شفیق شاہ

وادی نیلم


آزادکشمیر کے ضلع نیلم کے گائوں سالخلہ میں گزشتہ رات گئے کلائوڈ برسٹ(پانڑی بجل )کے نتیجے میں ندی نالے میں طغیانی کے نتیجے میں درجنوں مکانات بہ گئے ۔میاں بیوی ریلہ کا شکار دوبچے شدید زخمی ہوگئے ،علاقے میں پاک فوج ،پولیس مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں

سالخلہ نالہ میں طغیانی کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے مناظر تصویر بشکریہ اشرف نگار آفندی

مقامی صحافی حیات اعوان  کے مطابق آزاد کشمیر لائن آف کنٹرول کے قریب واقع گائوں سالخلہ میں پیر کی رات گئے کلائوبرسٹ کے نتیجے میں سالخہ نالے میں طغیانی اور سیلابی ریلے کی وجہ سے گائوں میں درجنوں مکانات ،گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئے ہیں

جبکہ قاری اکرم ضیاء نامی شخص اپنی اہلیہ کو بچانے کی کوشش میں سیلابی ریلے کی نذر ہوگئے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے،جبکہ اس واقعہ میں قاری اکرم ضیاء کا ایک بھتیجا اور بھتیجی بھی شدید زخمی ہوئے ہیں جنہیں مضظفر آباد سی ایم ایچ منتقل کردیا گیا ہے


یہ بھی پڑھیں

  1. آزاد کشمیر انتخابات ،45 نشستیں‌،701 امیدوار،28 لاکھ ووٹرز،فیصلہ 25 جولائی
  2. قاتل مودی سے ملاقات کرنےوالے کشمیرکے نمائندے نہیں‌،مفادیوں‌کا ٹولہ ہے،آزاد قیادت
  3. عمران خان،موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کشمیریوں سے غداری ہوگی
  4. کشمیر کے الحاق پاکستان کی توانا آواز اشرف صحراٸی چل بسے

دوسری جانب واقعہ کے بعد متاثرہ علاقے میں پاک فوج ،پولیس اور مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں ۔

واضح رہے کہ مذکورہ گائوں لائن آف کنٹرول کے بالکل سامنے واقع ہے ،جو اکثر بھارتی گولہ باری کی زد میں ہے ،جبکہ حالیہ سیلابی ریلے میں بھارتی فوجی چوکیوں سے بھاری مقدار میں گولہ و بارود بھی بہہ کر آچکا ہے جس سے مقامی آبادی کیلئے نیا خطرہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے ،تاہم پاک فوج اس سلسلے میں بھرپور اقدامات کررہے ہیں

نقصانات

گذشتہ رات گئے آنے والے سیلابی ریلے میں اب تک دو افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ محلہ ملک پورہ کے 20 مکانات ،دو گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئے ،جبکہ 15 سے زائد مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے اوروہ ناقابل رہائش ہوچکے ہیں ،اسی طرح درجنوں مال مویشی بھی ریلے میں بہہ چکے ہیں

سیلابی ریلے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کے بعد پاک فوج ،پولیس اور مقامی لوگ امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں تصویربشکریہ حنیف اعوان

سیلابی پانی سے گائوں کو ملانے والی واحد رابطہ سڑک بھی ختم ہوچکی ہے ،جس سے مقامی آبادی کا رابطہ منقطع ہوچکا ہے جبکہ گائوں کو پانی فراہمی کا نظام اور پائپ لائنیں تقریباً ختم ہوچکی ہیں،اس کے علاوہ زرعی زمینوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے

کلائو ڈبرسٹ یا پانڑی بجل

پہاڑی علاقوں میں کڑک دار بجلی کے بعد انتہائی تیز بارش کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں ،جنہیں آسمان پھٹنے سے تشبیہہ دی جاتی ہے ،جبکہ پہاڑی علاقوں میں ایسے واقعات کو پانڑی بجل کہا جاتا ہے ،

عموماًمون سون کے دوران کسی ایک خاص مقام پر اچانک بجلی گرنے سے بادل پھٹنے کے نتیجے میں انتہائی تیز بارش ہوتی ہے ،جس سے پہاڑی علاقوں میں سنگین طوفانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے

جو اگرچہ عام بارشی سیلاب کے برعکس مختصر مدت کی حامل لیکن انتہائی تباہ کن ہوتی ہے ۔جو تیزرفتاری سے راستے میں آنے والی ہر شے کو اپنے ساتھ بہا کرلے جاتی ہے

اس طرح کے متعدد واقعات پاکستان کے مختلف پہاڑی علاقوں میں تواتر کے ساتھ رونما ہوتے رہتے ہیں ،تاہم ضلع مانسہرہ کے علاقے ڈاڈر میں 2001 میں اسی نوعیت کے ایک واقعہ میں 110 سے زائد افراد مارے گئے تھے ،جبکہ ایک پورا گائوں صفحہ ہستی سے مٹ گیا تھا ۔

Translate »