شیریں پرشم ابو ظبی

آج جیسے ہی کیفے کا دروازہ کھلا مجھے نجانے کیوں ایسا محسوس ہوا کہ بس آج انتظار کی گھڑیاں ختم ہو گئی ہیں۔ ویسے تو مرد کی نظر ہمیشہ جگر صاحب کی حامی دکھائی دیتی ہے کہ ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں لیکن خوب اس وقت خوب تر بلکہ خوب ترین ہو جاتا ہے جب خود لفٹ کروا دے ورنہ نظر ٹھہر بھی جائے تو نظارہ نہیں ٹھہرتا۔

میں نے ٹم ہرٹنزمیں بیٹھےاسے شیشے کی دیوار سےباہر دیکھا۔اسے دیکھتے ہی دل کا دھڑکنا تو یاد نہیں البتہ بائیں آنکھ زور زور سے پھڑکنے لگی۔

شانوں پر شولڈر کٹ سیاہ زلفیں ،براؤن چشمہ،نیوڈ لپ اسٹک، گولڈن رخسار،لیدر کا بیگ،بلاک ہیل کی وھائیٹ سینڈل،بلو جینز کے ساتھ اسکن کلر کی پھولدار شرٹ میں وہ چلتا پھرتا بیوٹی پارلر معلوم ہو رہی تھی۔

جیسے ہی وہ دروازہ کھول کر اندر کیفے میں داخل ہوئی میں نے بھی اپنی ڈارک براؤن گلاسز اٹھا کر پہن لیں تاکہ اسے خوب دیکھ سکوں۔

وہ میرے سامنے والی سیٹ پر براجمان ہو گئی۔ اس نے اپنا۔چشمہ آنکھوں سے اتار کر سر پر رکھ لیا اور اپنے بیگ سے آئینہ نکال کر ایک نظر خود پر ڈالی اور کیپی چینو کا آڈر دیتے ہوئے آئینہ بیگ میں رکھ کر موبائل نکال لیا۔ میرے کپ میں کافی ختم ہو چکی تھی لیکن میں غیر ارادی طور پر پینے کی اداکاری کر کے خود کو مصروف ظاہر کر رہا تھا۔

اس نے ایک اچکتی نظر پورے ہال پر ڈالی اور پھر موبائل دیکھنے لگی۔اپنے حلیے سے وہ کافی امیر دکھائی دے رہی تھی اسے دیکھ کر میں نے جیسے ہی خالی کپ کی چسکی لگائی میرے منہ میں پانی بھر آیا۔

میں بھی اپنے موبائل میں مصروف ہونے کی اداکاری کرنے لگا۔ سورج میاں کچھ وقت پہلے تو سروں کے اوپر تھے اچانک کیفے کی شیشے کی بیرونی دیوار سےسر چڑھ کر بولنے لگے۔اور ہماری گھڑی کے شیشے سے سامنے بیٹھی امیر زادی کی آنکھوں پر شرارت کی مہر ثبت کر کے لطف انذوز ہونے لگے۔

یہ بھی پڑھیں

ہماری نظر پڑی تو ہم انجان بن گئے۔ بھئی اگر یہ روشنی اسی بہانے ہماری بات کروا دے تو اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔۔۔۔

اس نے پہلے تو میری طرف۔غصے سے دیکھا اس کی بھی دوسری نظر۔میں غصہ نہیں تھا وہ پریشان ہو کر کبھی ادھر منہ کرتی کبھی ادھر ڈر تھا کہ بلانڈز بند کرنے کا نہ کہہ دے ۔۔اور نہیں کہا۔۔۔۔

وہ دکھنے میں بس ٹھیک شکل و صورت کی مالک تھی لیکن نارمل چیز کی پیکنک بہت اچھی کی گئی کے مترادف تھی۔

آخر مجبور ہو کر اس نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا ایکسکیوزمی۔۔

میں نے سنی ان۔سنی کرکے دل میں سوچا چاند میاں تو سب کے ماموں ہیں آج سے سورج میاں ہمارے چچا میاں ہیں.

اس نے دوبارہ کہا ایکسکیوزمی۔۔

ہم نے بھی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔وہ اٹھ کر میرے پاس آئی اور میز کوتھپتھپایا۔میں نے چونکنے کی اداکاری کی اور کہا جی پلیز ہیو آ سیٹ۔۔۔اپنی ہی ٹیبل سمجھیں کیا لیں گی آپ کافی یا۔۔۔۔۔میں نے موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا

اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا
آپ کی گھڑی کا شیشہ مجھے تنگ کر رہا ہے۔میں نے حیران ہونے کی اداکاری کی ایک نظر گھڑی کو دیکھا ایک نظر سے اسے دیکھ کر کہا۔سوری مجھے پتہ نہیں چلا۔وہ مجھے مبہوت دیکھ کر خجل سی ہو گئی اور واپس اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئی۔

دوبارہ اس کی آنکھوں میں شیشے کا عکس تڑا تو وہ گھرنے لگی۔اس بار میں اٹھا اور اس کی ٹیبل کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گیا اور خوب معذرت کی اتنی کہ وہ تنگ آگئی۔میں نے اسی بات پر لطیفہ سنا ڈالاوہ ہنسنے لگی اور بولی کہ کافی دلچسپ انسان آدمی لگتے ہیں۔

میں نے کہا اجی دلچسپی باتوں میں کہاں دلچسپی تو سننے والے کانوں میں ہوتی ہے اس پر وہ اور کھل کھلا کر ہنسی۔

میں نے ہم دونوں کے لیے دوبارہ کیپی۔چینو منگوائی۔ باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس نے پوچھا آپ کی فیملی۔۔۔۔۔اور بات میرے مکمل کرنے کے لیے چھوڑ دی۔میں نے کہا جی میں یہاں اکیلا ہوں۔بس والدین ہیں اور وہ یہاں نہیں ہوتے ہیں۔

میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ ایک کمپنی کی مالک ہے اور آج کل سنگل ہے۔اس کے والدین اور بہن۔بھائی بھی دوسرے ملک میں تھے۔

ہم ملاقاتیں بڑھ گئیں اور نوبت شادی تک آگئی۔ہم نے والدین کو بلوایا اور شادی کر لی۔
شادی کر کے اچھا لگا میں کمپی کا مالک تھا اور وہ اکلوتے شوہر کی۔

میں ایک آزاد۔خیال انسان تھا اسے میری یہ عادت ذرا نہ بھاتی اور مجھے اس کی روک ٹوک۔آہستہ آہستہ شادی بربادی میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔باہر عورتوں سے میری۔دوستیاں تھیں جو مزید بڑھ گئیں۔
ایک دن ہم دونوں میں گھمسان کی جنگ ہوئی میں باہر نکل گیا دو دن بعد گھر لوٹا تو اس نے اپنا فیصلہ سنا دیا
اسے ایک تنہا مرد چاہیے تھا اور مجھے دولت۔مند لڑکی ۔۔۔۔۔

اسے سوچنا چاہیے تھا کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں عورتیں مرد کو کب تنہا چھوڑتی ہیں اور مجھے سوچنا چاہیے تھا کہ اپنے ہاتھ کی کمائی میں برکت ہوتی ہے۔جو عورتیں تنہا مرد ڈھونڈتی ہیں وہ خود ساری عمر تنہائی کا شکار رہتی ہیں۔

انہیں کون سمجھائے تنہائی مردوں کے لیے نہیں بنی مرد تنہائی کے لیے بنے ہیں۔ لیکن یہ سب باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہیں ۔
سارے خربوزے پھیکے تھوڑی ہوتے ہیں ۔۔۔۔امید پر دنیا قائم ہے۔

آج پھر ہم۔دونوں ٹم ہرٹنزمیں اپنی اپنی ٹیبل پربیٹھے ہیں۔پہلی ملاقات کی طرح آج بھی ہم میں کوئی تعلق نہیں
وہ میری پیٹھ پیچھے پیٹھ کیے بیٹھی ہے اور میں اس کی۔اس کا منہ مشرق کی ظرف ہے میرا مغرب کی طرف۔۔۔ وہ اپنے شکار کے لیے تروتازہ ہے میں اپنےشکار کے لیے تازہ دم۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی نے ٹھیک کہا ہے گریٹ مائنڈز تھنک آلائیک۔

Translate »