جمعہ کے روز سے حزب اختلاف کی اہم جماعتوں نے ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں میں مہنگائی اور حکومتی نااہلی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ،احتجاج کرنیوالوں میں مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی ،جے یو آئی ف سمیت دیگر علاقائی جماعتیں شامل تھیں ،احتجاج کے دوران مظاہرین اور مقررین نے بڑھتی ہوئی بے لگام مہنگائی اور اس پر قابو پانے میں ناکامی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا

بادی النظر میں یہ احتجاج بڑھتے ہوئے عوامی دبائو میں سیاسی جماعتوں کی مجبوری دکھائی دیتا ہے کیوں کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ مہنگائی اور بدانتظامی نے ہر خاص و عام کو بدحال کرکے رکھ دیا ہے ، جبکہ اپوزیشن جماعتیں ٹک ٹک دیم کی عملی تصویر بنی تماشا دیکھنے تک محدود نظر آرہی ہیں ،جنہیں عوامی ردعمل کے نتیجے میں سڑکوں پر آنا پڑا

اب ایک منتشر اپوزیشن حکومت کو اپنی ڈگر پر قائم رکھنے میں کس حد تک کامیاب ہوپاتی ہے اس بارے میں زیادہ خوش گمانیاں کسی بھی سطح پر نہیں پائی جاتی ہیں

اگرچہ حکومت مقامی سطح پر مہنگائی کو عالمی منڈیوں کے اتارچڑھائو سے جوڑ کر خود کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے،
جو ممکن ہے کسی حد تک درست بھی ہو ،کیوں کہ موجودہ وقت میں دنیا کے تمام ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار کے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں ،لیکن اس کے باوجود بہت سے پہلو ایسے ہیں جہاں حکومت کی انتظامی معاملات میں کمزور گرفت واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے


یہ بھی پڑھیں 


دوسری جانب ملک میں موسم سرما کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے ،جو کہ ملک کے دور دراز علاقوں کیلئے مشکل وقت ہوتا ہے ،جہاں لوگ سردیوں کی آمد سے قبل اپنے لیئے راشن کا انتظام کرتے ہیں ،لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی انہیں شدید پریشان کئے ہوئے ہے ،اس کے علاوہ موسم سرما میں حالیہ دو تین برسوں کے دوران گیس اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہونا معمول بن چکا ہے اور اس وقت جبکہ حکومت کو مہنگائی اور اپنی صفوں میں انتشار جیسے چیلنجز کا سامنا ہے وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوپاتی ہے

اس حوالے سے ابھی تک حکومت کی جانب سے نہ تو کسی واضح حکمت عملی کا اعلان کیا گیا ہے اور نہ متعلقہ وزاراء کے بیانات سامنے آئے ہیں کہ اگرکوئی مشکل صورتحال سامنے آتی ہے تو اس سے نمٹنے کیلئے حکومت کے پاس حکمت عملی کیا ہوگی ؟

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے دعویٰ کے مطابق کالعدم تنظیم کیساتھ مذاکرات کامیاب ہوچکے ہیں ،اور وہ اسلام آباد کی جانب مارچ نہیں کرینگے ،البتہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین تاحال سڑکوں پر موجود ہیں

کیوں کہ اس وقت میڈیا سے غائب لیکن زمین پر موجود کالعدم تحریک لبیک کا دھرنا حکومتی اعصاب پر حاوی نظر آرہا ہے ،گذشتہ سال فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے مطالبہ پر احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دینے پر گرفتار ہونے والے تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کی رہائی کیلئے ان کی جماعت کے کارکنان ایک بار پھر سڑکوں پر نکل آئے ہیں
تادم تحریر حکومتی دعوے کے باوجود مذاکرات کی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے

کیوں کہ مظاہرین تاحال سڑکوں پر ہیں اور وہ رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے قدم بقدم دارلحکومت اسلام آباد کی جانب گامزن ہیں ۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد جھڑپوں کے نتیجے میں مارے چکے ہیں اور ابھی تک حالات پر قابو پانے میں ناکام حکومت کیلئے معاملات پریشان کن دکھائی دیتے ہیں
چونکہ اپوزیشن جماعتیں بظاہر ٹی ایل پی اور حکومت کے معاملات سے لاتعلق دکھائی دے رہی ہیں ،اس لیئے اگر دونوں فریقین کے مابین معاملات اگر کسی حد سے آگے بڑھ بھی جاتے تو ہیں اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اپوزیشن جماعتیں اس موقع کو پریشانی اور نااہلی کا شکار حکومت کو گرا کر اسے سیاسی شہادت کا موقع فراہم کریں ۔
اس لیئے دونوں معاملات کو جدا جدا رکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ مہنگائی اور بدانتظامی کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کا کردار محض زبانی حد تک ہی رہے گا عملی شکل کبھی اختیار نہ کرپائے ۔
جہاں تک کالعدم ٹی ایل کا معاملہ ہے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی ایل پی اور اس کی قیادت کو ایک وقت میں منتخب سیاسی حکومت کےخلاف ایک ہتھیار کے طور پر آزمایا گیا ،اور اس وقت موجودہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے بعض قریبی ساتھی تحریک کی کاز کے ساتھ پوری طرح متفق دکھائی دیتے تھے بلکہ اس کاز کیلئے مارنے مرنے کے بیانات آج بھی سوشل میڈیا پر زیرگردش ہیں ،اس لئے بہت سے حلقوں کے نزدیک یہ تحریک جنہوں نے جس مقصد کیلئے تیار کی تھی اب انہی کے گلے کی ہڈی بن رہی ہے تو وہ پرائی بلا اپنے سر کیوں لیں

مہنگائی ،بدانتظامی اور افراتفری میں اپوزیشن خاموش تماشائی

عملی طور پر مہنگائی اور افراتفری نے عام شہری کے اوسان خطا کر رکھے ہیں ،بیروزگاری اور غربت کا عفریت پھن پھیلائے پھنکار رہا ہے لیکن بعض حکومتی وزاراء کے بیانات عوام کو تسلی دینے کے بجائے ان کی حالت زار پرنمک پاشی اور ان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں ۔

البتہ ان تمام حالات و واقعات میں سب سے تشویشناک پہلو کالعدم ٹی ایل پی کا ایک بار پھر اسلام آباد کے گھیرائو کی کوشش کرنا ہے جو کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے ،کیوں کہ کالعدم تنظیم کی قیادت کے معاملات اس وقت عدالت میں زیرسماعت ہیں جبکہ حکومت اس مقدمہ کی بنیادی فریق ہے ،ایسی صورت میں جیسا کہ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی پریس کانفرنس کے دوران تنظیم کے مطالبات پر غور کرنے کا عندیہ دیا ہے اگر حکومت عدالت میں اپنے موقف سے پسپائی اختیار کرلیتی ہے تو یہ اس ملک میں خرابی کی ایک اور اینٹ رکھنے کے مترادف ہوگا

کیوں کہ دھرنوں کے ذریعے اپنے مطالبات کو تسلیم کروانے کی روش ہر اس گروہ کیلئے راہیں کھول دیگا جو آئین و جمہوریت کی بالادستی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ طاقت اور زور کے زریعے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں

اس معاملہ میں ایک طرف وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے زیادہ تر معتمدین کی اخلاقی حالت اتنی مضبوط نہیں کیوں کہ ماضی قریب میں وہ خود بھی یہی سب کچھ کرچکے ہیں اور اس وقت کی منتخب سیاسی حکومت کو سیاسی بلیک میلنگ کا نشانہ بنا چکے ہیں ،اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھی ساکھ اور شہرت کے حامل سیاسی عمائدین کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کیجائے تاکہ ملک میں اس طرح کے آئے روز پیش آنے والے معاملات کا تدارک ہوسکے ۔

Translate »