مریم فاطمہ ، بی ایس انگریزی ، گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی بہاولپور

خواب کمخواب کا احساس کہاں رکھیں گے
اے گل صبح تیری باس کہاں رکھیں گے
سر تسلیم ہے خم کچھ نہ کہیں گے لیکن
یہ قلم اور یہ قرطاس کہاں رکھیں گے

قائدِ اعظم محمد علی جناح ایک غیر معمولی آدمی تھے اور ایسا ذہن رکھتے تھے کہانگریزوں کو حیرت میں ڈال دیتے تھے۔ قائدِ اعظم مسلمانوں کیلئے مکمل آزادی چاہتے تھے صرف قطعہ زمین اور دوسرے اثاثے نہیں بلکہ آزاد زبان بھی چاہتے تھے اُن کی دوربینی کے آپ سمجھتے تھے کہ قوم کو متحد اور یکجا رکھنے کے لیے اردو کو قومی زبان کے طور پر نافذ العمل بنایا جائے وہ زبان جسے سمجھنا اور بولنا آسان ہو جس میں خیال اور سوچ کا ابلاغ بھی سہل ہو۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح ایک مفکر تھے انہیں معلوم تھا کہاگر انگریزی کو اردو سے نہ بدلا گیا تو غلامی کی ایک صورت برقرار رہے گی۔

آپ سمجھتے تھے کہ ایک ایسی زبان ہونی چاہیے جو رابطے کی زبان ہو سارے سمجھ پائیں لڑائی جھگڑوں سے بچا جا سکے ۔ ہر صوبے کی الگ الگ زبان تو ہوتی ہے لیکن ایک ایسی زبان ہونی چاہیے جو سب کی مشترکہ ہو قومی زبان خون کی مانند ہوتی ہے جو رگوں میں دوڑتا ہے۔ ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہوتی ہے جیسے ریڑھ کی ہڈی دماغ تک پیغام پہنچاتی ہے اسی طرح قومی زبان بھی آسانی سے پیغام سمجھا سکتی ہے۔

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے


 یہ بھی پڑھیں


ذرا سوچیے خود قائدِ اعظم تو انگریزی کے شکار تھی وہ اگر انگریزی کو اختیار کرتے تو انگریز ان سے کس قدرخوش ہوتے مگر اس عظیم شخص کو مسلمانوں کی خوشی عزیزتر تھی اور وہ چاہتے تھے کہ اس آزاد قوم کی زبان بھی اپنی ہو تا کہ وہ اپنی شناخت اور پہچان رکھ سکے۔ اُن کے علم میں تھا کہ زبان صرف بول چال کی حد تک نہیں ہوتی بلکہ یہ کسی بھی قوم کی ثقافت،معاشرے اور سماج کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

یہ سوچ اور فکر کا نام ہے۔ ایک اور بات جو قائدِ اعظم کے ذہن میں تھی کہ اردو زبان عربی اور فارسی زبان کے خاندان سے ہے۔ ان کے حروفِ تہجی ایک جیسے ہیں اور یہ زبانیں دائیں سے بائیں لکھی جاتی ہیں اسی طرح ان کی فیملی ان سے مختلف ہے جو بائیں سے دائیں لکھی جاتی ہیں۔ اُن کے سامنے ہی تھا کہ انگریزوں نے کس شاطرانہ اندازِ میں فارسی کی اہمیت ختم کر دی اور انگریزی رائج کر دی۔

فارسی جاننے والوں کو بڑے دھارے سے نکال کر بے علم کر دیا گیا یعنی اس حساب سے کہ فارسی كا استعمال نہ کرنے کے برابر ہے یہی تو محاورہ بنا کہ پڑھو فارسی سمجھو قبل۔ مسلمانوں کا سارا ورثہ بھی عربی اور فارسی میں تھا۔ شیخ سعدی کیدانشمندی پر مبنی حکایات اور مولانا رومی کی علمی عظمت مثنوی روم اور باقی سب کچھ حرف غلط کر دیے گئے تب تو پنجابی ادب کی مشہور کتابوں ہیر اور سیف الملوک میں عنوان نامے فارسی میں تھے۔ چونکہ اردو لشکری زبان سے ہے سب کیلئے قابل فہم تھی اسے ایک دم بُہت پذیرائی ملی اس میں اتنا کام ہوا کے اسے مسلمانوں کی زبان کہا جانے لگا۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

قائدِ اعظم محمد علی جناح کے پیشِ نظر یہ سب کچھ تھا کہ اگر اردو قومی زبان ہو گی تو یہ تعلیم کا میڈیم بنے گی دفتری سطح پر رائج ہو گی۔ اس کے باوجود مشرقی پاکستان میں آپ کی اس خواہش کی مخالفت کی گئی مگر قائدِ اعظم اردو زبان کی اہمیت سمجھتے تھی اور اپنی بات پر قائم رہے۔

قائدِ اعظم کے اے ڈی سی عطا ربانی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بنگلہ دیش میں جب قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اعلان کیا کہ اردو زبان قومی زبان ہو گی جبکہ یہ زبان ملک کے صرف 2 فیصد لوگ بولتے تھے 4 کروڑ اسی لاکھ بنگالی اس فیصلے سے ناخوش تھے اور وہیں سے نفرت کا بیج بو دیا گیا یہ ساری شیطانی چال لیاقت علی خان اور اسکی بیوی رعنا لیاقت کروا رہے وہ اپنے مقاصد میں تو کامیاب ہوئے لیکن اس کا خمیازہ ابھی تک بھگتا جا رہا ہے کہ قائدِ اعظم خود تو کچھی اور گجراتی زبان بولتے تھے تو انہوں نے کیوں اردو زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا اس کا جواب ہمیں قائد کے ہی فرمان سے مل جاتا ہے۔

” اردو ہماری قومی و سرکاری زبان ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد اور کامیاب نہیں ہو سکتی”
یہی زبان قوم بناتی ہے ہم آہنگی پیدا کرتی ہے ترقی کا راستہ متعین کرتی ہے۔ قائدِ اعظم کی اردو زبان سے محبت کہ اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:“میں آج آپ پر واضح کر دوں کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور کوئی زبان نہیں۔ اگر آپ کو کوئی اس بارے میں گمراہ کرتا ہے تو وہ پاکستان کا دشمن ہے”
(۲۱ مارچ ۱۹۴۸ ڈھاکہ)

قائدِ اعظم نے ۱۹۴۵ میں بھی مسلمانوں کو کہا تھا کہ ووٹ دیتے وقت زبان کے خانے میں اردو لکھیں۔ دستور ساز اسمبلی میں اردو ہی کو قومی زبان قرار دیا گیا۔ آگے چل کر ۱۹۷۳ کے آئین میں تو باقاعدہ طے ہوا کہ 15 سال بعد اردو زبان کو افسرِ زبان بنا دیا جائے گا۔ اصل میں یہ سازش بُہت گہری تھی کہ انگریزی کو جلسے سے رائج رکھا جائے اور ایک کلاس جو بیوروکریسی تھی اُس نے شاید اسی مقصد کیلئے اس نظام کی اساس بنایا گیا ۔ سول سروس کی تعلیم بلکہ تربیت ساری انگریزی کے زیرِ اثر ہے۔ اس میں ایک تو احساسِ برتری فرعونیت کی حد تک تھا اور وہ عام لوگوں سے فاصلہ ہی رکھنا چاہتے تھے لہٰذا زبان کا فاصلہ اور اجنبیت درمیان میں خلیج کی صورت حائل رہی۔

قائدِ اعظم اردو بول لیتے تھے اُن کی اردو زیادہ سنوری ہوئی تھی وہ کمزوری کے اس احساس کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ قائدِ اعظم کو یہ ہی معلوم تھا کہ ان مسلمانوں کے شاعر اور محسن علامہ اقبال بھی اردو کے عظیم شاعر ہیں۔

۱۹۴۸ میں قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اردو زبان کو قومی زبان قرار دیتے ہوئے حکم جاری فرمایا کہ:
“پندرہ سال کے اندر اندر اردو کو ہر شعبہ زندگی میں انگریزی کی جگہ نافذ کیا جائے۔
کسی بھی قوم کی ترقی و خود مختاری اور اتحاد کے کیلئے ایک مشترکہ قومی زبان ضروری ہوتی ہے۔
اردو برصغیر کی واحد قومی زبان ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔”

شہد و شکر سے شیریں اردو زبان ہماری
ہوتی ہے جس کے بولے میٹھی زبان ہماری

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »