سدھیر احمد آفریدی

اللہ تعالٰی کی نعمتوں کو گننا اور جھٹلانا ممکن نہیں اس لئے اللہ تعالٰی کی دی ہوئی نعمتوں کی فراوانی پر ہر وقت شکر ادا کرنا چاہئے سب سے بڑی نعمت پانی ہے جس کی لوگ بالکل قدر نہیں کرتے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ لوگ فضول اورغیر ضروری طور پر پانی ضائع کرتے ہیں اللہ تبارک و تعالٰی نے پاکستان کو جو نہری نظام دیا ہے اس پر بھی شکر کرنا چاہئے ایک طرف پانی کا غلط اور بے دریغ استعمال اور دوسری طرف صاف پانی کو گندا کرنا اس بڑی نعمت کی ناشکری ہے اکثر کالام اور ناران وغیرہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے کہ لیٹرینوں کے گندے پانی کا رخ نہروں اور دریاؤں کی طرف ہوتا ہے اور اس طرح پینے کے صاف پانی کو گندا کیا جاتا ہے جس سے مختلف بیماریاں پیدا ہوتی ہیں

ہمیں صرف پانی نہیں بلکہ نہروں اور دریاؤں کے پانی میں رہنے والی مچھلیوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے جن کی نسل کو مختلف منفی طریقوں سے برباد کیا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ مستقبل میں سب سے زیادہ جنگیں پانی کے مسئلے پر ہونگیں اگر دیکھا جائے تو مصر اور اس کے پڑوسی دیگر افریقی ممالک میں یہ مسئلہ سر اٹھا رہا ہے

آجکل بچوں کو پرائمری لیول پر بھی پڑھایا جاتا ہے کہ قدرتی وسائل کا غلط اور ناجائز استعمال نہیں کرنا چاہئے بے شک قدرتی وسائل جیسے پانی، لکڑی،کوئلہ اور گیس وغیرہ سے اپنی ضروریات پوری کرنی چاہئے لیکن ناجائز اور غیر ضروری استعمال سے ان وسائل کی کمی اور قلت پیش ہو سکتی ہے جس رفتار سے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے اس کے لئے موجودہ قدرتی وسائل لازمی بات ہے کم پڑ سکتے ہیں لہذا قدرتی وسائل کی حفاظت اور درست استعمال کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ ہماری نئی نسلوں کی مشکلات میں پھر اضافہ نہ ہو سکے

دنیا کے اندر مسائل بہت زیادہ ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں اور انہی مسائل کیوجہ سے لوگ پریشان ہونگے اللہ نے امراض اگر پیدا کئے ہیں تو ان امراض کا علاج بھی پیدا کیا ہے ہمیں تحقیق اور جستجو کرنے کی ضرورت ہے گرمی کے موسم میں درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پہاڑوں پر موجود گلیشئرز پگھل کر ختم ہو رہے ہیں اس کے نتیجے میں گرمی میں اضافہ ہوگا اور پانی کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور یہ تو ظاہری بات ہے کہ پانی کے بغیر زندگی کا تصور کرنا ممکن نہیں

ہرفرد اپنی جگہ ذمہ دار

اب جن باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے وہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ہم پاکستانی قوم کے ہر فرد کو سمجھا سکے کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے تاکہ ہم صاف پینے کی قلت سے محفوظ ہو سکے، ماحول کو آلودگی سے بچائیں اور گرمی کے موسم میں درجہ حرارت کو معقول حد پر رکھ سکیں

بارہا اپنی تحریروں میں متعلقہ اداروں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چونکہ ہر طرف بڑے اور بلند و بالا پہاڑ ہیں، درے ہیں اور یہاں کے رہنے والوں کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی بمشکل مل رہا ہے لہذا قبائلی علاقوں میں ایمرجنسی صورت میں بجٹ میں سے رقم نکال کر چھوٹے چھوٹے بارانی ڈیمز تعمیر کریں تاکہ ہر موسم میں جب بارش ہوتی ہے تو اس کا پانی بہہ کر ضائع نہیں ہوگا

اگر چھوٹے بارانی ڈیموں کے ذریعے بارشوں کا پانی ذخیرہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے متعدد فائدے ہو سکتے ہیں مثلاً پانی ضائع نہیں ہوگا، زیر زمین پانی کی سطح اوپر آئیگی جس سے لوگ با آسانی صاف پانی کی ضروریات پوری کر سکیں گے، سیلابوں کا خطرہ کم ہوگا، آلودگی اور درجہ حرارت پر قابو پا سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہر طرف پہاڑوں پر سبزہ اگے گا، درخت اگا سکتے ہیں اور جب درجہ حرارت کم ہوگا تو پہاڑوں پر سردی کے موسم میں برف پڑیگی جس سے چشمے آباد ہونگے،


یہ بھی پڑھیں


منظر خوبصورت دکھائی دیگا اور یہی قبائلی علاقے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنیں گے جس سے لوگوں کا معاش بہتر ہوسکے گا قبائلی علاقوں کی اگر بات کریں تو یہاں گیس تو ہے نہیں اور بجلی برائے نام ہے اور وادی تیراہ جیسے علاقوں میں تو بجلی پہنچائی نہیں گئی ہے اب وادی تیراہ اور ملحقہ سرد پہاڑوں علاقوں کے رہنے والے سردی کی شدت سے اپنے اہل و عیال کو کیسے محفوظ رکھیں گے ؟

لازمی بات ہے وہ پہاڑوں پر لگے درخت ہی کاٹیں گے تاکہ اپنے گھروں کو گرم رکھ سکے پھر نتیجہ یہی ہوگا کہ بلند و بالا پہاڑ خشک ہو جائیں گے پھر ان پہاڑوں پر اگر برف پڑتی ہے تو وہ جلدی پگھل کر ضائع ہوگی جس کے نتیجے میں درجہ حرارت کم نہیں بلکہ گرمی کے موسم میں زیادہ ہوگی پہلے جب ماحولیاتی آلودگی اور درجہ حرارت کے مسائل کم تھے تو وادی تیراہ جیسے علاقوں کے پہاڑوں پرسردی کی برف گرمی کے موسم میں بھی موجود رہتی اور اس طرح وہاں موسم معتدل رہتا

اس لئے اپیل حکومت سے ہے کہ قبائلی علاقوں تک گیس پہنچائیں اور بجلی کا نظام درست کریں تاکہ لوگ درختوں کی کٹائی کی شکل میں قدرتی وسائل خراب نہ کریں اور بارانی ڈیموں کی طرف توجہ دیں اگرچہ ضلع خیبر کے کچھ علاقوں میں ایک دو بارانی ڈیمز بن رہے ہیں لیکن یہ ناکافی ہیں اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ شجرکاری کے اوقات میں بڑے پیمانے پر میدانی اور پہاڑی علاقوں میں پودے اور درخت کاشت کریں

بےشک حکومت اور محکمہ جنگلات اس میں بھر پور تعاون کریں اور لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے مہمات چلائیں اور اگر من حیث القوم ہم نے یہ چند کام کئے تو ہم ماحولیات آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں پر بڑی حد تک قابو پا سکتے ہیں جس طرح وادی تیراہ میں جنگلات اور درختوں کی بے دریغ کٹائی جاری ہے یہی صورتحال خیبر پختون خواہ اور شمالی علاقہ جات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں بھی دکھائی دیتی ہے جو کہ تشویشناک ہے قدرتی وسائل سے استفادہ ہماری ضرورت ہے لیکن غلط اور ضرورت سے زیادہ نہیں

ہمیں اللہ تعالٰی نے بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے اس لئے ان نعمتوں کی قدر کریں اور احتیاط کےساتھ ان کا درست استعمال کریں اور ان قدرتی وسائل میں اضافے اور ان کی حفاظت بھی ہمارے فرائض میں شامل ہیں درخت کاشت کرنا صدقہ جاریہ ہے اس لئے ہر آدمی کم از کم ایک درخت یا پودا ضرور لگائیں تاکہ ثواب بھی کما سکیں اور ماحول کو بھی خوبصورت بنا سکے اور یہ ہماری اپنی ضرورت ہے جس سے غافل نہیں ہونا چاہئے

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »