Spread the love

جبران شنواری ،لنڈی کوتل


پاک افغان کوآپریشن فورم کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے تحت افغان عوام کیلئے 17 ٹرکوں پر مشتمل خوراکی اشیاء طورخم بارڈر پر افغان حکام کے حوالے کر دی گئی۔

پاک افغان کوآپریشن فورم کے چیئرمین حبیبِ اللہ خٹک نے کہا کہ وہ اس سے پہلے بھی افغان عوام کی مدد کر چکے ہیں اور اس امداد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں 17 ٹرکوں میں تین سو ٹن امدادی اشیاء بھیج دی جن میں 190 ٹن آٹا، 11ٹن کوکنگ آئل، 31ٹن چاول، 65ٹن چینی، 3ٹن دالیں شامل تھیں

پاک افغان کوآپریشن فورم اس سے پہلے C130 طیارے کے ذریعے بھی 2ٹن ادویات، 6ٹن آئل اور 32ٹن آٹا بھیج چکا ہے بارڈر پر افغان حکام نے خوراکی اشیاء کو وصول کرتے ہوئے پاکستان اور کوآپریشن فورم کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان نے پہلے ہی افغان عوام کی مدد کی ہے دونوں ممالک کے مابین اچھے برادرانہ تعلقات موجود ہیں افغانستان کے عوام پاکستان کے اس تعاون پر مشکور ہیں.

چئیرمین حبیبِ اللہ خٹک نے کہا کہ افغانستان اس وقت مشکلات کا سامنا کر رہا ہے بارشوں کی کمی کے باعث وہاں پر فصلیں مطلوبہ ضروریات کے مطابق نہیں ہوسکی ہیں۔ جبکہ دوسری جانب بیس سالوں سے جنگ کی لپیٹ میں رہا اب چونکہ افغانستان میں امن کی فضا قائم ہو رہی ہے اسلئے تمام ممالک کو افغانستان کی خصوصی مدد اور تعاون کرنا ہو گا چیئرمین حبیب اللہ خان خٹک نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان افغانستان کی ہر ممکن مدد کر رہا ہے،


یہ بھی پڑھیں


افغانستان کی تعمیر و ترقی میں پاکستان ہمیشہ کردار ادا کرتا رہے گا ان کا کہنا تھا کہ ان کی فورم مخیر حضرات اور حکومت پاکستان کے تعاون سے بلا امتیاز رنگ و نسل او قومیت افغانستان کے مسلمان بھائیوں کی دل کھول کر مدد کر رہا ہے، بارڈر پر سامان وصولی کے دوران پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے سیکیورٹی کے انتظامات کئے تھے، واضح رہے کہ یہ خوراکی مواد افغانستان کے دورافتادہ علاقوں کے عوام میں تقسیم کی جائے گی جہاں پر خوراک کی قلت بتائی جا رہی ہے.


طورخم بارڈر کی بندش کے خلاف مزدور یونین کا دھرنا

مزدور یونین کا دھرنا، اگلا دھرنا طورخم میں دیا جائیگا، مزدوروں کا استحصال برداشت نہیں کرینگے، مقررین
لنڈی کوتل بازار میں تنظیم نوجوانان قبائل اور طورخم مزدور یونین کا مشترکہ دھرنا جس میں سینکڑوں لوگ موجود تھے

دھرنا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین فرمان شینواری، اسرار شینواری، معراج الدین شینواری، مفتی اعجاز شینواری نے کہا کہ طورخم بارڈر عام لوگوں اور بالخصوص مزدوروں کے لئے بند رکھنا ظلم کی انتہاء ہے انہوں نے کہا کہ مزدور کسی معاشرے اور ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں

انہوں نے کہا کہ این ایل سی اور ایف سی نے لوگوں کا روزگار خراب کرکے ہزاروں خاندانوں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دئے ہیں لیکن پھر بھی کچھ مقامی لوگ ان کے ایجنٹوں کا کردار ادا کرتے ہیں

گرفتاریوں کی مذمت

مقررین نے پولیس کی طرف سے بے گناہ لوگوں کی گرفتاری اور گھروں پر چھاپوں کی بھی مذمت کی اور کہا کہ اگر طورخم بارڈر کو عام لوگوں اور مزدوروں کے لئے مزید بند رکھا گیا تو بہت جلد طورخم میں بھی احتجاجی دھرنا دینگے لیکن اپنے مزدوروں کو بے روزگار کرنا برداشت نہیں کرینگے۔

مظاہرین نے اپنے حقوق کے لئے نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ حکومت ان کی فریاد سنے اور ان کے روزگار کے لئے بارڈر پر آنے جانے کی اجازت دے تاکہ غریب مزدور بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کما سکے بعد میں مظاہرین نے لنڈی کوتل پریس کلب تک مارچ بھی کیا۔

Translate »