مسرت اللہ جان
پشاور


محکمہ آثارقدیمہ نے حال ہی میں تقسیم ہند سے قبل انگریز سرکار کی جانب سے متعارف کروائی جانے والی ایمبولینس سروس کی متروکہ گاڑی کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کیا ہے ،یہ گاڑی گذشتہ کئی دہائیوں سے ضلع ایبٹ آباد میں محکمہ صحت کے پاس فرسودہ اور بیکار حالت میں کھڑی تھی جسے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ نے اپنے وسائل سے دوبارہ اس کی اصل حالت میں بحال کرلیا ہے

ڈپٹی ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق اپنے دور میں یہ گاڑیاں جدید ترین سہولت تھی جس کا مقصد مریضوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانا تھا ،اور ان میں اس وقت کے لحاظ سے جدید سہولتیں موجود تھیں ۔لیکن انگریز حکومت کے خاتمے اور قیام پاکستان کےبعد مرمت اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے رفتہ رفتہ معدوم ہوگئیں


یہ بھی پڑھیں


انہوں نے بتایا کہ جس گاڑی کو بحال کیا گیا ہے وہ 1945 میں بنائی گئی ،جو تقریبا 76 سال پرانی ہیں ،اس طرح کے مزید چند گاڑیاں اور تین فائرسٹیشن گاڑیاں بھی متروکہ حالت میں موجود ہیں جنہیں دوبارہ ان کی اصل حالت میں بحال کرنے کا منصوبہ زیر غور ہے

سیاحت کے فروغ میں مدد ملے گی ،ڈاکٹر عبدالصمد

ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق چونکہ ان گاڑیوں کے پرزہ جات ملنا اب کافی مشکل ہوچکا ہے ،اس لئے بڑی تلاش بسیار کے بعد پرزہ جات حاصل کئے گئے ،اور اس پر مجموعی طور پر 18 لاکھ روپے لاگت آئی ہے اور یہ تمام فنڈز محکمہ نے اپنے وسائل سے پورے کئے ہیں

انہوں نے کہاان گاڑیوں کو بحال کرنا اور آثار قدیمہ کے دیگر مقامات و عمارت کی مرمت و بحالی کا مقصد صوبے میں سیاحت کے دیرپا فروغ کے منصوبے کا حصہ ہیں ،جس سے ہماری نئی نسل کو قیام پاکستان یا اس سے قبل کے حالات کو سمجھنے میں زیادہ بہتر انداز میں مدد ملے گی

Translate »