Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:10 Minute, 9 Second

سید عتیق الرحمن

یہ قصہ ایک شہر کا ہے جس کی آبادی و بربادی کی داستانیں اور تذکرے نسل درنسل اور سینہ بہ سینہ لوک کہانیوں اور تارٰیخ کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں
اگرچہ اس شہر کی بربادی کے آخری واقعہ کوگزرے دو سو سال پورے ہو چکے ہیں ،لیکن لوک روایات کے مطابق مانگل کا موجودہ چھوٹا سا قصبہ جو ماضی میں ایک بڑا شہر اور تجارتی منڈی ہوا کرتا تھا معلوم تاریخ میں سات مرتبہ اجڑا اور پھر آباد ہوا ۔
جلال پورہ ،جلا پورہ یا مانگل کا موجودہ قصبہ ضلع ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے درمیان واقع اہم تجارتی و کاروباری مرکز قلندرآباد سے ڈیڑھ کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے

مقامی لوک کہانیوں اور تاریخ دانوں کے مطابق ماضی کے اس بڑے شہر مانگل کی حفاظت کے لئے ایک قلعہ بھی ہوا کرتا تھا ۔

اگرچہ بیرونی جارحین کے ہاتھوں تباہی اور زمانے کی دستبرد نے اس قلعے کا نام و نشان مٹا کر رکھ دیا ہے ،لیکن جس مقام پر یہ قلعہ ہوا کرتا تھا اسے آج بھی مانگل کھولے کہا جاتا ہے
جس کا مطلب ہے ادھورا یا بغیر چھت کے مکان ہے ،اور ممکنہ طور پر اس مقام کو یہ نام 1821 میں ہری سنگھ نلوہ کی فوج کے ہاتھوں تباہ ہونے کے بعد لگائی جانے والی آگ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی و بربادی کے بعد دیا گیا اور آج بھی اسی نام سے معروف ہے

یہ بھی پڑھیں

 

مانگل کے دو اطراف قدرتی فصیل اور مشرق کی جانب کوہ ترنوائی کے بلندو بالا پہاڑ اس کا قدرتی حصار ہیں
یہ شہر اپنے زمانے کا بڑا اور اہم تجارتی مرکز اور قافلوں کی گزرگاہ ہوا کرتا تھا ،جہاں تمام صنعت و حرفت سے وابستہ لوگ آباد تھے اور کاروبار اپنے عروج پر تھا ،جس کا ذکر تاریخ کی کتابوں میں بھی ملتا ہے

کابل اور پنجاب سے کشمیر کی جانب سفر کرنے والے تجارتی قافلے اس مقام پر آ کر قیام کرتے اور اپنے مال تجارت کی خرید و فروخت کرتے

خطہ ہزارہ کی واحد آزاد ریاست امب دربند سٹیٹ آف تناول کے موجودہ سربراہ(واضح رہے کہ اب یہ عہدہ علامتی ہے )نوابزادہ صلاح الدین سعید مہمانوں کو ماضی کی تاریخ کے بارے میں بتاتے ہوئے

ماضی کے قصوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر موجودہ مانگل کو دیکھا جائے تو یہاں ماسوائے چند نشانیوں کے ایسی کوئی واضح علامات اب موجود نہیں رہیں ،جو گزرے دنوں کی عظمت کی گواہی دے سکیں
البتہ چند شواہد ایسے ضرور موجود ہیں جو مقامی لوک روایات اور قصے کہانیوں میں صداقت کا رنگ بھرتے ہیں
مانگل کھولے یا اس کے اردگرد مقامات پر کھدائیوں کے دوران روزمرہ استعمال کی اشیاء اور جلی لکڑیاں اور ہتھیار و اوزار ملنا اب بھی معمول کی بات ہیں

دوسرا اس شہر کے اردگرد موجود قبرستانوں کا رقبہ غیر معمولی طور پر کافی بڑا ہے ،جو مجموعی طور پر تقریباً ڈیڑھ سو کنال پر محیط ہے
یہ قبرستان اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہیں کیوں کہ اس زمانے میں اس خطے کی آبادی بہت کم اور دور دراز مقامات پر چھوٹے یا بڑے گائوں کی صورت میں موجود تھی
ان میں سے کئی گائوں سینکڑوں سال سے آباد ہیں لیکن ان کے قبرستانوں کا رقبہ مانگل قبرستان کے مقابلے میں بہت کم ہے

سکھ سلطنت کا عروج اورہزارہ کے مقامی قبائل

مانگل کی ہماری اس کہانی کا آخری اور اہم حصہ سکھ سلطنت سے جڑا ہوا ہے ،گوجرانوالہ میں 1780 میں پیدا ہونے والے رنجیت سنگھ نے محض 21 سال کی عمر میں برصغیر کی پہلی سکھ سلطنت کی داغ بیل ڈالی
ابتدائی سالوں کے دوران بیرونی حملہ آوروں سے بچائو اور اندرونی فوجی و معاشی اصلاحات کے بعد اس نے اس کی توجہ موجودہ صوبہ سرحد(خیبرپختونخواہ )اور کشمیر کی جانب مبذول ہوئی
اس وقت کشمیر افغانستان کے درانی حکمرانوں کے ماتحت ریاست تھی جو اپنے قدرتی وسائل کی وجہ سے ہمیشہ سے بیرونی فاتحین کا مطمع نظر رہی

ضلع مانسہرہ کے علاقہ بفہ گلی باغ میں پکھلی کی مغل سرکار کی آخری نشانی ،اس عمارت کی تاریخ تیرھویں صدی کی بتائی جاتی ہے

مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج نے 1818ء تک پورے کشمیر بشمول گلگت بلتستان پر غلبہ حاصل کرلیا ۔اس عرصہ کے دوران ہزارہ کے خطے میں مختلف حلقوں پر متعدد خوانین کا اثر تھا ،کیوں کہ مغلوں کی مقامی اتحادی پکھل سرکار بھی بدحالی و انتشار کا شکار ہوچکی تھی

یہ وہ زمانہ تھا جب ہزارہ و کشمیر کے راستے میں مانگل ایک اہم فوجی اور تجارتی مرکز کی حیثیت اختیار کرچکا تھا ،تاریخ تناول کے مطابق ابتدائی طور پر مانگل کا علاقہ ریاست تناول کے معروف سردار پائندہ خان تنولی کی ملکیت تھا ،لیکن سکھوں کے ساتھ ابتدا ہی میں معاملات بگڑنے کے نتیجے میں انہوں نے یہ مانگل اور اس کا ملحقہ علاقہ معروف مذہبی شخصیت حضرت میاں گل المعروف گنکال بادشاہ کو بطور سیری دیدیا اور پوہار کے مقام پر ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی

17ویں صدی کے اواخر میں ہزارہ کے رش و دھمتوڑ کے میدانوں میں ایک نئے قبیلے کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ،یہ جدون قبیلہ تھا جو گدون کے علاقے سے ہجرت کرکے آیا تھا
جنگجو لیکن سیاست و مصلحت کی صفات کے حامل اس قبیلہ نے جلد ہی تناول کے مشرقی حصہ میں اپنا اثرو رسوخ قائم کرلیا

 

 

یادرہے کہ اب بھی جدون قبیلہ کی زیادہ تر آبادیاں اور گائوں حویلیاں ،میدان رش اور موجودہ قلندرآباد شہر کے گردونواح میں ہی موجود ہیں

سن 1817 میں کشمیر قابو کرنے کے بعد سکھوں نے ہزارہ کے خوانین پر کو اپنا مطیع و فرمانبردار بنانے پر توجہ مبذول کی ،اس مقصد کیلئے انہوں نے جہاں گڑ بے اثر ہوا وہاں زہر کے استعمال کرنے سے بھی دریغ نہ کیا ۔

اور چند سالوں کے دوران ہی ماسوائے تناول کے پورا خطہ ہزارہ ان کے زیراثر آگیا ،البتہ سردار پائندہ خان تنولی اور ان کی آل اولاد نے سکھوں کے ساتھ کئی خون ریز لڑائی اور سیاسی چالوں کے باوجود تادم آخر سرتسلیم خم نہ کیا ،جس کے نتیجے میں سکھوں کے زوال اور انگریزوں کے دور میں بھی تناول کی آزادانہ حیثیت برقرار رہی تاوقتیکہ 1970 میں یہ ریاست مکمل طور پر وفاق پاکستان میں ضم ہوگئی

مانگل کی آخری جنگ اور تباہی

یہ 1821 ء کا ذکر ہے جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مشہور فوجی جرنیل ہری سنگھ نلوہ کو کشمیر سے لاہور دربار طلب کیا گیا ۔
ہری سنگھ نلوہ 7 ہزار پیادہ فوج کے ساتھ سری نگر سے مظفرآباد پہنچا جس کی منزل گڑھی حبیب اللہ اور پھر مانگل سے ہوتے ہوئے لاہورتھی
مانگل میں اس وقت جدون قبیلے کی اکثریت تھی ،انہوں نے جب ہری سنگھ نلوہ کی آمد کی خبر سنی تو سکھوں کے قافلے سے محصول وصول کرنے کا فیصلہ کیا
تاریخ دانوں کے مطابق ہری سنگھ نلوہ کو مانکرائے میں بپا بغاوت کو کچلنے کی جلدی تھی اس لئے وہ راستے میں مزید کسی تصادم کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا
اس لئے اس نے شنکیاری میں موجود سکھ قلعدار لالہ راج کنور اور مقامی خان امین خان سواتی کو مذاکرات کیلئے مانگل بھیجا
مانگل میں اس وقت ناڑہ ،نیلاں ،بیرنگلی اور تناول کے قبائل بھی جمع ہوچکے تھے ،جن کی قیادت محمد خان ترین کررہے تھے

جامع مسجد شیر گڑھ ضلع مانسہرہ کے خوبصورت نقوش و نگار

ہری سنگھ نلوہ کا آنے والا وفد مقامی قبائل کو اپنے مطالبے اور ارادوں سے باز رکھنے میں ناکام رہا ،صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہری سنگھ نلوہ اپنی فوج کے ہمراہ روانہ ہوا اور مانگل کے شمالی دروازہ تکیہ کے مقام پر ڈیرہ ڈال لیا
آخری پیغام کے بعد دونوں اطراف سے جنگ کی تیاری شروع کردی گئی ۔

کہا جاتا ہے کہ وہ رات دونوں اطراف نے جنگ کی تیاری اور عبادات میں گزارا ،صبح سورج کی پہلی کرن پھوٹتے ہی طبل جنگ بج اٹھا
اور دونوں لشکر ایک دوسرے سے نبردآزما ہوگئے ،لیکن چند گھنٹوں میں ہی قبائلی لشکر میں پسپائی کے آثار دکھائی دینا شروع ہوگئے ،اور مختلف سمتوں سے آئے قبائلی کی صفوں میں دراڑیں پڑنے لگیں ،کسی مرکزی قیادت کی غیرموجودگی میں دیگر علاقوں سے آئے قبائلی لوگوں نے راہ فرار اختیار کرلی

دوپہر تک سکھ فوج شہر میں داخل ہوگئی اور قتل و غارت کا بازار گرم کردیا ۔مقامی لوک داستانوں کے مطابق مانگل میں موجود سری مینارہ نامی جگہ پر سکھ فوج نے مقتولین کی کھوپڑیوں کا مینار بنادیا ،
جبکہ اس جگہ کے ساتھ واقع نالے کو آج بھی گندی کسی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس وقت یہ کسی مقتولین کے خون سے بھری ہوئی تھی ۔

مانگل کھولے میں موجود مشوماں دا قبرستان وہ جگہ ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس مقام پر جنگ میں مارے جانے والے کمسن بچوں کی تدفین کی گئی تھی

ہزارہ کے معروف مصنف و مورخ ڈاکٹر شیر محمد پنی کی تصنیف تاریخ ہزارہ میں لکھا ہے کہ اس جنگ میں دو ہزار سے زائد افراد مارے گئے ،جبکہ ان کے مال و املاک کو نذر آتش کردیا گیا ،
مانگل قلعہ کو زمین بوس کردیا گیا

اس واقعہ میں سب سے زیادہ جدون قبیلہ متاثر ہوا، جن پر فی گھرانہ ساڑھے پانچ روپے تاوان جنگ عائد کردیا گیا

یہ اس زمانے کے لحاظ سے بڑی اور بھاری رقم تھی ،جسے پورا کرنے کیلئے انہیں اپنے مال مویشی فروخت کرنا پڑے جس کے نتیجے میں علاقے میں قحط کی سی صورتحال پیدا ہوگئی مانگل کی فتح اور لوٹ مار کے بعد ہری سنگھ نلوہ لاہور روانہ ہوگیا

کہا جاتا ہے کہ جب ہری سنگھ کشمیر کے محصولات کا حساب اور مانگل کی فتح کی خبر کے ساتھ رنجیت سنگھ کے دربار میں پیش ہوا تو اس کی کامیابی سے خوش ہو کر مہاراجہ نے کشمیر کا تمام حساب کتاب بطور بخشیش ہری سنگھ نلوہ کو بخش دیا

حضرت میاں گل یا کنگال بادشاہ

مانگل کے قدیم قبرستان کے سرے پر موجود عظیم روحانی شخصیت حضرت میاں گل المعروف میاں کنگال بادشاہ کا مزار آج بھی مرجع خلائق ہے جہاں ان کے عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے اور ذکر و اذکار کی محافل کا اہتمام ہوتا ہے ۔ان کے سالانہ عرس میں ملک کے طول و عرض سے ہر سال ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں ۔
حضرت میاں گل کے بارے میں روایت مشہور ہے کہ ان کا تعلق مغل شاہی خاندان سے تھے ،لیکن جوان العمری میں ہی انہوں نے محل و اقتدار کی زندگی سے کنارہ کشی کرتے ہوئے درویشی اختیار کرلی اور اپنے معتقدین کے ہمراہ مانگل کے مقام پر کٹیا آباد کرلی ۔
انہوں نے یہیں وفات پائی لیکن ان کے روحانی فیض سے آج بھی لوگ مستفیض ہوتے ہیں

 

بحالی و نو آبادی

نواں شہر میں موجود تاریخی الیاسی مسجد ،جو جدون قبیلہ کی اسلام اور مذہب سے عقیدت کی زندہ علامت ہے

تباہی و بربادی کے تین سال بعد 1924 میں مانگل اور اس سے ملحقہ علاقہ کشمیر و لاہور کے درمیان راہداری کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے جدون قبیلے کے ایک مقامی سردار پیرخان ولد قاسم خان کو بطور جاگیر دیدیا گیا ۔

یہ جاگیر بوئی دلولہ سے لیکر حویلیاں میرا تک پھیلی ہوئی تھی ۔پیرخان جدون کی وفات 1864 میں ہوئی ،لیکن ان کے نام پر آباد بانڈہ پیر خان گائوں آج بھی موجود ہے ،جہاں ان کی آل و اولاد آباد ہے

مانگل کی تباہی کو چند دہائیاں ہی گزری ہوں گی ،کہ سکھوں کا اقتدار کا آفتاب بھی گہنا گیا اور انگریز اس علاقے کے نئے مالک و مختار قرار پائے تو وہ اپنے ساتھ زمانے کے نئے اصول اور ضابطے بھی لے کر آئے
جاگیرداری نظام دم توڑنے لگا اور آئینی اصلاحات کے نتیجے میں مالک و مزارعہ کی تفریق بھی مدہم ہونے لگی ۔نئے زمانے کے نئے اصولوں کیساتھ شروعات ہوئیں لیکن
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں

گردش ماہ و ایام جاری ہے اور تادم آخر جاری رہے گی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post سرحدی علاقوں‌میں‌مزدوروں‌کی زبوں حالی اور سیٹھوں‌کی خوشحالی
Next post ٹی ٹی پی ہمارا حصہ نہیں‌،ذبیح‌ اللہ ،امارت اسلامیہ کی شاخ ہیں‌،مفتی نورولی
Translate »