گل ناز ربانی
ایبٹ آباد

اس دنیا میں تمام اقوام اپنی پہچان کے لیئے مختلف چیزوں کا سہارہ لیتی ہیں ۔ ان میں سے ایک زبان بھی ہے ۔ زبان نہ صرف کسی قوم کی پہچان میں مدد دیتی ہے بلکہ یہ قومی تشخص کو بھی اجاگر کرتی ہے اور یہی شرف ہماری قومی زبان اردو کو بھی حاصل ہے ۔ جس نے پورے عالم میں بحیثیت قوم ہماری پہچان کروائی ۔ مختلف قوموں کی زبانوں کے مل نے سے ایک نئی زبان وجود میں آئی ۔ جن میں ترکی ، عربی اور فارسی کے علاوہ کئی دیگر زبانوں کے الفاظ بھی موجود ہیں اسے اردو کہا جاتا ہے ۔ اردو ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر کے ہیں اس نام سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ زبان کئی زبانوں سے مل کر بنی ہے ۔

چونکہ مختلف قومیں اپنا الگ الگ لشکر بناتی تھیں اور ہر لشکر کی زبان الگ ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ بہت سی زبانوں کا مجموعہ ہے اس لیئے اسے اردو کے نام سے موسوم کیا گیا

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ قومی زبان کا تھا ۔ پاکستان میں بہت سی زبانیں بولنے والے لوگ تھے اس لیئے قومی سطح پر ایک ایسی زبان کے نفاذ کی ضرورت محسوس کی گئی جس پر کسی کو اعتراض نہ ہو اور وہ ہر عام شخص باآسانی پڑھ ، لکھ ، بول ، اور سمجھ سکتا ہو۔ حتیٰ کہ ایک ان پڑھ شخص بھی اس کو سمجھنے اور بولنے کی دوڑ میں شامل ہو ۔


یہ بھی پڑھیں


بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک آزادی کے دور میں ہی محسوس کر لیا تھا کہ اردو ہی وہ واحد زبان ہے جو مسلمانوں کو ایک صف میں کھڑا کر سکتی ہے ۔ اور انہیں بطور قوم ایک الگ پہچان دے سکتی ہے ۔ قائد پاکستان نے خود بھی اردو بولنے کی کوشش کی اور پہلی اردو تقریر بنگال کے مقام پر ایک انتخابی جلسے میں کی جہاں تقریبا انگریزی سمجھنے والے لوگوں کی تعداد پانچ سو تھی اور کم و بیش ایک سے ڈیڑھ ہزار لوگ اردو سمجھنے والے تھے ۔

اردو کی اہمیت کا اندازہ اس انتخابی جلسے کے موقع پر موجود اردو بولنے اور سمجھنے والے لوگوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے ۔ جہاں پر اکثریت اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی تھی ۔ چونکہ قائد اعظم کی یہ پہلی تقریر تھی اس لیئے آپ کو یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ انگریزی زبان میں تقریر کریں اور اس کا ترجمہ بنگالی زبان میں کر دیا جائے گا ۔ لیکن آپ نے اس مشورے کو قبول نہ کیا ۔ اور اردو کو فروغ دینے یا لوگوں کو اردو بولنے کی ترغیب دینے کے لیئے خود اردو میں تقریر کی ۔

قائد اعظم محمد علی جناح کا اردو کے بارے میں پہلا بیان 1942ء میں کچھ یوں تحریر کیا گیا
ْپاکستان کی سرکاری زبان اردو ہی ہو گی
آپ نے آزادی پاکستان ے بعد قومی زبان کے مسئلے کی طرف خاص توجہ مبذول فرمائی ۔ آپ نے 21 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ میں خطاب کیا جسے سرکاری اعتبار سے فرمان کا درجہ حاصل ہے ۔ جس میں فرمایا
میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک آپ کی بنگالی زبان کا تعلق ہے۔ اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ آپ کی زندگی پر کوئی غلط یا پریشان کن اثر پڑنے والا ہے۔ اس صوبے کے لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہو گی۔ لیکن یہ میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو ، اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہی ہو گی۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے 24 مارچ 1948 ء کو ایک اور بیان میں فرمایا
”اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے۔“

تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالنے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بانی پاکستان نے جہاں مسلمانوں کو آزادی دلوانے کے لیئے ان تھک محنت اور کوشش کی وہ کوششیں رنگ بھی لائیں وہیں بابائے قوم نے مسلمانوں خاص طور پر پاکستانیوں کو ایک الگ شناخت اردو زبان کی شکل میں دی اور نہ صرف شناخت دی بلکہ پاکستان کے رائج کردہ سرکاری زبان انہی کی مرہون منت ہے ۔

اس عظیم لیڈر کے ساتھ سانسیں وفا کرتیں تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آج دنیا کی کثیر آبادی جس ذوق و شوق سے انگریزی سیکھ رہی ہے اسی طرح اردو بھی سیکھ رہی ہوتی ۔ مگر افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ قائد اردو زبان کو ترقی دینے کے لیئے جن باتوں کے روادار تھے انہیں ہمارے لیڈروں نے یکسر بھلا دیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم قائد کے فرمودات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اردو زبان کے نفاذ پر غور و فکر کرے ۔ اور یہ قوم کی اولین ترجیح ہونا چاہیئے کیوں کہ یہ واحد زبان ہے جو ہمیں ایک لڑی میں پرونے کا کام کرے گی

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »