Spread the love

عتیق الرحمان شاہ ، اردو نگر ،ایبٹ آباد


خدائے سخن حضرت میر کو جن حالات سے سابقہ پڑا بدقسمتی سے وہ صبر و تحمل کی حدود سے متجاوز تھے ۔ دلی کے اجڑنے کا منظر دیکھنے کے بعد حضرت میر کا دل زار تاب لا بھی کیسے سکتا تھا ۔ بھلا شہر لٹ رہا ہو ، شہری قتل ہو رہے ہوں ، اناج ، زیورات نوادرات ، ہیرے جواہر کی تلاش میں اہل دلی کے سر قلم کیئے جا رہے ہوں ۔ تو دیکھنے والے کا دل تاب بھلا لا بھی کیوں کر سکتا ہے ؟

تخت طائوس اور کوہ نور اسی لوٹ مار کے نتیجے میں نادر شاہ لے کر گیا ۔ میر صبر و تحمل کے علاوہ صرف ہجرت کر پائے اور وہ کی ۔

آج کے موضوع سخن کی معرفت ذکر میر چھڑ ہی پڑا ہے تو جان لیجیئے کہ حضرت میر آج کے عہد میں ہوتے تو انہیں صبر و تحمل کو تج کر صرف ہڑتال یا دھرنے پر گزارا کرنا تھا ۔ کہ ہجرت کو روکنے کی خاطر سرحدوں پر باڑیں لگ چکی ہیں ۔ آج تو حضرت میر کو ہجرت کا موقع بھی نہ ملتا ۔

ایک اور ستم ظریفی یہ ہے کہ حالات کبھی درست نہیں رہتے ، ملک ہمیشہ ہنگامی حالت میں رہتے ہیں ۔ بحران کبھی نہیں ٹلتے ، انحطاط دائمی مقدر بنا ہوا ہے تو جناب صدر دل تاب لائے بھی کیسے؟

جب ہی تو شاعر کو کہنا پڑا

نظر آتی ہی نہیں صورت حالات کوئی
اب یہی صورت حالات نظر آتی ہے ۔


یہ بھی پڑھیں


ملک شدید بحرانوں میں گھرا رہتا ہے ۔ آپ بھی عمر رفتہ کی ہر ساعت ہماری طرح یہ سنتے پڑھتے آئے ہوں گے کہ حالات بہت مشکل ہیں ۔ کبھی اس مشکل کی کلید ڈھونڈنے والوں کو ایک پارٹی میں حل دکھائی دیتا ہے کبھی دوسری میں ۔ سب ایک دوسرے کو علی الاعلان چور بھی کہتے ہیں ۔ مگر ہجوم نے اپنی من مرضی کے چور پسند کر رکھے ہیں دل زار تاب لائے یا نہ لائے کیا ہو سکتا ہے۔

دل زار تو چاہتا ہے امن و سکون ہو ، پیار و محبت کے نغمے ہوں ، انسان اخلاق و کردار کے مجسم نمونے ہوں ۔ سب کچھ ایک دم سیدھا ہو

مگر دل زار دیکھتا ہے ایک ٹک ٹاکر پوری قوم کو یوم آزادی اور مینار پاکستان جیسے قومی شعائر کو عزتوں کے لٹیروں کے ہاتھوں ذلیل کروا کے رکھ دیتی ہے۔ پاکستان کے اس تشخص پر سوال کھڑا کر دیا گیا جسے دنیا اسلامی تشخص کہتی ہے ۔ دل زار تاب کیسے لائے؟

پڑوس پر سات سمندر پار سے حملہ کرنے حملہ آور پہنچتا ہے تو ہم اس کے چہتے بن کر اسے یہاں شدت پسندی کا بیج بونے کی کھلی چھوٹ دے دیں تو دل زار کیسے تاب لائے ۔

آخر کہنا پڑتا ہے کہ بس بھئی بس ، بہت ہو گیا

ایک عام شہری کی قوت خرید سے جب ضروریات زندگی باہر ہو جائیں ایسے میں کوئی مکروہ دھندوں کی طرف جائے یا خود کشی کرے تو جان لیں کہ اس کا دل زار تاب نہ لا پایا ۔

سماج کے اس تضاد کو بڑی حکمت سے صبر و تحمل کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے ۔ کہ یہی وہ لگام ہے جس سے انسان قابو میں رہتا ہے ۔

صبر کی ایک مزید صبر ناک حقیقت یہ ہے کہ اس کی کوئی حد نہیں ہوتی ۔ اگر حد آ جائے تو صبر نہیں ہوتا ۔ اس لیئے صبر و تحمل برداشت امن اور رواداری کا انتہائی اہم اور بنیادی جزو ہے ۔

میر تو کہہ کر چل بسے کہ بہت ہم نے صبر و تحمل کیا مگر جب یہ سوال حضرت واصف کے سامنے آیا تو عارف عصر نے سائل سے پوچھا ، یہ ہمہ وقت بحرانی کیفیت ، یہ اقتدار کے لیئے غیر انسانی اور غیر اخلاقی حرکات ، یہ مہنگائی ، یہ لوڈ شیڈنگ ، یہ عزتوں کی لوٹ مار ، معصوم بچوں کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات بلا شبہ پریشان کن ہیں ۔ مگر یہ بتائو کہ کیا یہ ہماری وجہ سے ہیں ؟

سائل بولا ہر گز نہیں

عارف نے فرمایا اچھا تو یہ بتائو ہم انہیں حل کر سکتے ہیں ؟
سائل بولا نہیں
فرمایا پھر خاموش ہو کر چائے پیو اور چلتے پھرتے نظر آئو ۔

عرض کا مقصد یہ تھا کہ دل زار صبر کر ہی لے تو بہتر ہے ۔ کہ میر کی طرح ہجرت کا امکان نہیں ۔ کیوں کہ سرحدوں پر باڑ لگ چکی ہے ۔ غالب کی طرح برت لینے کا سلیقہ نہیں ، یاد دہانی کے لیئے عرض ہے کہ لال قلعے کے باہر پہاڑی پر نصب پھانسی گھاٹ پر ایک مہینے میں ستائیس ہزار پھانسیاں دی گئیں تو غالب دلی کے محلے بلی ماراں میں اپنا روزنامچہ مرتب کرتے رہے۔

اقبال کی طرح کہہ دینے کا سلیقہ نہیں کہ اس داعیانہ جذبے کو آہنگ و سلیقے سے بیان کر کے مخلوق کے دلوں کو گرما سکیں ۔

دل زار کو سب سے زیادہ تشویش تب لاحق ہوتی ہے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ ریاست خلاف آئین چلائی جا رہی ہے ۔

ہر ہفتے عدالت عظمیٰ ریاست کو آئین کے مطابق چلانے کی نہ صرف ہدایت کرتی ہے بلکہ خلاف آئین امور کی نشاندہی بھی کرتی ہے ۔خواہ وہ خلاف آئین کام بلدیاتی انتخابات نہ کروانے کی شکل میں کیا جا رہا ہو یا یا بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کی صورت میں ۔

برسبیل تذکرہ اردو کو آئین میں قومی زبان تو کہا گیا ہے مگر اس کا مکمل نفاذ نہیں کیا جا رہا ، ریاست میں مستقبل کی زمام کار دیسی ساختہ انگریزی خوانوں کے ہاتھ میں تھما دینے کی پالیسی نافذ العمل ہے ۔
آئین میں درج حقوق کا معاملہ اس پر مستزاد ہے ۔

کیا دل زار یہ پوچھ سکتا ہے کہ اس انگریزی خوان دیسی طبقے کے ہاتھوں یہ تباہی اور جبر دیکھنے کے بعد بھی اس بات میں کوئی شک باقی ہے کہ انحطاط و زوال کی وجہ قومی زبان کا عدم نفاذ ہے ۔

یہ تو آپ کو بھی معلوم ہو گا کہ زبان ، تہذیب ، اخلاق ، سماج ، ثقافت ان سب میں تال میل نہ ہو تو معاشرے پر ترقی اور فہم کے دروازے نہیں کھلتے ۔ مگر دل زار نیم انگریز اور نیم دیسی کی اس مکسچر ایلیٹ کے سامنے صبر و تحمل کی مکروہ مثال بنا کھڑا ہے ۔ بولنے کا لمحہ آئے تو قصیدے اور کورنش بجا لانے کی نہیں بلکہ حق اور سچ کہنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔

مگر ہو الٹا رہا ہے۔ درباری مائل بہ عروج اور حق گو رو بہ زوال ہیں

اپنا تو یہ کہنا ہے کہ دل زار کی بے تابیاں اپنی جگہ مگر اس کے پاس صبر کے سوا دوسرا راستہ یا تو ہوتا نہیں یا پھر مزاحمت کے خظرناک استعارے کو اپنا جائے ۔

مزاحمت مگر کس کے خلاف؟ ہر ہوس پرست کے خلاف مزاحمت ؟۔ بد اخلاقی اور بے راہ روی کے خلاف مزاحمت؟ ، مہنگائی اور غربت کے خلاف مزاحمت؟ ، جھوٹ اور بہتان کے خلاف مزاحمت ، شدت پسندی اور گمرہی کے خلاف مزاحمت ،

مگر رکیئے
اتنی مزاحمتیں بیدار ہو گئیں تو دل زار کا وہ بنیادی داعیہ جو امن و محبت کا پیامبر چاہتا ہے اس کی جگہ کہاں رہے گی ۔

اس لیئے خدائے سخن سے یہی عرض کریں گے کہ

حضور

جتنا بھی صبر و تحمل ہو چکا اسے جانے دیجیئے
نئے سرے سے صبر کی مشق شروع کیجئے
اور دل زار کو تاب دلایئے

وگرنہ عارف عصر فرما گئے کہ
چائے پیئیں اور چلتے پھرتے نظر آئیں

Translate »