0 0
Read Time:2 Minute, 3 Second

شہید ہیڈ کانسٹیبل بنیامین کی نماز جنازہ آبائی گاؤں خواجگان مانسہرہ میں ادا کردی گئی

نماز جنازہ میں ڈی آئی جی ہزارہ و دیگر پولیس افسران و جوانوں نے شرکت کی، شہید کو سلامی پیش کی اور پھولوں کی چادر پیش کی

شہید ہیڈ کانسٹیبل بنیامین زندہ ہے اور ہمیشہ پولیس فورس کا حصہ رہے گا اسکے خاندان کی تمام تر زمہ داریاں اب ہمھاری ہے، ڈی آئی جی ہزارہ میرویس نیاز


ایبٹ آباد

اسٹاف رپورٹر


گذشتہ روز پشاور کے معروف کاروباری علاقے کارخانو بازار میں پولیس موبائل پر بم حملے میں شہید ہونے والے ہیڈ کانسٹیبل بنیامین کی نماز جنازہ انکے آبائی گاؤں خواجگان مانسہرہ میں ادا کر دی گئی۔

نماز جنازہ میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن میرویس نیاز، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مانسہرہ آصف بہادر اور دیگر پولیس افسران، جوانوں اور کثیر تعداد میں سول سوسائٹی کے لوگوں نے شرکت کی۔

ایلیٹ فورس کے چاق و چوبند دستے نے شہید ہیڈ کانسٹیبل کو سلامی پیش کی۔ ڈی آئی جی ہزارہ اور ڈی پی او مانسہرہ نے پھولوں کی چادر چڑھائی ۔ اس موقع پر ڈی آئی جی ہزارہ میرویس نیاز نے شہید کانسٹیبل کے والد سے اظہار تعزیت کی اور شہید کی بلند درجات کیلئے فاتحہ خوانی کی۔

یہ بھی پڑھیں:

ڈی آئی جی ہزارہ نے شہید کے والد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپکے بیٹے کی شہادت راہ گاں نہیں جائے گی وہ زندہ ہے اور ہمیشہ پولیس فورس کا حصہ رہے گا اسکے تمام تر خاندان کی زمہ داریاں اب ہماری ہیں

شہید ہیڈ کانسٹیبل بنیامین نے اپنی قیمتی جان کا نذرانہ پیش کرکے دہشتگردوں اور ملک دشمن عناصر کو یہ پیغام دیا ہے کہ خیبرپختونخواہ پولیس ملک پاکستان کی بقاء و سلامتی اور دہشتگردوں کے خاتمہ کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

ہیڈ کانسٹیبل بنیامین ایلیٹ فورس میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ گزشتہ روز کارخانو بازار کے علاقے  میں پیٹرولنگ پر مامور تھے کہ دن ساڑھے گیارہ بجے پولیس موبائل میں دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھے ایلیٹ پولیس ہیڈ کانسٹیبل بنیامین کی شہادت ہوئی۔

شہید کے لواحقین میں والد، والدہ، بیوہ اور دو بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »