Spread the love

آزادی ڈیسک


مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے ہاتھ نئی ٹیکنالوجی نے قابض بھارتی حکام کیلئے نئی پریشانی پیدا کردی ہے

گذشتہ روز جموں کے فضائی اڈے پر ہونے والے مسلح ڈرون حملوں کے بعد بھارتی حکام کو مزید دو ڈرون کی اطلاعات نے نئی پریشانی سے دوچار کر کے رکھ دیا ہے

80 کی دہائی سے مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کے دوران حریت پسندوں کی جانب سے زیادہ تر فدائی حملوں ،گوریلا تکنیک ،بارودی سرنگوں یا ریموٹ کنٹرول بموں جیسے روایتی طریقوں  کا استعمال ہوا ،تاہم پہلی بار ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے قابض بھارتی حکام کیلئے ایک نئی پریشانی پیدا کردی ہے


یہ بھی پڑھیں 

  1. قاتل مودی سے ملاقات کرنےوالے کشمیرکے نمائندے نہیں‌،مفادیوں‌کا ٹولہ ہے،آزاد قیادت
  2. فلسطین اسرائیل تنازعہ اور کشمیری انتفادہ
  3. ٹوئٹرپر بھارت نوازی کا الزام،کشمیریوں کی آواز متعدد اکائونٹس معطل
  4. غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی فوجی حکام نے پیر کی صبح جموں کے قریب کالوچک کے فوجی ہوائی اڈے کے قریب مزید دو ڈرون دیکھے جانے کی تصدیق کی ہے

جبکہ ایک روز قبل دھماکہ خیز مواد سے بھرے دو ڈرون جموں ایئر بیس کی ایک عمارت سے ٹکرا گئے تھے ،جس کے نتیجے میں بھارتی قابض انتظامیہ نے دو فوجی اہلکاروں کے معمولی زخمی ہونے اور ایک عمارت کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ،البتہ یہ بھی بتایا گیا کہ اس حملے میں فوجی تنصیبات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا

مسلح جدوجہد آزادی کا نیا موڑ؟

دوسری جانب مزید ڈرون دیکھے جانے کی اطلاعات کے بعد بھارتی حکام کیلئے نئی پریشانی پیدا ہوچکی ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے

اگرچہ ابھی تک جموں ایئرپورٹ پر ہونے والے مسلح ڈرون حملے کی کسی بھی حریت پسند تنظیم نے ذمہ داری قبول نہیں کی

لیکن اگرایسا ہوتا ہے تویہ 80 کی دہائی سے چلنے والی مسلح جدوجہد میں ایک نیا موڑ ثابت ہوگا

جہاں فوجی تنصیبات پرحملوں کیلئے نئی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے

واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری پاکستان پر عائدکی جاتی رہی ہے ،جس کے نتیجے میں ایٹمی صلاحیت کے حامل دونوں ممالک متعدد بار جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں

جبکہ حالیہ سالوں کے دوران وزیر اعظم عمران خان بھی متعدد مواقع پر اس خدشہ کا اظہار کرچکے ہیں کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد اور اندرونی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں کوئی بھی جعلی کاروائی کرسکتا ہے

Translate »