آزادی نیوز


پاکستان طالبان کے قول و فعل یا ان کے اعمال کا ذمہ دارنہیں اور نہ ہی ہم ان کے ترجمان ہیں ،وزیراعظم عمران خان کی افغان صحافیوں کے وفد کیساتھ گفتگو

طالبان کیا کررہے ہیں یا انہیں کیا نہیں کرنا چاہیے ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں،پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے افغان صحافیوں کے وفد کے ساتھ بات چیت کے دوران عمران خان نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ ہم افغانستان میں صرف امن چاہتے ہیں

انہوں نے کہا افغان عوام کے پاس دو راستے تھے ،یا تو وہ امریکہ کی مدد سے فوجی حل کی طرف جاتے یا دوسرا سیاسی افہام و تفہیم کے ذریعے سیاسی حل نکالا جاتا جو پائیدار حل ہے

وزیر اعظم کا کہنا تھا پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین ہیں جن میں زیادہ تر پشتون ہیں جن کی طالبان کے ساتھ ہمدردیاں ہیں ،پاکستان کیلئے یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ وہ ان میں سے ہر ایک پر نظر رکھ سکے ،جبکہ ہر روز کم و بیش 30 ہزار لوگ سرحد کے آر پار آتے جاتے ہیں


یہ بھی پڑھیں

ہمارے ملک میں افغان مہاجرین کیمپوں میں ایک لاکھ سے پانچ لاکھ تک لوگ رہتے ہیں ،اور ہمارے لئے یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ ہم ان میں سے جا کر ڈھونڈ سکیں کہ کون طالبان کا حامی ہے اور کون نہیں ہے

جبکہ حالیہ عرصہ تک دونوں ممالک کے درمیان 2640 کلومیٹر طویل سرحد کی کوئی باقاعدہ نشاندہی نہیں تھی ڈیورنڈ لائن صرف تصوراتی حد تک موجود تھی ۔لیکن اب پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانے کا 90 فیصد کام مکمل کرلیا ہے ،

ہم اپنی جانب سے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں ،لیکن 30 لاکھ مہاجرین کی موجودگی کی صورت میں صرف پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا ممکن نہیں

افغان خانہ جنگی پاکستان کے مفاد میں نہیں

وزیر اعظم کا کہنا تھا اگر افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوتی ہے تو یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا ،اور پاکستان کیلئے یہ کیسے ممکن ہوگا کہ وہ کسی ایک فریق کی حمایت کرے جبکہ یہ بھی واضح ہے کہ کوئی ایک فریق بزور طاقت افغانستان پر قبضہ نہیں کرسکتا


یہ بھی پڑھیں

انہوں نے مزید کہا 90 کی دہائی میں پاکستان نے بھارت کے افغانستان میں رسوخ کو روکنے کیلئے تذویراتی گہرائی کی پالیسی پر عمل کیا ،اس وقت پسند ناپسند کا معاملہ ہوا ۔لیکن خاص طور پر میری حکومت کا یہ نظریہ ہے کہ افغانستان کو کوئی طاقت باہر سے آکر قابو نہیں کرسکتی

اس لئے اب افغان عوام جسے منتخب کرینگے ہم ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں گے ،اب ہماری کوئی پسند یا ناپسند نہیں

افغان سفیر کی بیٹی کا معاملہ ،ثبوت کچھ اور کہتے ہیں

حال ہی میں اسلام آباد میں افغان سفیر کی بیٹی کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا
سیکورٹی اداروں نے اس معاملے کی مکمل چھان بین کی ہے ،جن راستوں اور گاڑیوں پر خاتون نے سفر کیا تھا ان کی تحقیقات کی گئیں ،لیکن بدقسمتی سے سلسلہ علی خیل کی بات اور کیمروں اور تحقیقات سے حاصل ہونے والے شواہد آپس میں کوئی ربط نظر نہیں آتا
وہ کہتی ہیں کہ انہیں ٹیکسی میں ڈال کر لے جایا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا ۔لیکن ویڈیو میں وہ خود گاڑی میں بیٹھتی اور ہشاش بشاش نظر آرہی ہیں
اس حوالے سے پولیس نے مکمل ریکارڈ حاصل کرلیا تھا ،لیکن خاتون کے افغانستان واپس چلے جانے کے بعد ان دعوئوں کی تصدیق ممکن نہیں ہوسکی ،تاہم افغان تحقیقاتی ٹیم کو ثبوت فراہم کئے جائیں گے تاکہ وہ خود سوال جواب کرسکیں

امریکہ طالبان کیساتھ بہتر شرائط پر مذاکرات کرسکتا تھا

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ ناٹو افواج کی ناکامی میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ۔یہ بالکل ویسا ہی ہوا جیسا امریکہ کیساتھ ویتنام میں ہوا تھا ۔اور جب امریکہ وہاں ناکام ہوا تو اس نے اپنی ناکامی کا ذمہ دار کمبوڈیااور لائوس کے مزاحمت کاروں کو ٹھہرا دیا
انہوں نے کہا پاکستان کو کہا گیا کہ طالبان کی قیادت شمالی وزیرستان میں موجود ہے ۔پاکستان پران کےخلاف کاروائی کیلئے دبائو ڈالا گیا ۔چار پانچ سال بعد جب یہ کاروائی ہوئی تو اس کے نتیجے میں دس لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے لیکن اس کا فائدہ کیا ہوا؟

وزیر اعظم نے کہا جب افغانستان میں ڈیڑھ لاکھ ناٹو فوج موجود تھی اس وقت امریکہ طالبان کیساتھ زیادہ بہتر شرائط پر مذاکرات کرسکتا تھا اور یہی درست وقت تھا ۔لیکن اب جبکہ انخلاء کی تاریخ مقرر ہوچکی ہے وہاں چند ہزار فوجی باقی ہیں طالبان کیسے آپ کی بات مانیں گے
انہوں نے کہا پاکستان سے امریکہ اپنا آپریشن جاری رکھتے ہوئے کیا حاصل کرسکتا ہے ؟جبکہ وہ 20 سال تک افغانستان میں موجود رہ کر کچھ حاصل نہیں کر پایا

اگر کوئی مجھے قائل کرلے کہ اس سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے اور افغانستان میں امن آسکتا ہے تو ہم اس پر غور کرسکتے ہیں ۔لیکن اگر وہ 20 سال تک افغانستان کے اندر رہتے ہوئے کامیاب نہیں ہوپائے تو پاکستان میں اڈے ہونے سے انہیں کامیابی کی توقع کیسے ہے ؟

اور اس سے پاکستان ایسے تنازعہ کا حصہ بن جائے گا جس سے اس کا کوئی لینا دینا نہیں ۔جبکہ پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں شامل ہو کر پہلے ہی بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا چکا ہے

پاکستان کے مستقبل کی معاشی حکمت عملی اور افغانستان

ایک سوال کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا میرا ہمیشہ سے یہ موقف رہا کہ افغان صورتحال کا کوئی فوجی حل نہیں ہے پاکستان افغانستان میں سب سے زیادہ امن کا خواہشمند ہے کیوں کہ اس سے ہمارے وسط ایشیا تک رسائی کے راستے کھلیں گے۔

ہماری مستقبل کی چاروں معاشی حکمت عملی کا انحصار افغانستان پر ہے ۔پاکستان اور ازبکستان کے درمیان افغانستان کے راستے ریلوے لائن بچھانے کا معاہدہ ہوچکا ہے

وزیر اعظم نے کہا ہمیں یقین ہے کہ آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید بہتر ہوں گے کیوں کہ ہمیں ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور اسی میں دونوں ممالک کا فائدہ ہے

Translate »