ثمرین مسکین ۔ ایم اے ۔ اردو ۔ پنجاب یونیورسٹی لاہور

حضرت قائد کی شخصیت مسلمان برصغیر کےلیے ایک نعمت عظمیٰ کی حسین شکل تھے۔آپ نے مملکتِ خداداد کے ہر اہم معاملے پر بڑا واضح موقف اختیار کیا،جیسے پاکستان کو اسلامی جمہوری ریاست قرار دیا اسی طرح پاکستان کی قومی زبان کے بارے میں واشگاف الفاظ میں مسلم لیگ کی کونسل اور پھر پہلی قانون ساز اسمبلی کے فیصلوں کے مطابق اردو ہی کو قومی زبان بنانے پر زور دیا کیونکہ آپ نے تحریک آزادی کے دوران محسوس کرلیا تھا کہ مسلمانوں کو متحد کرنے میں اردو ہی ایک ذریعہ اور مؤثر ہتھیار ہے۔آپؒ نے خود بھی اردو بولنے کی کوشش کی۔

حضرت قائد نے پہلی اردو تقریر بنگال میں کی۔مسلم لیگ کا ایک اجلاس دہلی میں ہورہاتھا سر فیروز خان نون نے اپنی تقریر کا آغاز انگریزی میں کیا لیکن ہرطرف سے اردو ،اردو کے نعرے بلند ہوئے ۔انھوں نے مجبور ہوکر اردو میں تقریر کی لیکن پھر انگریزی ہی بولنے لگے اور ایک بار پھر اردو کے نعرے بلند ہونے لگے اس پر انہوں نے کہا کہ قائد بھی توانگریزی میں تقریر کرتے ہیں ،پھر قائد کھڑے ہوئے اور کہا کہ فیروز خان نے میرے پیچھے پناہ لی ہےلہذا میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی زبان اردو ہوگی۔قائد کے فرمان کے مطابق :اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم مضبوط ہوکر ترقی کرنا ہے تو اسکی سرکاری زبان میری رائے میں اردو ہے،صرف اردو۔۱۹۷۳ء کےآئین میں اردو کو قومی زبان مانا مگر عمل نہ کرپائے ۔

قائداعظم اردو زبان کو قومی اور دفتری زبان کا درجہ دینا چاہتے تھے تاکہ پاکستانی ایک قوم بنیں لیکن افسوس ہم نے حیلے بہانے کرکےقائد کے اس فرمان کو نظر انداز کردیا۔

قائداعظم نے ڈھاکہ کے مقام پر واضح کردیا تھا کہ ملک پاکستان کی سبھی قوموں کے درمیان رابطے کی زبان صرف اور صرف اردو ہوگی کیونکہ کہ پل کا کردار صرف اردو ادا کرسکتی ہے۔کسی قوم کی زبان اسکی تہذیب و ثقافت اور اسکی پہچان ہوتی ہے۔

جہاں تک اردو کو قومی زبان بنائے جانے کا تعلق ہے اس سلسلے میں قائداعظم کے اعلان کو تحریک پاکستان کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے ۔جس کے دوران اردو جو ہندوستان میں مختلف زبانیں بولنے والے مسلمانوں کی مذہبی زبان تھی ،انکے درمیان رابطے کی زبان کے طور پر ابھری تھی۔خود مشرقی پاکستان کےعوام کی مذہبی زبان بھی اردو تھی انہی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے قائداعظم نےکہا تھا کہ اردو جو دس کروڑ مسلمانوں میں پروان چڑھی ہےاپنے اندر اسلامی ثقافت کے بہترین پہلوؤں کو سموئے ہوئے ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست کی ایک زبان کے بغیر کوئی قوم آپس میں بندھی نہیں رہ سکتی اور نہ ہی مل کر کام کرسکتی ہے۔

اردو زبان کے نفاذ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا جہاں پر حکومت وقت کی ذمہ داری ہے وہیں پربحثیت مسلم اور محب وطن ہم پربھی ذمّہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم نفاذ اردو کےلیے ماحول کو سازگار بنانے کےلئے اپنے تئیں اقدامات کریں ۔


یہ بھی پڑھیں


ہمیں بحثیت والد ،استاد اور معاشرے کے فرد کے خود اپنی ذات اور اپنے متعلقین کو اردو زبان کو اپنےروزمرہ معاملات میں استعمال و اختیار کرنے کی ترغیب و دعوت دیں بلکہ اپنی بات اور پیغام کو پہنچانے کےلیے اردو زبان کو ہی استعمال کریں۔

اس بات میں کوئ شک نہیں کہ اردو نے پاکستان کےچاروں صوبوں کے درمیان جن میں سے یہ کسی کی بھی زبان نہیں تھی رابطے کا کام کیا اور آج نے صرف یہ پاکستان کی سیاسی زبان ہے بلکہ میڈیا کی زبان بھی یہی ہے جس کے ذریعے وزیرستان سے لے کر کراچی تک ہر زبان بولنے والے آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

اسکا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اردو ادب بنگلہ دیش میں بھی مقبول ہورہی ہے جہاں پاکستان کے ٹی وی ڈرامے بہت شوق سے دیکھے جاتے ہیں اردو کے بارے میں قائداعظم کے موقف کی حمایت میں اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے؟؟

اقوامِ عالم میں قومی زبان ہمیشہ سےایک حساس موضوع رہا ہے اکثر اقوام اپنی قومی زبان پر فخر کرتی ہیں اور یہ پختہ یقین رکھتی ہیں کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ ترقی کا ایک اہم ذریعہ قومی زبان میں تعلیم ہے۔پاکستان کے عوام بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کی سالمیت اور اتحاد کی ایک اہم علامت قومی زبان ہے۔

قائداعظم جانتے تھے کہ اردو ہی وہ زبان ہے جو مسلمانان برصغیر کو آپس میں جوڑے رکھے گی تمام پاکستانیوں کے درمیان اردو ہی رابطے کا کام کرے گی اس لیے انہوں نے اردو کو نافذ کرنے کےلیے بہت زور دیا۔قائداعظم کی جانب سے اردو کو قومی زبان بنائے جانے کے اعلان پر ڈھاکہ یونیورسٹی کے فزکس کے پروفیسر ابوالکاثم اور خود مسلم لیگ کے رہنما اےکے فضل الحق نے نکتہ چینی کی تھی۔لیکن بعد میں یہ معاملہ ٹھنڈا پڑگیا تھا۔

مسلمانان برصغیر کے اتحاد کا سب سے بڑا ذریعہ اردو تھی یہی وجہ ہے کہ قائداعظم نے قیام پاکستان کے فوراََ بعد واضح کردیا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی۔لیکن برسوں گزر گئے اردو کو اس کا حق نہیں دیاگیا یعنی سرکاری ،دفتری ،عدالتی اور تعلیمی زبان کے طورپر اردو کو نافذ نہیں کیا گیا ۔

دنیا کے اکثر ممالک اپنی قوم کو تعلیم اپنی قومی زبان میں دیتے ہیں ،خاص طورسےابتدائی تعلیم ،جاپان نے شکست کے بعداپنی زبان اور تعلیمی نظام کو برقرار رکھا اور چالیس سال کے اندر عالمی قوت بن گیا ۔

ہمارے لوگ ذہنی غلام ہیں ابھی کل کی ہی بات ہے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان نے میچ جیتنے کے بعد اپنا اظہار خیال اردو میں کیا تو دوسرے دن ٹویٹر پھر پوسٹ پڑھنے کو ملی کہ پہلے پاکستانیوں کو انگریزی بات چیت کرنا سیکھنی چاہیے کہ انڈیا ہار کر بھی انگریزی زبان میں بول رہا تھا اور پاکستانی کپتان جیت کر بھی اردو زبان میں بولا جو کہ شرمندگی کا باعث تھا۔بھلا کیوں شرمندگی کا باعث ہے جب ہماری قومی زبان اردو ہے تو شرمندگی کیوں ؟

جو قومیں اپنے بزرگوں کے فرمودات کو بھلا کر اپنی من مانی پر اتر آتی ہیں مغربی تہذیب کی دلدادہ ہوتی ہیں ایسی قوموں کا نام بھی صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔ہماری شناخت پاکستانی ہے تو اردو بول چال میں بھی ہمیں کسی تکلف سے کام نہیں لینا چاہیے ۔

پورے وقار کے ساتھ بغیر کسی ہچکچاہٹ کی اردو بولنا آنی چاہیے ۔جب پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں تو اردو زبان بھی ہماری اپنی زبان ہے اسے کیوں لاوارثوں کی طرح کونے کھدروں میں ڈال کر انگریزی بولنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اردو زبان کو اتنا عام کیا جائے کہ اگر کسی جلسے میں کوئ انگریزی سے اپنی تقریر کا آغاز کرے تو مجمع میں شور اٹھے اردو،اردو کا۔

بابائے قوم کی بات کی لاج ہی رکھ لی جائے خدارا !اردو کو یتیم بچے کی طرح یتیم خانے میں نہ ڈالا جائے اسے وہی مقام دیا جائے جو قائد نے دیا جو قائد دینا چاہتے تھے ۔اردو زبان کو اتنا عام کیا جائے کہ لوگ انگریزی بولنے میں نہیں اردو بولنے میں فخر محسوس کرنے لگیں ۔

پاکستان میں تعلیم کے فروغ کےلیے قومی زبان میں تعلیم ضروری ہےجب تدریسی قابل فہم ہوگی تو طالب علم نہ صرف مضمون کو سمجھ سکے گا بلکہ اس حوالے سے وہ اپنے خیالات و تصورات کو بہتر انداز میں پیش کرسکے گا۔

طلباء میں اعتماد پیدا ہوگا جب وہ اپنی بات اور اپنا مافی الضمیر کھل کر بیان کرسکیں گے اردو بولتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں گے۔تحریک پاکستان اور حضرت قائد کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی حصول وضوابط کا پیکر عظیم تھی۔آپ کے کردار اور سیرت میں کمال پاکیزگی دیانت ،صداقت بھری تھی۔جبھی توحضرت علامہ نے مسلم قیادت کے ہجوم میں سے صرف آپ کو آزادی و حریت کا پرچم بردار تسلیم کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانان برصغیر کی ناؤ کو کنارے آپ کے سوا کوئی نہیں لگا سکتا۔

کسی بھی شخص کے تصورات و نظریات جاننے کےلیے اسکی ذاتی زندگی کو پرکھنا پڑتا ہے ۔حضرت قائد کے قول و فعل میں یکسانیت پائی جاتی تھی۔ہمیں قائداعظم کے فرمودات کی روشنی میں اردو کی ترقی کےلیے مزید کوششیں کرنی چاہییں ان پر عمل کرنا چاہیے اگر اس پر عمل سے گریز کریں گے تو یہ آزادی کے ثمرات سے محروم رہنے کے مترادف ہے کیونکہ قومی زبان کے بغیر پاکستانی ایک الگ قوم نہیں بن سکتے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »