افتخار رحمان ، بی ایس اردو ، گورنمنٹ کالج مانسہرہ

ہر قوم اپنی الگ شناخت رکھتی ہے۔ یہ انفرادیت تہذیب و ثقافت کی انفرادیت ہوتی ہے جو اپنے داخل میں روحِ قوم کی حیثیت رکھتی ہے اور ظاہر میں آئینۂ قوم۔ جہاں ثقافت کے متعدد پہلو ہیں وہیں زبان ایک ایسا بنیادی عنصر ہے جس پر پوری تہذیب کا وجود منحصر ہے۔ اگر کو خطہ اپنی زبان نہیں رکھتا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی ذاتی پہچان کوئی نہیں اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ثقافتی معیار ہے۔ اس وقت دنیا ایک گاوں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی سیاسی نظام میں ہیبت ناک حد تک تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔

اگر کوئی قوم کسی دوسری قوم کو زیرِ نگیں کرنا چاہے تو جوہری ہتھیاروں سے بڑھ کر تہذیبی یلغار پہ توجہ دی جاتی ہے کہ اس وقت کی عظیم فتح یہی ہے۔ اس تہذیبی یلغار کی ابتداء اپنی زبان اور ادب کو اس خطے میں اثر ورسوخ دلانے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ملک اپنی مخصوص زبان کو ہی لے کر آگے آ رہا ہے جیسا کہ چین ، جس کی تمام تر ترقی اور عروج کا راز اس کی زبان ہے۔ یا حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی افغانستان کی طالبان حکومت اپنی ہی زبان میں عالمی کانفرنسیں منعقد کر رہی ہے۔

وطن عزیز کی صورتحال اس حوالے سے ناگفتہ بہ رہی ہے کہ اسے روزِ اول سے ہی کئی طرح کے تضادات کا سامنا کرنا پڑا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے زیرِ سایہ اس قوم کو کئی ایک مسائل حل کرنے کا موقع میسر آیا۔ انہی مسائل میں قومی زبان کا مسئلہ بھی تھا جسے قائداعظمؒ اپنی زندگی میں ہی حل کر گئے تھے۔

آپ خود تو اردو نہیں بول سکتے تھے مگر اردو کے ساتھ آپ کا لگاؤ عشق کی حد تک تھا۔ پاکستان بننے سے قبل ہی اپنی تقاریر میں آپ نے علی الاعلان اردو کو پاکستان کی قومی زبان قرار دے دیا تھا۔ سب سے بڑی مثال ۱۹۴۶ء دہلی میں ہونے والے مسلم لیگ کونسل کے سالانہ جلسے کی ہے کہ جب فیروزخان نون سے اردو میں تقریر کرنے کا مطالبہ ہوا تو انہوں نے یہ کہہ کر بات ٹال دی کہ مسٹر جناح بھی تو انگریزی میں تقریر کرتے ہیں۔

قائداعظمؒ کو یہ بات کسی طور پسند نہ آئی اور اسی جذباتی شدت کے ساتھ اپنی نشست پر کھڑے ہو کر اعلان کر دیا کہ اردو پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ یہیں سے قائداعظمؒ کا تصورِ قومی زبان سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد متعدد ایسے بیانات ملتے ہیں جن میں آپ نے اردو کو قومی زبان قرار دینے کی وجوہات بھی بیان کیں۔

صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جب سے مسلمانوں نے آزاد وطن حاصل کرنے کی ٹھانی ، قائداعظم اسی لمحے سے اس کے تہذیبی و ثقافتی معیارات مقرر کرنے کا سوچنے لگ گئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر ہندوستان کے اندر وجود پانے والے اس نئے ملک کو متحد رکھنے اور ترقی دینے کی ضامن کوئی زبان ہو سکتی ہے تو وہ اردو ہی ہے۔

اردو چونکہ مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ تہذیب و ثقافت کا سرمایہ اپنے وجود میں رکھنے والی زبان تھی اور یہ اس کی عظمت ہے کہ مسلمانوں کی تہذیبی زبان فارسی جس نے کئی صدیاں مسلمانوں کی تہذیبی زبان ہونے کا اعزاز حاصل کیے رکھا، اردو نے ہندوستان میں اس کی جگہ لی اور اس خطے میں مسلم تہذیب و ثقافت کی علمبردار بن گئی۔

قائداعظمؒ نے اردو زبان کے وجود میں موجود اس صلاحیت کو بھانپتے ہوئے اسے قومی زبان کا شرف عطا کیا۔ دراصل اردو بذاتِ خود اس مقام کی حق دار تھی۔ یہاں یہ کہنا بجا ہو گا کہ قائداعظمؒ نے اس زبان کو اس کا مقام دے کر اس پر احسان نہیں کیا بلکہ اس کا حق ادا کیا ہے اور ایک رہبرِ اعظم کی جو زمہ داری بنتی تھی وہ ذمہ داری پوری کی۔ ہاں یہ اس قوم پہ احسان ہے کہ عین موقع پر قائداعظمؒ نے اتنے گھمبیر مسئلے کو ایسی خوش اسلوبی سے حل کر کے ایک ایسی زبان دے دی جو تجربے اور مشاہدے کے تحت انمل و بے مثل اور روشن مستقبل کی ضامن زبان ہے۔

قائداعظمؒ نے اردو کو باعثِ اتحاد قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی وہ زبان جو ملک کے مختلف صوبوں کے درمیان فہم و فراست اور اتحاد کا ذریعہ ہو، صرف ایک ہی ہو سکتی ہے اور وہ اردو ہے۔ اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ یہ بات تحت از تجربہ درست ہے کہ اگر اردو کو یہ مرکزی حیثیت حاصل نہ ہوتی تو پنجابی ، پشتو یا بنگالی وغیرہ کوئی دوسری زبان کسی طور بین الصوبائی اتحاد قائم نہ کر سکتی۔

تاریخی شواہد سے ٹھیک معلوم ہو سکتا ہے کہ جب بھی کسی خطے میں زبانوں کا فتنہ اٹھا ہے وہ خطہ ایک جسم کے طور پہ سلامت نہیں رہا۔ مثلاً سر سید احمد خان متحدہ قومیت کے حامل تھے۔ جب بنارس میں اردو ہندی تنازعہ قائم ہوا تو انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کر دیا جو کہ تقسیم ہند پہ جا کر منتج ہوا۔

اسی طرح بنگالی کو قومی زبان بنانے کا فتنہ اٹھا تو پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم ہونا پڑا۔ صوبہ سرحد کے اندر اردو اور پشتو کے تضاد نے ایک ہنگامہ پرپا کر دیا تو سیکڑوں جانیں ضائع ہوئیں۔ بعض لوگ اب بھی صوبہ ہزارہ کا نعرہ بلند کرتے ہیں تو بعض خیبر پختونخوا کا۔ یہ سلسلہ بھی ایک صوبے کو دو حصوں میں منقسم کر کے چھوڑے گا اگر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو۔ درحقیقت یہ پشتو اور ہندکو کی جنگ ہے۔ اردو زبان ان تضادات سے بالکل پاک ہے اسے لیے اس عظیم شخص نے اس زبان کو ہی پاکستان کی قومی زبان قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں

قائداعظمؒ جانتے تھے کہ برصغیر میں آنے کے بعد مسلمانوں نے جس زبان کا دامن تھاماوہ اردو ہی تھی۔ مسلمانوں سے ہی اس کا وجود پھوٹا اور انہی کی گود میں پلی اور بالآخر انہی کے جذبات کا سہارا بن کر تحریکِ آزادی کی جنگ لڑی۔ یہ اس زبان کے ساتھ انتہائی نا انصافی ہوتی اگر اسے بابائے قوم کی طرف سے وہی درجہ عطا نہ ہوتا جو اسے دیا گیا۔ خو آئند بات یہ ہے کہ قائداعظمؒ ایک اونچے درجے کے وکیل بھی تھے اور انصاف کرنا جانتے تھے۔

قائداعظمؒ کا تصورِ قومی زبان جہاں اپنی اہمیت و افادیت کا حامل ہے وہیں آپ کی محبت اردو زبان سے بالکل واضح ہے۔ انگریزی اس دور کی علمی زبان تھی۔ اسی زبان میں قائداعظم ؒفارغ التحصیل تھے۔ مگر تحریکَ پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو متعدد بار آپ نے اپنی تقریر کے آخر میں اردو زبان میں خطاب کیا اوراس زبان کی فضیلت کو سرِ عام بیان کرتے رہے۔ آپ کی وفات کے بعد تک زبان کے جھگڑے چلتے رہے اور مغربی سامراجی نظام کے تحت انگریزی کو پاکستان کی دفتری زبان بنا کر اردو کو دفاتر اور علمی اداروں سے بے دخل کر دیا گیا۔ اغیار کا پختہ فکر اس طرح سے بھی ظاہر ہے کہ اگر قائداعظمؒ نے دو ٹوک الفاظ میں اردو کو پاکستان کی زبان قرار دیا ہے تو کیا ہوا۔ اس کا وجود بطورِ قومی زبان ایسے ہی رہنے دیا جائے۔

جب دفاتر اور تعلیم سے اس کا کوئی واسطہ نہ رہا تو یہ قوم وہ نصب العین پا ہی نہیں سکتی۔ اس طرح ان کی زبان پہ تالا بھی لگ جائے گا اور اپنا مفاد بھی حاصل ہوتا رہے گا۔ چنانچہ یہی ہوا۔ تعلیماتِ قائد کے برعکس آج تک اردو زبان کو وہ حق حاصل نہیں ہوا جو بابائے قوم نے متعین کیا تھا۔ پوری دنیا کی اعلیٰ ترین تہذیبوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی عظمت کے پس پردہ قومی زبان ہی ہو گی۔ اس زبان میں قومی و دفتری کا تضاد نہیں ہو گا بلکہ ایک ہی زبان ہو گی جو قومی بھی ہے اور دفتری بھی۔ یہ ستم ظریفی فقط اردو کے حصے میں آئی ہے کہ اپنے ہی وطن میں نظر انداز کی جا رہی ہے۔

دورِ حاضر میں اردو کے ایک بڑے شاعر اور ادیب انور مسعود نے ایک مقام پر کمال کی بات کی ہے کہ دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کر لیا جائے تو واضح یہی ہو گا کہ کسی قوم نے کسی دوسری قوم کی زبان کا سہارا لے کر کبھی ترقی نہیں کی۔

یہاں مقصد کوئی تضاد پیدا کرنا نہیں ہے۔ انگریزی اس وقت پہلے نمبر کی رابطے کی زبان ہے۔ اسے سیکھنا اور بولنا مفید ہے۔ عالمی تہذیبوں کا مطالعہ ممکن ہوتا ہے۔ مگر جہاں بات قومی تقاضوں کی آئے تو پھر اپنے منشور سے روگردانی اختیار کرنا خلافِ انصاف ہی نہیں خلافِ عقل بھی ہے۔ پاکستان کے طلبا کو جو تعلیمی دشواریوں کا سامنا ہے اس کا سبب سے بڑا سبب اپنی زبان میں علم کی ترسیل کا نہ ہونا ہے۔

بعض اوقات مجبوراً انگریزی کا سہارا لینا پڑتا ہے کیونکہ اردو دان علمی ذخائر کو اپنی زبان میں ترجمہ کرنے کا فریضہ انجام نہیں دے رہے۔ یورپ نے یہ کمال دکھایا کہ سارا یونانی فلسفہ انگریزی زبان میں ترجمہ کر کے اپنی قوم کو اس سے آشنا کرنے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا پر انگریزی کا سکہ بٹھا دیا۔

جبکہ ہم ایشیائی مسلمانوں نے اس طرف زیادہ توجہ نہیں دی۔ یہاں تک کہ اپنی ریاست کے قوانین اور طریقۂ تعلیم اردو میں متعارف کروانے سے قاصر رہے۔ اگر ان زاویوں پر سنجیدگی سے منصوبہ بندی کی جائے تو قائداعظمؒ  کے تصورِ قومی زبان کو عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ اس وقت مخالفت اور شدت پسندی کو چھوڑ کر دیگر زبانوں کو بقدرِ ضرورت اور اردو کو ترجیحی بنیادوں پر آگے لا کر سرکاری و قومی زبان کا درجہ دینا ہی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Translate »