مسرت اللہ جان

پشاور


خیبر پختونخواہ آرچری کلب کے کھلاڑیوں نے پیر کے روز پی ایس بی پشاور کوچنگ اینڈ ٹریننگ سنٹر میں کھیلنے پر پابندی کیخلاف پی ایس بی پشاور سنٹر کے مین گیٹ کے سامنے مظاہرہ کیا . مظاہرے میں شامل تیر اندازوں میں پیرا آرچری کی خاتون گولڈ میڈلسٹ حسنہ بیگم ، و خیبر پختونخواہ انڈر 16 اور انڈر 21 میں نمایاں پوزیشن ہولڈر کھلاڑیوں نے شرکت کی جنہوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے

جس پر آرچری پر پابندی نامنظور کے نعرے درج تھے.کھلاڑیوں کا موقف ہے کہ پی ایس بی پشاور کے ڈائریکٹر نے چمن میں ری نیویشن اور فوارہ بنانے کے نام پر انہیں نکال دیا قبل ازیں ٹیبل ٹینس ، بیڈمنٹن ، والی بال اور کراٹے کے کھلاڑیوں کو نکال دیا گیا تھا جو کہ کھیل اور کھلاڑیوں کیساتھ زیادتی ہے .

کھلاڑیوں کا یہ موقف ہے کہ پی ایس بی ایک طرف کھیلوں کے فروغ کے دعویدار ہیں جبکہ دوسری طرف کھلاڑیوں پر کھیل کے دروازے بند کئے جارہے ہیں جو ناانصافی ہے. انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا سے اس معاملے میں نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا..


یہ بھی پڑھیں


احتجاج وزیراعلی ہائوس اور وزیراعظم ہائوس کے سامنے بھی کرینگے ، سارہ خان

پختونخواہ آرچری کلب کے تیر اندازوں نے وزیراعلی خیبر پختونخواہ ہائوس اور اگلے مرحلے میں وزیراعظم ہائوس کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم نہیں کی جارہی تاہم ان سے یہ توقع کی جارہی ہیں کہ وہ کھیلوں کے میدان میںنمایاں پوزیشن حاصل کرینگے

ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخواہ کی پہلی خاتون آرچر اور کوچ سارہ خان اور کھلاڑیوں نے پشاور سپورٹس اینڈ کوچنگ سنٹر کے باہر مظاہرے میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا

انہوں نے کہا کہ کھیل اور کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم کرنے کا دعویدار ادارہ پی ایس بی پشاور نے ان کے کھیلنے پر پابندی عائد کردی ہے جو کہ ناانصافی ہے ان کے مطابق قبل ازیں پی ایس بی پشاور کے قائم مقام ڈائریکٹر نے پرائیویٹ جیم کو دینے کیلئے ٹیبل ٹینس کے کھلاڑیوں کو سنٹر سے نکال دیا

اور اب انہیں نکالا جارہا ہے .ان کے مطابق احتجاج کا سلسلہ جاری رہیگا اور آنیوالے دنوں میں وزیراعلی ہائوس ، اور وزیراعظم ہائوس اسلام آباد کے سامنے پی ایس بی پشاور کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائیگا..

ان کے مطابق کلب کے تیر انداز نیشنل گیمز سمیت صوبائی سطح کے مقابلوں میں گولڈ میڈیلسٹ ہے اور خیبر پختونخواہ کے کھلاڑیوں کیساتھ ایسا رویہ تعصبانہ ہے.

Translate »