زمرہ دوم ، موضوع :  قائد اعظم کا تصور قومی زبان

جلیل احمد

قائد اعظم جو کہ پاکستان کے بانی ہیں اور انھوں نے الگ وطن کے لیے دن دگنی رات چگنی کوشش کی اور ان کی ان کوششوں کی بدولت ہم ایک الگ وطن میں آزادانہ اور اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں ایک پاکستان اور حضرت قائداعظم کی زندگی کےمطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی زندگی اصول وضوابط کا پیکرعظیم تھی۔

آپ کے کردار اور سیرت میں کمال پاکیزگی،دیانت و صداقت بھری تھی ۔ جبھی تو حضرت علامہ نے مسلم قیادت کے ہجوم میں سے صرف آپ کو آزادی و حریت کا پرچم بردار تسلیم کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانان برصیغر کی نائو کو کنارے آپ کے سوا کوئی دوسرا نہیں لگا سکتا۔ کسی بھی شخص کے تصورات و نظریات جاننے کے لئے اس کی ذاتی زندگی کو پرکھنا اور اجتماعی رویوں کو دیکھنا پڑتا ہے۔

حضرت قائد کے قول و فعل مں جتنی یکسانیت پائی جاتی ہے اس دور کا کوئی ہندو مسلم سکھ عیسائی رہنما اس پائے کا باکردار اور اعلیٰ اوصاف نہیں ملتا۔ حضرت قائداعظم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے برصغیر کے کونے کونے میں بکھرے مختلف نسل رنگ اور زبان رکھنے والے مسلمانوں کو ایک لڑی مں پرو کر ایک مضبوط اور باوقار قوم کی شکل میں ڈھال دیا۔

پھر ان کی ایسی لام بندی کی کہ ہندو انگریز گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے۔ یقیناً یہ محمد علی جناح کا مدلل اور مضبوط مؤقف ہی تھا جس کے سامنے تاج برطانیہ اور راج برہمن مسلمانوں کو علیحدہ خطہ وطن دینے پر مجبور ہو گئے۔ آپ کی شخصیت کا طلسم تھا کہ لاہور میں مسلم لیگ کے جلسے میں حضرت قائد تقریر فرما رہے تھے اور قصور سے آئے ایک بزرگ غور سے سُن رہے تھے جب اس بابے سے پوچھا کہ قائداعظم کیا کہہ رہے ہیں تو وہ بزرگ برجستہ بولا معلوم نہیں کیا کہہ رہے ہیں مگر یقین ہے کہ حق اور سچ کہہ رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ کراچی ساحل سمندر پر بیٹھے عمر رسیدہ شخص سے منسوب ہے وہ کہہ رہا تھا (کسی کو اپنی زمین
کا ایک چپہ الگ کرنے نہیں دے سکتا مگر قربان جائوں اپنے قائد پر جس نے پورا ملک ہندو بنئے سے بٹوا لیا)۔

حضرت قائد کی عظمت و فراست کو ان کے عہد کے ہر بڑے چھوٹے انسان نے تسلم کیا ۔صرف ہندوستان میں موجود قیادت نے ہی نہیں اس دور کے ہر بڑے انسان نے آپ کی فہم و فراست، دیانت و استقامت پر خراج عقیدت ضرور پیش کیا ۔

لوگوں نے جو کہا سو کہا حضرت قائداعظم ایک موقع پر اپنے یقین  اور ایمان کے بارے میں خود ارشاد فرماتے ہیں’’مسلمانوں میں نے دنیا کو بہت دیکھا، دولت، شہرت، عش و عشرت کے بہت لطف اٹھائے، اب میری زندگی کی واحد تمنا یہ ہے کہ مسلمانوں کو آزاد اور سربلند دیکھوں۔

میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو یقین اور اعتماد لے کر مروں کہ میرا ضمیر اور میرا خدا گواہی دے رہا ہو کہ جناح نے اسلام سے خیانت اور غداری نہںں کی۔ میں آپ کی داد اور شہادت کا طلبگار نہیں ہوں میں چاہتا ہوں کہ مرتے دم مرا اپنا دل ایمان اور ضمیر گواہی دیں کہ جناح تم نے مدافعت اسلام کا حق ادا کر دیا۔ جناح تم مسلمانوں کی حمایت کا فرض بجا لائے۔ میرا خدا یہ کہے کہ بیشک تم مسلمان پیدا ہوئے اور کفر کی طاقتوں کے غلبے میں علم اسلام کو سربلند رکھتے ہوئے مسلمان مرے۔

یہ بھی پڑھیں

اُردو زبان ہندوستان میں مسلمانوں کے شاندار اور تابناک ماضی کی آئینہ دار بھی تھی اور پاکستان میں مسلمانوں کے روشن اور خوش کن مستقبل کا اظہار بھی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قائد کے فرامنں کی روشنی میں اس زبان کو اس کے جائز مقام کے اعتبار سے اہمیت دی جائے۔

قائداعظمؒ نے مختلف مواقع پر اردو زبان کی اہمیت ،افادیت اور اس کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے ،جو ارشادات فرمائے اُن میں سے چند فرمودات بالترتب ذیل میں درج ہیں۔

۱۹۴۲ء کو قائد اعظم نے ”پاکستان مسلم انڈیا “ دیباچے میں لکھا ہے کہ :

”پاکستان کی قومی سرکاری زبان اُردو ہی ہو گی“
4
قائد اعظمؒ نے 10 اپریل 1946ء کو اپنے آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس ،دہلی مں فرمایا :۔
”میں اعلان کرتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی“

جسے سرکاری اعتبار سے فرمان کا درجہ حاصل ہے۔ جلسہ عام ڈھاکہ 21 مارچ 1948ء میں قائد اعظمؒ نے خطاب میں کہا تھا کہ :
”میں آپ کو صاف صاف بتا دوں کہ جہاں تک آپ کی بنگالی زبان کا تعلق ہے۔ اس افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ آپ کی زندگی پر کوئی غلط یا پریشان کن اثر پڑنے والا ہے۔ اس صوبے کے لوگوں کو حق پہنچتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ اس صوبے کی زبان کیا ہو گی؟ لیکن  میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو ، اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ جو کوئی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے۔ دوسرے ملکوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجئے ۔ پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ اردو ہی ہو گی۔“

مارچ 1948ء کا ہے اسے بھی سرکاری اعتبار سے فرمان کا درجہ حاصل ہے۔ جس میں قائد اعظم ؒ نے فرمایا:۔

”اگر پاکستان کے مختلف حصوں کو باہم متحد ہو کر ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونا ہے تو ان کی سرکاری زبان ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ میری ذاتی رائے میں اردو اور صرف اردو ہے۔“

قائد اعظم محمد علی جناحؒ دور اندیش راہنما تھے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز مں اردو زبان کی قومی اور سرکاری اہمیت اور حتک کو سمجھا اور اسے اس کا جائز مقام دینے، اس کی افادیت کو تسلیم کرنے کے احکامات جاری کیے

5

انہوں نے اردو زبان کے شاندار ماضی کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور مستقبل میں اس زبان کے فکری اور معنوی پھیلاؤ کو اپنی چشمِ تصور سے ملاحظہ کرتے ہوئے اسے پاکستان کی یگانگت ، اتحاد ، اور یک جہتی کی علامت قرار دیا۔

قائد اعظمؒ کا کردار اور اُردُو کے عملی نفاذ کی صورت:۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ کراچی مں پیدا ہوئے, لیکن ان کے بزرگوں کا تعلق جنوبی ہند کے شہر گجرات کاٹھیاواڑ سے تھا۔ گجرات کاٹیھاواڑ کے لوگوں کا ذریعہ معاش تجارت تھا اور وہ تجارت کی غرض و غایت سے بمبئی(ممبئی) اور کراچی تک سفر کرتے رہتے تھے۔

قائد اعظم کا گھرانہ انیسویں صدی میں کسی وقت جنوبی ہند (گجرات) سے ہجرت کر کے کراچی مں متمکن ہوا ۔ ان کی مادری زبان گجراتی تھی۔ لکن ان دنوں گجرات شہر کے بازاروں مں کاروبارِ زندگی،گجراتی اور اردو مں ہو رہا تھا اور یہی زبان کراچی کے ان علاقوں مںِ بھی بولی جاتی تھی جن کا آبائی تعلق جنوبی ہند کے گجرات اور کاٹھیاواڑ کے شہروں سے تھا۔ قائداعظم گھر میں گجراتی بولتے تھے اور گھر سے باہر گجراتی آمیزش اردو ان کا ذریعہ کلام تھی۔

نظریۂ پاکستان اور اُردُو

اردو نے اس عقیدے اور نظرئیے کی ترویج اور اشاعت میں امتیازی کردار ادا کیا کہ نظریۂ پاکستان ہماری منفرد تہذییب اساس کی شناخت پر مبنی تھا اور اردو زبان نے اس شناخت اور پہچان کی پاس داری اور تبلیغ میں ایسا رویہ اختیار کیا جس کی وجہ سے نظریۂ پاکستان کی فکری اور تہذیبی بنیاد ہندوستان کےمختلف حصوں میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اردو زبان ہی مسلمانوں کے فکری اور تہذیبی رویوں کی ترجمان تھی۔
6
اس زبان نے آزادی کی تحریک کا مقدمہ لڑا ۔ یہ مسلمانوں کے جداگانہ طرز اظہار اور منفرد طرزِ احساس کی حامل تھی۔ اس نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور ان کی قوتوں کو مجتمع کرنے میں اساسی نوعیت کا کردار ادا کیا ۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ اردو زبان کی اس بنیادی حیثیت سے آگاہ تھے۔ ان کے مکالمے کی زبان اگرچہ انگریزی تھی لیکن ان کی دوررس نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ مسلمانانِ ہندوستان کی کامیابی کا دارومدار اردو زبان کی ترویج و اشاعت اور نفاذ کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے انہوں نے اردو کی اہمیت اور افادیت کا برملا اظہار کیا اور قیامِ پاکستان کے بعد تو انہوں نے واشگاف الفاظ میں اس رائے کا اظہار کیا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور اردو ہی رہے گی-

قائد اعظمؒ کے ارشادات مںں نہایت واضح طور پراردو زبان کے بارے میں پاکستان کی قومی اور سرکاری سطح پر ترویج اور اشاعت کا حکم موجود ہے۔

چوہدری احمد خاں کچھ یوں لکھتے ہیں۔

”ظاہری طور پر ہم پاکستانی قائد اعظمؒ کے وفادار ہیں۔ قائد اعظمؒ کے ایام ولادت و وفات سرکاری طور پر مناتے ہیں ۔ اخبارات قائداعظمؒ نمبر نکالتے ہیں۔ قائداعظمؒ کی جائے ولادت ، ان کا ذاتی سامان اور سارے کاغذات حکومت نے محفوظ کر لئے ہیں۔ قائد اعظمؒ کے اقوال ریڈیو اور ٹیلیویژن پر بھی آتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے سرکاری طور پر قائد اعظمؒ کی سوانح عمری (نامکمل) تیار کروائی ہے۔ کراچی میں قائداعظم ؒ کے مقبرے پر چوبیس گھنٹے سرکاری گارڈز،

تمام کرنسی نوٹوں پر قائداعظمؒ کی تصویر ہوتی ہے۔ ڈاک کے یادگاری ٹکٹوں پر قائد اعظمؒ کی تصویر ہے۔ ہر سرکاری دفتر میں بھی قائداعظمؒ کی تصویریں ہوتی ہیں۔ پنجاب کے ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ کونسل ہال کا نام جناح ہال ہے۔ قائد اعظمؒ کا صد سالہ جشن ولادت بڑے تزک و احتشام سے سرکاری طور پر منایا گیا۔

ایک یونیورسٹی ، ایک بڑا ہسپتال اور ایک میڈیکل کالج قائد اعظمؒ کے نام سے موسوم ہیں جلسوں میں قائداعظمؒ کے زندہ باد کے نعرے بھی لگائےجاتے ہیں ۔ کئی مشہور باغ و پارک اور بڑی سڑکیں قائد اعظمؒ کے نام پر ہیں۔ لیکن ارباب اختیار قائداعظمؒ کے فرامین متعلقہ سرکاری زبان کی خلاف ورزی کرتے ہیں“

اگرحکومت وقت، مقابلہ کے امتحان کو اُردو میں کر دے تو یہ سازش ناکام ہو سکتی ہے۔ایک صاحب درد وکیل نے سپریم کو رٹ میں رٹ پیٹیشن داخل کی کہ آ ئین پاکستان اور سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کر کے اُردو کو فوراً نافذ کیا جائے۔

مگر کیا کیا جائے انگریزسے مرعوب یا کسی کے اَلہ کار بننے والے بے سمت حکمران اوراِس کی غلام ذہنیت والے بیوروکریٹس جو اختیارات ہوتے ہوئے بھی اُردو کو مکمل طور پر سرکاری زبان نہ بنا سکے۔ دنیا میں جن ملکوں نے بھی ترقی کی ہے وہ اپنی مادری زبان کی وجہ سے کی ہے۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ موجودہ حکومت، جس نے عوام سے پاکستان میں علامہ اقبالؒ کے خواب اور قائداعظمؒ کے وژن کے مطابق مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست کا وعدہ کیا ہوا ہے، پاکستان کی قومی زبان اُردو کو فوراً رائج کر دے۔ پھر قائد اعظمؒ اور قومی زبان اُردو والی، ایٹمی اور میزائل طاقت والی، مملکت اسلامی جمہوریہ، مثل مدینہ پاکستان، اُردو کے سائے مںؒ ترقی کرتا ہوا دنیا کا ترقی یافتہ پاکستان بن جائے گا۔

انشاء اللہ۔

5/10

https://youtu.be/n6jUp2yoXWU

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »