Spread the love

آزادی ڈیسک


مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کا جمعرات کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندرامودی سے ملاقات کا فیصلہ ،ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کے درمیان اگست 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کئے جانے کے بعد یہ پہلا باضابطہ رابطہ ہے

اور یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں بھی ہورہی ہے جب مقبوضہ وادی گذشتہ تقریباً دوسال سے عملی طور پر مفلوج ہے ،ابلاغ کے ذرائع پر پابندی ہے ،انٹرنیٹ معطل ہے اور ہزاروں سیاسی قائدین اور کارکنان مختلف بھارتی جیلوں میں بند ہیں


یہ بھی پڑھیں

  1. عمران خان،موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کشمیریوں سے غداری ہوگی
  2. غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا
  3. متحدہ عرب امارات کی ثالثی میں پاک بھارت خفیہ مذاکرات
  4. پاکستان کن شرائط پر بھارت سے مذاکرات کا خواہشمندہے ؟

واضح رہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے کشمیر میں علیحدگی کی سیاسی و مسلح تحریک کو دبانے میں ناکامی کے بعد مودی حکومت نے وادی پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرتے ہوئے وادی اور لداخ کو دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم کردیا تھا

بھارتی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف بھارت نواز کشمیری قیادت نے ابتداء میں شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا ،جس کے بعد پی ڈی پی کی رہنمااور سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اورنیشنل کانفرنس کے عمرعبداللہ کو بھی کئی ماہ تک انکے گھر وں میں نظر بند رکھا گیا تھا

جمعرات کے روز نریندرا مودی کیساتھ ملاقات پر آمادگی ظاہر کرنے والوں میں محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں ،تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان کی مودی سے ملاقات کا مقصدریاست جموں وکشمیر کی اگست 2019 سے قبل کی پوزیشن بحال کروانا ہے ۔جبکہ نیشنل کانفرنس بھی اسی نظریے کی حامی ہے

پرامن طریقہ سے ریاست کی حیثیت بحال کرنا ایجنڈا ہے ،پی ڈی پی

جبکہ پی ڈی پی کے ترجمان سہیل بخاری کا کہنا ہے گذشتہ سال کشمیرکی ریاست حیثیت کو بحال کروانے کے لئے قائم ہونے والے سیاسی جماعتوں کا اتحاد پرامن طور پر کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کروانے کا خواہاں ہے اور ان کے نمائندوں کی بھارتی وزیر اعظم سے ملاقات کا مقصدبھی یہی ہے

اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت میں ردوبدل کے خلاف پاکستان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور احتجاجا بھارت کیساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کم ترین سطح پر آگئے تھے ۔

تاہم حالیہ مہینوں کے دوران عالمی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں تواتر کے ساتھ شائع ہوئیں جن کے مطابق کشمیر کے معاملہ پر صف آراء دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں ،جبکہ رواں سال ہی دونوں ممالک کنٹرول لائن پر سیز فائرمعاہدہ پر رضامند ہوگئے تھے

Translate »