کمال احمد


چین نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ داسو بم دھماکہ کے پس پردہ عناصر کی جلد گرفتاری یقینی بنائی جائے

بدھ کے روز علی الصبح ضلع کوہستان میں داسوڈیم منصوبے پر کام کرنے والے انجنیئرز اور عملے کی بس کو نشانہ بنایا گیا ،جس کے نتیجے میں 9 چینی باشندوں سمیت 13 افراد جان سے ہاتھ دھوبیٹھے

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ژولی جن نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ واقعہ میں ملوث عناصر کو سخت سزا دی جائے اور پاکستان میں چینی منصوبوں پر کام کرنے والے عملے کی حفاظت یقینی بنائی جائے


یہ بھی پڑھیں

  1. کوہستان بم دھماکے میں‌9چینی باشندوں‌ سمیت 13 جاں بحق
  2. طالبان پاکستان کی سرحد پر پہنچ گئے ،سپین بولدک پر قبضہ ،کابل انتظامیہ کی تردید
  3. ضلع کرم میں‌ دہشتگردوں‌ کے ساتھ مقابلے میں‌ افسر سمیت دو جوان شہید
  4. وادی نیلم میں‌ سیلابی ریلے میں‌ میاں‌بیوی جاں‌بحق ،درجنوں‌مکانات بہہ گئے

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر اس واقعہ کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئیں جب ڈپٹی کمشنر کوہستان عارف جاوید نے کہا کہ بس کے انجن میں آگ لگنے کے نتیجے میں بس کھائی میں گر گئی جس کی وجہ سے 36 افرادزخمی ہوئے ہیں

جبکہ اسسٹنٹ کمشنر کوہستان عاصم عباسی کا کہنا تھا کہ بس میں دھماکے کی اطلاعات ہیں ،جس کی ممکنہ وجہ سلنڈر پھٹنا یا گاڑی میں کسی دھماکہ خیز مواد کی موجودگی بھی ہوسکتی ہے جو کہ اکثرتعمیراتی منصوبوں میںاستعمال ہوتا ہے

پاکستان کی وزارت خارجہ نے واقعہ کو تکنیکی خرابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گیس کے اخراج سے دھماکہ ہوا

جبکہ چین نے اسے دھماکہ اور حملہ قرار دیا

پاکستان میں چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں ایک منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنی کے عملے پر حملہ ہوا ہے جس میں چینی شہری بھی مارے گئے ہیں ،بیان میں چینی ادارے کو اپنے حفاظتی اقدامات بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی

سائوتھ چائنا پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت پاکستان کیلئے اہمیت کی حامل ہے ،جہاں اربوں ڈالر کے مختلف منصوبوں پر ہزاروں چینی شہری کام کررہے ہیں ۔

Translate »