0 0
Read Time:4 Minute, 9 Second

 سدھیر احمد آفریدی

2018 کے عام انتخابات کے موقع پر جب اپ سیٹ ہوا اور الحاج شاہ جی گل آفریدی کو غیر متوقع طور پر شکست سے دوچار ہونا پڑا تو الحاج تاج محمد آفریدی اور الحاج شاہ جی گل آفریدی نے اپنی بساط کے مطابق احتجاج کا ہر طریقہ اپنایا اور حتیٰ کہ عدالت سے بھی رجوع کیا تھا احتجاج ان کا حق تھا لیکن سچی بات یہ ہے کہ ایک مخصوص دائرے کے اندر رہتے ہوئے الحاج کارواں نے احتجاج ریکارڈ کرایا

بنیادی طور پر ان کا اعتراض تھا کہ ان سے الیکشن چوری کیا گیا اب بلکل بعینہ وہی صورتحال 19 دسمبر کے بلدیاتی انتخابات کے موقع پر جمرود اور لنڈیکوتل میں سامنے آئی ہے تحریک اصلاحات کا امیدوار شاہ خالد شینواری موصولہ نتائج کے مطابق تو لیڈ پر ہیں اور کامیاب نظر آتے ہیں جس کا باضابطہ سرکاری اعلان تو نہیں کیا گیا ہے لیکن ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ تحریک اصلاحات کے قائدین اور نیچلی سطح پر کارکنوں اور رشتہ داروں نے ایک طرف پورا الیکشن چوری کیا ہے

اور دوسری طرف تمام پولنگ سٹیشوں پر پورا سسٹم خریدا ہوا تھا اور مبینہ طور دھاندلی کے تمام طریقے اپنائے کچھ جگہوں پر خیبر سیاسی اتحاد نے لنڈی کوتل کے پولنگ سٹیشنوں سے باہر ملنے والے بیلیٹ پیپرز میڈیا کو دکھائے جن میں پگڑی کے نشان پر مہریں لگی تھیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ جب تک دھاندلی کے الزامات لگانے والے الیکشن ٹربیونل میں جاکر دھاندلی کے الزامات ثابت نہ کریں اس وقت تک یہ سب کچھ محض الزامات ہیں

بلکل یہی صورتحال جمرود تحصیل میں بھی موجود ہے ہمارا معاشرہ قبائلی معاشرہ ہے اس میں اختلاف اور تنقید ایک دائرے کے اندر مہذب انداز میں ہو تو اچھا لگتا ہے اور اگر حد سے آگے بڑھ جائیں تو پھر مسئلہ بگڑ جاتا ہے جس کی نوبت نہیں آنی چاہئے لنڈی کوتل میں خیبر سیاسی اتحاد اور آزاد امیدواروں نے احتجاج کا میدان گرم کر رکھا ہے اور جمرود میں تمام شکست خوردہ امیدوار میدان احتجاج میں نکل آئے ہیں تاہم فرق یہ ہے کہ لنڈی کوتل میں خیبر سیاسی اتحاد علامتی احتجاج کرکے روڈ بند کرتا ہے اور قائدین اور امیدواروں کی تقاریر ختم ہونے کے بعد احتجاج ختم کرکے منتشر ہو جاتے ہیں

جبکہ جمعرات کی شام دیر تک سور کمر کے مقام پر دھاندلی کے الزامات لگانے والوں نے شاہراہ بند کر رکھی جس کی وجہ سے عام لوگوں کو بہت تکلیف سے گزرنا پڑا یہی مکافات عمل ہے جس سے الحاج کارواں یا تحریک اصلاحات کے قائدین دوچار ہوئے ہیں سچی بات یہ ہے کہ ان کو جیت کی خوشی منانے کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور ان کی لنڈی کوتل اور جمرود میں چئیرمین شپ کی دونوں سیٹوں پر کامیابی کو مخالفین تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں

یہ بھی پڑھیں

بازار ذخہ خیل میں پولنگ نہ ہونے کی وجہ سے بھی تحریک اصلاحات کی جیتی ہوئی نشست خطرے میں نظر آرہی ہے چونکہ وہاں بھی کافی ووٹ ہے اور اگر مرد و خواتین نے بازار ذخہ خیل کے بیس پولنگ اسٹیشنز پر وہاں کے مقامی امیدواروں میں سے کسی کے حق میں ووٹ استعمال کیا تو پھر شاہ خالد شینواری پر میز الٹ دی جا سکتی ہے

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کے زیادہ تر لوگ ووٹ کاسٹ ہی نہیں کرتے اور جو وہاں تنظیم ہے اس کی گرفت بھی وقت کے ساتھ ساتھ کمزور پڑ گئی ہے خیبر سیاسی اتحاد نے الیکشن کمیشن پر جو اعتراضات کئے ہیں یا وہ جو تنقید کرتے ہیں وہ سو فیصد درست ہیں اور یہ جو مسئلہ بگڑ گیا ہے اس کی ساری ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ہی عائد ہوتی ہے جنہوں نے ناقص منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور پولنگ اسٹیشنز اور پولنگ بوتھوں کے حوالے سے تمام اعتراضات جائز ہیں

گذشتہ راہ صلواۃ آئندہ راہ احتیاط

یہی وجہ ہے کہ بڑی تعداد میں خواتین ووٹ کاسٹ نہیں کر سکیں اختلاف اور احتجاج کرنے والوں کی خدمت اقدس میں عرض ہے کہ مہذب اور شائستہ انداز میں احتجاج ریکارڈ کریں اور تنقید کریں اور اگر ان کے پاس دھاندلی کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں تو عدالت سے رجوع کریں لیکن عوامی سطح پر معاشرے میں تلخیاں نہ بڑھائیں، اختلافات پیدا نہ کریں تاکہ معاشرہ بگاڑ کی طرف نہ جا سکے

سیاسی جماعتوں کے قائدین عوام کے اندر شعور پیدا کریں، ان کو منظم اور بیدار کریں اور ابھی سے کوشش کریں کہ الیکشن کمیشن سے جو غلطیاں ہوئی ہیں وہ دور ہو سکے تاکہ آنے والے انتخابات میں پھر کسی کو کوئی اعتراض نہ ہو ووٹر لسٹوں کی تصحیح، پولنگ اسٹیشنز کو قریب اور زیادہ رکھنا اور ویلیج کونسلوں کو از سر نو ترتیب دینا اہم ایشوز ہیں جن پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »