Spread the love

مسرت اللہ جان

پشاور


پاکستان سپورٹس بورڈ اینڈ کوچنگ سنٹر کے ڈائریکٹر جنرل کرنل ریٹائرڈ آصف زمان کا تنں گھنٹے کا دورہ پشاور کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر ‘ اپنے دورے کے دوران انہوں نے پی ایس بی پشاور مں جاری ری نویشن کے کام کا جائزہ لیا اور اس بارے مںن کنٹریکٹرز سے ملاقات کں

پشاور سے تعلق رکھنے والے آصف زمان سکواش کے اچھے کھلاڑی ہیں، ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی پی ایس بی کوچنگ سنٹر پشاور کی انتظامیہ نے علی الصبح  صفائی پر زور دیا اور ہفتوں پڑے گندگی کے ڈھیربھی ڈائریکٹر جنرل پشاور آمد کی وجہ سے ہٹا دیئے گئے

.کئی عشروں میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پشاور سنٹر میں ری نویشن کا عمل شروع کیاگیا ہے اور ہاسٹل ‘ جمنازیم ‘ سکواش ہال’ ملازمین کے کوارٹرز ‘ جوڈو ہال سمیت مختلف زیر التواء کاموں پر کام کا آغاز کردیا گا .

آصف زمان نے محب اللہ خان سکواش کورٹ میں محب اللہ کے بیٹے شہزاد محب جو سکواش کوچ بھی ہیں کیساتھ سکواش کھیلی’بعدازاں انہیں سکواش  کورٹس کے حوالے سے بریفنگ بھی دی گئی ‘ ملازمین کے مسائل کے حوالے سے بھی انہیں آگاہ کیاگیا’


یہ بھی پڑھیں 

  1. پشاورمیں طویل تعطل کے بعد کھیل کی سرگرمیوں کا خوشگوارآغاز
  2. غربت کے خاتمہ کا دعویٰ‌اور ریاست مدینہ کے حکمرانوں‌کا قول و فعل
  3. قبائلی اضلاع میں‌ بین المدارس کھیلوں‌کے مقابلے منعقد کرنیکا فیصلہ
  4. بیروت میں‌منعقدہ ایشین تائیکوانڈو مقابلوں میں‌پاکستانی کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی

اپنے دورے کے دوران آصف زمان نے ملازمین سے الگ ملاقات کی ‘ فیڈریشن کے چند عہدیداروں سے علیحدہ ملے اور بعد ازاں صحافیوں کیساتھ سوال و جواب کا الگ سیشن رکھا گیا

کرنل ریٹائرڈ آصف زمان کی پشاور دورے کی اطلاع بہت کم لوگوں کو تھی اسی بناء پر پشاور میں کھیلو ں کی مختلف فیڈرریشنز و ایسوسی ایشنز کے عہدیدار ان سے ملاقات نہیں کر پائے اورنہ ہی اپنے تحفظات سے آگاہ کرسکے

البتہ جوڈو ‘ سائیکلنگ او ر آرچری کی خاتو ن نمائندہ نے ان سے ملاقات کی اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل آصف زمان نے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ پی ایس بی تمام کھیلوں کے یکساں فرو غ کیلئے کوشاں ہے اور ابھی تک انہوں نے اکتیس ایسوسی ایشنز کو گرانٹس دی ہیں

جو کہ گذشتہ تین سالوں سے رکی ہوئی تھی جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پی ایس بی کھیلوں کے فروغ میں کتنی دلچسپی رکھتی ہے اور فیڈریشن کو بھی کھیلوں اور کھلاڑیوں کے معیار ک بہتر بنانے پر زوردیا.

والی بال کے گیمز سے متعلق سوال پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس کا موقف تھا کہ اس مقصد کیلئے ایران سے کوچ منگوایا گیا ہے

صحافیو ں سے بات چت مں ڈائریکٹر جنرل پی ایس بی آصف زمان کا کہنا تھا کہ حکومت کھیلوں کے فروغ کیلئے ہرممکن کوشش کررہی اور تمام کھلوں کو یکساں اہمیت دی جارہی۔ اب یہ فیڈریشنز کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے کھلاڑی تیاری کریں

انہوں نے کرونا کے بعد کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے سے متعلق سوال پر کہا کہ این سی او سی کی احکامات کے پیش نظر نان کنٹکٹر گیمز پورے پاکستان میں اوپن ہیں جبکہ کنٹکٹ گیمز پر پابندی ہے

انہوں نے کہا کورونا کی چوتھی لہر خطرناک ہے اس لئے ایس او پیزپر عملدرآمد بھی ضروری ہے ‘ والی بال کے گیمز سے متعلق سوال پر ڈائریکٹر جنرل سپورٹس کا موقف تھا کہ اس مقصد کیلئے ایران سے کوچ منگوایا گیا ہے

چونکہ اس وقت سائوتھ ایشنز گیمز آرہی ہیں اس لئے یہ اب ضروری ہے کہ فیڈریشنز اپنے کھلاڑیوں کی تربیت کے حوالے سے اگر کوچز باہر سے منگوانا چاہتے ہیں تو ہمیں آگاہ کریں ہم اس معاملے میں بھرپور تعاون کرینگے.

والی بال ٹیم کیلئے ایرانی کوچ کا تقرر

انہوں نے پی ایس بی کی ری سٹرکچرنگ اور قائم مقام ڈائریکٹر سے متعلق سوال پر کہا کہ اس حوالے سے کام جاری ہے  انہوں نے کہا نئی سپورٹس پالیسی پر کام جاری ہے اور بہت جلد بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی.

ڈی جی پی ایس بی کا دورہ پشاور اگر عام دنوں میں ہوتاتو خیبرپختونخواہ سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کے حکام بھی ان سے ملاقات کرتے اور پی ایس بی اور سپورٹس ڈائریکٹریٹ کے مابین پیدا ہونے والی بعض تلخیوں کے بارے میں بات ہوتی جس سے صورتحال مختلف ہوتی

اس موقع پر اگر سکواش کے کھلاڑیوں سمیت دیگر کھیلوں سے وابستہ خیبر پختونخواہ کے کھلاڑیوں و فیڈریشن و صوبائی نمائندوں کو اطلاع ہوتی تو بہت سارے مسائل ڈی جی کے آنے سے حل ہو جاتے

اس طرح مخصوص صحافیوں کے بجائے اگر پشاور پریس کلب کو اس بارے میں اطلاع دی جاتی تو اور خوشامدی سوالات کے بجائے تند و تیز سوالات بھی ہوتے تو صورتحال کچھ مختلف ہوتی.

البتہ ڈی جی پی ایس بی کرنل ریٹائرڈ آصف زمان کا دورہ پشاور تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے ‘جس سے جمود کا شکار بہت سے معاملات میں بہتری آنے کی امید پیدا ہوئی ہے ۔

Translate »