Spread the love

آزادی نیوز


افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ اسلام آباد میں افغانستان کے سفیر نجیب اللہ علی خیل کی بیٹی کو نامعلوم افراد نے اغواء کرنے کے بعدتشدد کا نشانہ بنایا اور کئی گھنٹے محبوس رکھنے کے بعد انہیں چھوڑدیا گیا جو اس وقت اپنی رہائش گاہ پر واپس پہنچ چکی ہیں

سلسلہ علی خیل کو اسلام آباد کے پوش علاقے سے اغواء کیا گیا ۔

افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ سلسلہ علی خیل اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں ،

وزارت خارجہ نے اس واقعہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے سفارتی عملے کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ حکومت پاکستان سے واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے


یہ بھی پڑھیں 

  1. کوہستان بم دھماکے میں‌9چینی باشندوں‌ سمیت 13 جاں بحق
  2. پاکستان داسو ڈیم منصوبے کی بس پرحملےمیں‌ملوث عناصرکوسخت سزا دے ،چین
  3. طالبان پاکستان کی سرحد پر پہنچ گئے ،سپین بولدک پر قبضہ ،کابل انتظامیہ کی تردید
  4. اسلام آباد ویڈیوسکینڈل کیس میں مزید گرفتاریاں ،نئی دفعات شامل

جبکہ دفترخارجہ کے ترجمان نے اس حوالے سے آج ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی پر گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے حملہ کیا گیا ،تاہم اسلام آباد پولیس مزید چھان بین کررہی ہے اور متعلقہ حکام افغان سفیر اور ان کے اہلخانہ کیساتھ رابطے میں ہیں
انہوں نے مزید کہا افغان سفیر کی سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے ،جبکہ واقعہ میں ملوث ملزمان تک پہنچنے کی پوری کوشش کررہے ہیں

اغواء کاروں کے چنگل سے آزادی کیسے ملی ؟

اسلام آباد پولیس کے ذرائع کے مطابق افغان سفیر کی بیٹی سلسلہ کو جمعہ کی دوپہر ڈھائی بجے کے قریب اغواء کیا گیا اور انہیں شام تقریبا سات بجے چھوڑا گیا

ذرائع کے مطابق خاتون نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ وہ بلیو ایریا میں خریداری کیلئے آئیں ،لیکن واپسی کیلئے وہ جونہی گاڑی میں بیٹھیں ایک شخص ان کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان پر تشدد شروع کردیا ،جس کے نتیجے میں وہ بے ہوش ہوگئیں

اور جب انہیں ہوش آیا تو ان کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے تھے اور انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں ۔بعدازاں انہوں نے کسی طرح افغان سفارتخانے میں رابطہ کیا اورجنہیں ملازم لیکر واپس چلا گیا

البتہ خاتون کا اپنا موبائل فون غائب ہے
جبکہ تھانہ کوہسار پولیس اس حوالے سے مزید تفتیش کررہی ہے ،اور علاقے میں موجود سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مدد حاصل کی جارہی ہے

Translate »