان کیساتھ ملنے والی سرحدی راہداریاں بھی شامل ہیں

طالبان وفد کے حالیہ دورہ بیجنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو چینی حکمراں کیمونسٹ پارٹی اور طالبان کے مابین انتہائی نظریاتی بعد ہے لیکن اس کے باوجود دونوں فریقین کے درمیان روابط ماضی میں بھی موجود رہے ہیں

تاہم چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے بعد چین کیلیے ایک مستحکم اور پرامن افغانستان زیادہ ضروری ہے تاکہ اس کی معاشی و تجارتی سرگرمیوں کیلیے مواقع بڑھ سکیں کیونکہ وسط ایشیائی ریاستیں اس کے اہم اہداف میں شامل ہیں

Translate »