سید عتیق الرحمان شاہ
صدر تحریک نفاذ اردو ، ہزارہ ڈویژن


حضرت داغ نے ڈیڑھ صدی قبل کہا تھا کہ
اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

داغ کے زمانے میں ہو سکتا ہے سارے جہان میں دھوم بھی ہو مگر فی زمانہ اردو کو اپنے دیس میں بھی بقاء کا سوال درپیش ہے ۔ سب سے پہلے یہ یاد رہے کہ اردو کی ولادت طوطی ہند حضرت امیر خسرو کے آنگن میں ہوئی۔ جو محبوب سبحانی حضرت سید نظام الدین اولیا دہلوی رحمہ اللہ کے خلیفہ خاص اور شہنشاہ سلطان شمس الدین التمش کے پیر بھائی تھے ۔

حضرت خسرو نے فارسی اور عربی کے ہندوستانی زبانوں سے اختلاط کے نتیجے میں ایک نئی زبان کو ذریعہ اظہار بنایا جو آگے چل کر ریختہ اور اردو کہلائی۔ اردو کی جنم جنم بھومی ہندوستان ہے جس نے آج کل اردو سے قطع تعلقی اختیار کر رکھی ہے۔ ہندوستان ریختے کو دیوناگری رنگ دے چکا ہے ۔

ہندوستان نے جس جدت کو اختیار کیا اس میں ایک رومن اردو بھی ہے ۔ نواب داغ دہلوی نے تو کبھی یہ سوچا بھی نہ ہو گا کہ تخت دہلی کے ورثاء کو ان کا کلام اس رسم الخط میں پڑھنا پڑے گا جسے خود داغ نے کبھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا ، جسے فرنگی کی زبان کہا اور سمجھا جاتا تھا وہ اب ہندوستان کی اردو کا روپ دھار چکی ہے ۔ میری مراد رومن اردو سے ہے ۔

تقسیم ہند کے بعد صرف پاکستان وہ خطہ رہ گیا جہاں اردو زبان کو قومی زبان سمجھا گیا ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اردو مسلمانوں کی اولین زبانوں یعنی عربی ، فارسی ، ترکی اور ہندوستان کی مقامی زبانوں کے امتزاج سے وجود میں آئی تھی اور یوں اس کے اندر ایک ہزار سالہ تہذیبی سرمائے کا جوہر الفاظ کی صورت میں منتقل ہوتا رہا ۔ یہ تہذیبی و ثقافتی اور علمی سرمایہ اگرچہ فارسی اور عربی میں موجود تھا مگر حروف تہجی کی رعایت سے ہمارے لیئے اس کا فہم حاصل کرنا آسان تھا ۔


یہ بھی پڑھیں


یعنی فارسی یا عربی پڑھنے کے لیئے اردو دان کو کسی اضافی محنت کی ضرورت نہ تھی ۔ حروف تہجی کے تفردات اپنی جگہ مگر لکھے ایک ہی طرح جاتے ہیں ۔ اے کو پڑھنے والا الف کو نہیں پڑھ سکتا ۔ اسے نئے سرے سے ایک اور قسم کے حروف تہجی سیکھنے کی ضرورت ہو گی ۔ جب کہ اردو یا فارسی یا عربی پڑھنے والا الف کو دیکھتے ہی شناخت کر سکتا ہے ۔

آگے بڑھنے سے پہلے تہذیبی سرمائے کو مثال سے سمجھنا پڑے گا ۔ شعرو ادب میں فردوسی کا شاہ نامہ ، مثنوی مولانا روم ، سعدی شیرازی کی گلستان و بوستان ، یا عربوں کی الف لیلیٰ ، سبع معلقات، یا پھر علم کی دنیا میں غزالی کی کیمیائے سعادت یا خوارزمی کی الجبر والمقابلہ ، یا جابر بن حیان کی الکیمیا ، یا البیرونی کی کتاب الہند ، یا عمر خیام کی رباعیاں یہ سب کچھ ہمارا تہذیبی سرمایہ ہے ۔

ان کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے مگر یہاں صرف انہی پر اکتفا کرتے ہوئے بات کو آگے بڑھاتے ہیں ۔ یہ سب سرمایہ ہی اردو کا اصل خمیر ہے ۔ ہندوستان میں جب عربی اور فارسی کے اثرات پہنچے تو نتیجے میں اردو کا ظہور ہوا ۔ یہ ظہور راتوں رات نہیں ہوا بلکہ ابتدائی ایام میں کھڑی بولی اور ہندوی سے ریختہ تک کا سفر طے کرنے کے بعد یہ اردو معل٘یٰ کہلائی۔

حروف تہجی عربی سے مقامی ضرورت کے مطابق فارسی اختیار کر کے انہی کو اردو میں استعمال کیا جانے لگا

ہندوستان میں جب اردو کا طوطی بولا تو غالب اور داغ پیدا ہوئے بلکہ یوں کہیئے کہ غالب سے اقبال تک سب کا طوطی اردو میں بولتا تھا ۔ جس زبان کو غالب اختیار کرے اس کی دھوم تو مچے ہی مچے ۔ کتنی ستم ظریفی کی بات ہے کہ غالب کی غزلیں آج کلکتہ اور دہلی میں رومن اردو میں لکھی جاتی ہیں ۔ ہندوستان نے تو اردو کو مسلمانوں کے تہذیبی ورثے کی حامل زبان ہونے پر لاوارث چھوڑ دیا ۔ جب کہ پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر ہندوستان کی اردو دشمنی تو سمجھ میں آنے والی چیز ہے مگر پاکستان میں اردو دشمنی کا رویہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔

اردو کو بانی پاکستان نے قومی زبان قرار دیا تو اب یہ احساس پیدا ہونے لگا کہ پاکستان اگر ایک قوم کی شکل میں سامنے آیا تو اس کا مقابلہ کرنا بہت مشکل ہو گا۔ دشمنان پاکستان نے قوم کو منتشر گروہوں میں تقسیم کرنے اور حکومت کرنے کی پالیسی اپنائی۔ اس میں انہیں سب سے موثر ہتھیار زبان کی شکل میں ملا۔

سب سے پہلے مقامی بولیوں کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا گیا اور پھر جب رائے منقسم ہوئی تو اوپر سے انگریزی مسلط کر دی گئی ۔ اس کھیل کو سمجھنے کی کوشش کریں تو بہت آسانی سے اس کے سقم پکڑے جا سکتے ہیں ۔ وہ یوں کہ اردو کے خلاف مقامی زبانوں کے تحفظ کی آڑ میں ہزرہ یا سرائی کی جاتی ہے ۔

سندھی ، بلوچی ، پشتو ، پنجابی کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر کے ان کی گردن میں انگریزی کا طوق ڈالا ہوا ہے ۔ بخدا اردو کا تحفظ پشتو ، بلوچی ، سندھی اور پنجابی یا سرائیکی وغیرہ کی حفاظت کا ضامن ہے ۔ وہ یوں کہ ان سب کے حروف تہجی میں مماثلت ہے

اقبال نے اپنے آفاقی پیغام کو اردو کے قالب میں پیش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اردو ایک پوری تہذیب کی نمائندگی کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

قوم جن مشترکہ عناصر سے معرض وجود میں آتی ہے ان میں سب سے مؤثر عنصر زبان ہے ۔ یوں تو مسلمانوں کے درمیان اسلام ایک قدر مشترک تو موجود ہے مگر زبانوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے ہم سب ایک دوسرے کے خیالات و جذبات اس وقت تک سمجھ نہیں پاتے جب تک انہیں اردو میں پیش نہ کیا جائے۔ اگر زبان ایک ہو گی تو ایک دوسرے کے درد کا احساس کہیں زیادہ ہو گا ۔ پاکستان الحمدللہ ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے ۔

مگر جب یہاں ایک مسلمان اپنا درد پشتو میں بیان کرے گا تو اسے پنجابی یا سندھی بولنے والا نہیں سمجھ پاتا ۔ اگر بلوچ اپنے مسائل اردو میں سمجھائے گا تو پورے ملک کو اس کی بات سمجھ میں آئے گی ۔ پاکستان اگر اکٹھے رہنے کے لیئے بنایا تھا تو ناگزیر تھا کہ یہاں ایک ایسی مشترکہ زبان ہو جو ہمارے تہذیبی ورثے کو سنبھال سکے ۔ تب ہی مشترکہ تہذیب بن سکتی تھی ۔ اس کا حل بانیان پاکستان نے اردو کی شکل میں جو تجویز کیا تھا آج بھی حل صرف یہی ہے ۔ اس لیئے نفاذ اردو میں تاخیر قوم کے خلاف اور ہماری مشترکہ تہذیبی اقدار کے خلاف اغیار کی سازش کہنا غلط نہ ہو گا۔

زبان اپنے تحریری سرمائے اور بولنے والوں کی بدولت زندہ رہتی ہے ۔ بولنے اور لکھنے والے زبان کی نشو نما کرتے ہیں ۔ جس نے پاکستان کی کسی بھی مقامی زبان میں لکھا اس نے اردو کے حروف تہجی ہی استعمال کیئے ، معمولی فرق کے ساتھ یہ سب کے لیئے پڑھے جانے کے قابل ہے ۔ جیسے ایک اردو پڑھنے والے کے لیئے قرآن مجید پڑھنا آسان ہے ۔ یہ بات کیا اردو کے لیئے کم اعزاز کی بات ہے کہ اردو میں وہ تمام حروف تہجی استعمال ہوتے ہیں جو قرآن مجید میں استعمال ہوئے ۔ اب اگر ہم یہ کہیں کہ اردو ہمارے ہاں قرآن پڑھنے کے لیئے بھی ضروری ہے تو یہ بات غلط نہ ہو گی ۔

اپنی قومی زبان اردو کے ساتھ یہاں کیا کچھ کیا گیا یہ جاننے کے لیئے تاریخ سے رجوع کیا جائے تو صورت حال تشویشناک معلوم ہوتی ہے۔

اپنے دیس میں اجنبی اردو

پاکستان کے ہر آئین نے اردو کو پاکستان کی قومی زبان تسلیم کیا ۔ ہر پارلیمان نے جس آئین کے تحت حلف اٹھایا اس آئین میں قومی زبان اردو کو قرار دینے کے باوجود اعلیٰ افسران کی تقرریوں میں قابلیت کا معیار انگریزی رہی ۔ یہاں اس غلط فہمی کو دور کر لینا چاہیئے کہ نفاذ اردو کا مطالبہ انگریزی کے خلاف کوئی تحریک ہے ۔ ہر گز نہیں ۔

ہم نہ انگریزی کے دشمن ہیں نہ کسی اور زبان کے ۔ ہم تو اپنے صدیوں کے تہذیبی سرمائے کی حفاظت چاہتے ہیں اور اپنی نسلوں کو اس تہذیبی ورثے کی میراث دینا چاہتے ہیں ۔ انگریزی بہت اچھی زبان ہو گی مگر اس کا مناسب مقام انگلستان ہے پاکستان نہیں۔

انگریزی کا تہذیبی اور ادبی و ثقافتی سرمایہ ہماری ضروریات پوری نہیں کرتا ۔ ہمارے بہت سے معمولات اور اقدار انگریزوں سے بلکل جدا ہیں ۔

ایک مثال سے سمجھیں ۔ حیا کا لفظ آپ اور ہمارے اذہان میں جو مفہوم دیتا ہے کیا آکسفورڈ کی انگلش ڈکشنری میں ایسا کوئی لفظ آپ بتا سکتے ہیں جو حیا کا ہی مفہوم اپنے اندر رکھتا ہو ۔

کیوں کہ حیا ہماری تہذیبی قدر ہے ۔ان کی نہیں ۔ اسی طرح نماز بھی ہماری تہذیبی قدر میں ڈھل چکی ہے ۔ روزہ ، نماز حج اور زکوٰۃ کے علاوہ ہماری عبادات کے تمام اجزاء کا کوئی انگریزی متبادل نہیں ۔ پریئر دعا کا مفہوم رکھتی ہے نماز کا نہیں ۔ فاسٹ بھوکے رہنے کا مفہوم دیتا ہے روزے کا نہیں ۔ پلگریمیج مذہبی اکٹھ یا یاترا کا تصور دیتا ہے حج کا نہیں ۔ جب کہ انگریزی کے تسلط سے خطرہ ان مفاہیم کے بدلنے کا ہے اس لیئے ہم سمجھتے ہیں کہ اردو کو صحیح معنوں میں نافذ کر کے پہلے اس ہجوم کو قوم بنا جائے اور پھر اگلی منازل کا سفر شروع کیا جائے۔

زبان کی ترویج میں ایجادات کا اہم اور مسلمہ کردار

زبان کا پھیلائو اور تسلط و غلبہ علم اور تحقیق کے میدان میں ہوتا ہے ۔ نت نئی اشیاء کے دریافت کنندگان ان اشیاء کو اپنی زبان کا کوئی نام دیتے ہیں ۔ اس طرح زبانیں پھیلتی ہیں ۔

کیمیا کے پیریاڈک چارٹ میں موجود دھاتوں کے سب نام لاطینی میں ہیں ۔ کیوں کہ فارمولے بنانے والا لاطینی تھا ۔ ظاہر ہے اٹلی کا باشندہ جاپانی میں تو نام نہیں دے سکتا تھا ۔ غور کیجیئے کہ اگر عناصر کو علامتیں کسی عرب نے دی ہوتیں تو ہائیڈروجن یا نائیٹروجن کا نام وہی ہوتا جو لاطینی نے دیا؟

سوڈیم کا نام انگریزی تھا مگر اس کو نائیٹریم ہی کے نام سے شناخت ملی ۔ چاندی یا سلور کو کو آرجینٹم کا لاطینی نام ہی کیمیا میں راس آیا ۔ سونے کو انگریزی میں گولڈ کہتے ہیں مگر کیمیا میں وہ آرم ہی معروف ہے کیوں کہ ان عناصر پر تحقیق اور ان کی شناخت کر کے اسے علمی دنیا میں متعارف کروانے والا لاطینی تھا ۔

اردو کے لیئے بھی ضروری ہے کہ اس زبان میں علمی اور تحقیقی کام ہو تو یہ زبان پھیلتی رہے گی ۔ نفاذ اردو کے لیئے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس زبان میں زیادہ سے زیادہ سائنسی تحقیقات سامنے آئیں ۔ سائینس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اگر اردو میں تحقیقات کو فروغ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اردو دنیا کی سب سے بڑی زبان نہ بنے ۔ اردو صلاحیت رکھتی ہے کہ اسے دیگر زبانوں پر فوقیت ملے

2 thoughts on “نفاذ اردو میں مجرمانہ تساہل ! آخر کب تک؟”

Comments are closed.

Translate »