رومان ملک


کہا جاتا ہے کہ بسا اوقات ہجرت انسان کیلئے خوش قسمتی ،شہرت اور ناموری کے بہت سے ایسے دروازے کھول دیتی ہے جن کے بارے میں انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔

دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر دور دیس میں بسنے کا فیصلہ کیا لیکن یہ سفر ان کی زندگی کا وسیلہ ظفر بن گیا ،اور اپنا گھر چھوڑنے والے کروڑوں دلوں میں تادیر گھر کر گئے

یہ مثال اس وقت کے برطانوی ہند اور آج کے پاکستان کے شہرپشاور میں آنکھ کھولنے والے ایک پھل فروش کے بیٹے یوسف خان پر بھی صادق آتی ہے جسے دنیا میں دلیپ کمار کے نام سے شہرت و ناموری ملی

جس کا سفر تو ایک گمنام سے شخص کی حیثیت سے ہوا لیکن جب اس کی کہانی کا اختتام ہوا تو نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا کے کونے کونے میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کے لبوں پر اس کا نام تھا


یہ بھی پڑھیں

  1. بامسی بے اک عہدوفا کا تھا جو تمام ہوا
  2. ساگر جو آخریں‌دم اپنے گائوں‌کی ندی میں‌اترجانے کو ترستا رہا
  3. اپنی زبان کو فروغ دینے کیلئے ہندکو میں‌ ارطغرل ڈرامہ بنانے کا فیصلہ کیا
  4. ضلع ایبٹ‌ آباد کے ایک گائوں‌کی رمضان المبارک کے حوالے سے صدیوں‌قدیم روایت

برطانیہ سے آزادی کے بعد پشاور لوٹنے کے بجائے یوسف خان نے بھارت کے بمبئی کو ہی اپنا مستقل آشیاں بنانے کا فیصلہ کیا ،جہاں ایک روز اپنے والد کی دکان پر موجودگی کی دوران ان پر کسی فلم سٹار کی نظر پڑی جس نے ان کی چھپی صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیا اور انہیں فلم میں کام کرنے کی راہ دکھائی

لیکن اصل مسئلہ اپنے والد اور خاندان کو منانے کا تھا ،جو کہ ایک قدامت پسند مذہبی گھرانے کے کسی فرد کو ایسا کام کرنے کی اجازت دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے

1944 میں جوار بھاٹا نامی فلم سے اپنے کیئریر کا آغاز کرنے والے یوسف خان کو اپنی شناخت چھپانے کیلئے نام بدلنا پڑا تو انہوں نے اپنے لئے نیا نام دلیپ کمار چنا

اور پھر یہی نام ان کی پوری زندگی اور کیئریر میں شناخت بن گیا

بمبئی سے شروع ہونے والی اس کہانی کا اختتام بھی 7 مئی 2021 کو ممبئی میں ہوا
ٹریجڈی کنگ کا لقب پانے والے دلیپ کمار 1940 سے 1960 کے دور میں بھارتی فلم انڈسٹری پر عملاً راج کرتے رہے ،بالخصوص شہرہ آفاق فلم مغل اعظم میں شہزادہ کے کردار نے انہیں نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کی فلم انڈسٹری میں ہمیشہ کیلئے امر کردیا

مغل اعظم بھارتی فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی اور مہنگی فلم تھی جو آٹھ سال کے طویل عرصہ میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تیار ہوئی ،لیکن مقبولیت کے لحاظ سے اس فلم نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور آج بھی فلم بین اسے اسی دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں

دلیپ کمار دیگر بالی ووڈ یا فلمسٹاروں کی بہ نسبت بہت کم سکینڈلز کا شکار ہوئے ،اگرچہ ان کی کوئی اولاد نہ تھی ،لیکن ان کی اہلیہ سائرہ بانو جو خود بھی ایک فلم سٹار ہیں کے ساتھ انہوں نے 50 سال سے زائد مثالی رفاقت نبھائی

ان کا فلمی سفر بھی تقریبا پچاس سال پر محیط ہے ،جس میں انہوں نے 60 کے قریب فلمیں بنائیں

بعدازاں چند فلموں کی ناکامی کے بعد دلیپ کمار نے سیاست کی دنیا میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا ،وہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری کے زبردست حامی اور وکیل تھے ۔لیکن 1998 میں جب انہیں پاکستان کی جانب سے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دیا گیا تو انتہا پسند ہندو جماعتوں کے نشانے پر آگئے

اس کے دوسال بعد وہ کانگریس پارٹی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ،
ان کی فلمی و ثقافتی خدمات کے اعتراف میں 2006 میں انہیں انڈین نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا

Translate »