Join Our Membership

Advertisement Section
Read Time:2 Minute, 51 Second

بیورورپورٹ

مظفر آباد


نریندرا مودی اور امیت شاہ سے ملاقات اور مسکراہٹوں کا تبادلہ کرکے کشمیری قیادت نے اپنی قوم کے زخموں پر نمک چھڑکا ۔

صدر آزادکشمیر سردارمسعود خان نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کی مودی سے ملاقات کا مقصدمظلوم کشمیریوں کے حقوق کی بات کرنا نہیں بلکہ اپنے آقائوں کی حکمرانی کیلئے راہ ہموار کرنا تھا ۔

انہیں ملاقات سے قبل مودی کے ہاتھوں قتل ہونے والے گجرات اور مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں بے گناہوں کے خون کو یاد رکھنا چاہیے تھا ۔

سردارمسعود کا مزید کہنا تھا نریندرا مودی کے ہاتھ ہزاروں بے گناہوں کے خون سے لتھڑے ہوئے ہیں۔ان ملاقاتوں کے ذریعے بھارتی حکمران کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں لیکن کٹھ پتلیوں کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ بھارت کبھی بھی طاقت و اختیار ان کے حوالے نہیں کریگا اور وہ کشمیری عوام میں مزید بے وقعت ہو جائیں گے


یہ بھی پڑھیں 

  1. حریت کے بغیر بھارت کا کشمیری قیادت سے رابطہ کیا معنی رکھتا ہے ؟
  2. مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کی مودی سے ملاقات کا ایجنڈا کیا ہے ؟
  3. عمران خان،موجودہ حالات میں بھارت سے تعلقات کشمیریوں سے غداری ہوگی
  4. غلام مصطفی شاہ ،تحریک آزادی کشمیر کا اہم کردار،جو اپنوں‌بیگانوں‌کی بے اعتنائی کا شکار ہوا

کیا کشمیری عوام محبوبہ مفتی کے دور میں بینائی سے محروم ہونے والے ان سینکڑوں نوجوانوں اور بچوں کو بھول جائیں گے جنہیں بھارتی فوج نے پیلیٹ گن کا نشانہ بنایا ۔جبکہ فاروق عبداللہ اور اس کے بیٹے عمر عبداللہ کے دور اقتدار میں شہید ہونے والے ہزاروں بے گناہوں کو کیسے بھولا جاسکتا ہے ،جن کی بے نام قبریں آج بھی جابجا مل رہی ہیں

کشمیر پربھارتی قبضہ میں معاونت کرنیوالے کشمیر کے نمائندہ نہیں ،راجہ فاروق

دریں اثناء آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے ملاقات کے حوالے سے کہا گجرات اور مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں بے گناہوں کے قاتل سے ملاقات کرنے والے کشمیری عوام کے نمائندے نہیں بلکہ وہ کشمیرپر بھارتی قبضہ برقرار رکھنے میں معاون ہیں

کیونکہ کشمیری عوام کے اصل نمائندے وہ ہیں جو کئی مہینوں سے اپنے گھروں میں نظربند ہیں یا مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں انہوں نے مزید کہا

یہ ملاقات صرف عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی ،جس سے عام کشمیریوں کو کوئی امید نہیں ،کیوں کہ اس ملاقات کی سامنے آنے والی تصویریں حقیقت کو عیاں کرتی ہیں ،جہاں بھارت نواز قیادت مودی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑی نظر آرہی ہے

بھارت نے ان قائدین کو بے وقعت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ،تاکہ وہ بے شرمی کے ساتھ بھارتی مفادات کا تحفظ کرتے رہیں

راجہ فاروق حیدر نے ایک بارپھر یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان تمام مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت سمیت تمام کشمیری قیادت کومدعو کرے تاکہ دنیا کے سامنے یہ واضح ہوسکے کہ کشمیریوں کی اصل قیادت وہی ہیں جو آزادی کے خواہاں ہیں ،نہ کہ وہ لوگ جنہوں نے کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی اور غاصبانہ قبضے کی حمایت کی

واضح رہے کہ اس بیان سے ایک روز قبل وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا

دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان دونوں کو وقتی اقدامات کے ذریعے کوئی دورس فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔تاوقتیکہ یہ معاملہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل نہیں کیا جاتا ،خطے میں دو جوہری طاقتوں کے درمیان تصادم کا خدشہ موجود رہے گا.

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post طالبان کی پیش قدمی تیز قندوزشہرکا محاصرہ کرلیا
Next post آئی ایم ایف سے پاکستان کا رشتہ کیا ؟؟؟
Translate »