0 0
Read Time:7 Minute, 52 Second

آمنہ مصطفیٰ، ایم فل (عربی ادب)، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

پنجاب، دکن دہلی اور سندھ سمیت ہندوستان کے دیگر علاقوں میں جنم لینے والی شیریں و ہر دل عزیز زبان اردو ہے۔ جو اس وقت پاکستانیت کی خاص پہچان ہے اور مسلم امہ کی تین اہم زبانوں فارسی، عربی اور ترکی کا مجموعہ ہے۔ دنیا میں بولی اور سمجھی جانے والی چوتھی بڑی زبان اردو زبان کو ہمارے ادباء، مصنفین، شعراء کی علمی و ادبی کاوشوں نے زندہ وجاوید زبان بنایا۔

ان شخصیات کے علاوہ بانی پاکستان کی شکل میں اردو کو اپنے عہد کے نامور قانون دان و قانون ساز حضرت قائد اعظم کی تائید و حمایت بھی حاصل تھی۔ اردو کے نفاذ کے لیئے بانی پاکستان کی مساعی جمیلہ کو جاننے سے منکشف ہوتا ہے کہ انہیں اردو کی اہمیت و منزلت کا شدت سے احساس تھا۔ وہ ہمیشہ نفاذ اردو پر زور دیتے تھے اور اس زبان کو اسلامی تہذیب و تمدن کے احیاء کے لیئے ناگزیر سمجھتے تھے۔ اس بات کا اظہار بانی پاکستان کے 24 مارچ 1948ء کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے جلسہ تقسیم اسناد میں کیئے جانیوالے خطاب میں ملتا ہے۔

آپ نے فرمایا
”پاکستان کی سرکاری زبان جو مملکت کے مختلف صوبوں کے درمیان افہام و تفہیم کا ذریعہ ہو صرف اور صرف اردو ہو سکتی ہے۔ اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں۔ اردو وہ زبان کے جسے برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے پرورش کیا ہے۔ اسے پاکستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سمجھا جاتا ہے۔ اردو وہ زبان ہے جو دوسری صوبائی اور علاقائی زبانوں سے کہیں زیادہ اسلامی ثقافت اور اسلامی روایات کے بہترین سرمائے پر مشتمل ہے۔ اور دیگر اسلامی ممالک کی زبانوں سے قریب تر بھی ہے“ (۱)

حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ایک صاحب بصیرت، دور اندیش، دلیر، زیرک اور بے باک راہنماء تھے۔ آپ بظاہر ساری زندگی انگریزی زبان بولتے رہے۔ ان جیسی فصیح و بلیغ اور بے داغ انگریزی اس زمانے میں برصغیر میں شائد ہی کوئی بولتا ہو۔ اور اسی انگریزی میں مہارت کے بل بوتے پر پاکستان کو انگریز سامراج کے تسلط سے آزاد کروایا۔ انہوں نے انگریزی میں ہی پاکستان کا مقدمہ لڑا بھی اور جیتا بھی۔

مگر پاکستان کی بقاء، اتحاد و تعمیر و ترقی کے لیئے صرف اردو زبان کا انتخاب کیا۔ اور آزاد ہوتے ہی اردو کو پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دیا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک متحد قوم بنانے کے لیئے ایک زبان کا ہونا لازم ہے۔ اردو اس وقت پاکستان کے کسی بھی حصے میں بطور مادری زبان رائج نہ تھی مگر قابل فہم سب کے لیئے تھی اسی لیئے قائد نے دیگر زبانوں پر اردو کو فوقیت دی۔

ایک اور موقع پر ڈھاکہ میں ہی خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ
”پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور اردو کے علاوہ کوئی زبان نہ ہو گی۔“ (۲)

اردو محض ایک زبان ہی نہیں بلکہ مسلمانان برصغیر کی سنہری تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ایک ضحیم علمی و ادبی سرمائے کا ذخیرہ بھی ہے۔ جو آگے چل کر تحریک پاکستان کی روح رواں بنی۔

یہ بھی پڑھیں

تاریخ پاکستان کے ایک ادنیٰ طالب علم کو بھی یہ معلوم ہے کہ برعظیم میں دو قومی نظریئے کی بنیاد اور جڑیں اردو ہندی تنازعے میں پیوست ہیں۔ اس عہد کے عظیم راہنما و مصلح سر سید احمد خان نے اردو کو نہ صرف یہ کہ خود اختیار کیا بلکہ اردو کی حمایت میں کمیٹیاں قائم کیں۔

قیام پاکستان کے مقاصد جلیلہ میں اردو کا نفاذ، ترویج اور فروغ بھی تھا۔ بانی پاکستان نے اردو کے تحفظ کے لیئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ جس کا ثبوت انہوں نے ڈھاکہ میں دیا جہاں بنگلہ اردو تنازعے کے دوران انہوں نے اپنی پہلی اردو تقریر کی۔

موقع محل کے مطابق وہاں اردو کی شدید مخالفت جاری تھی اردو دشمنی کو زائل کرنے کے لیئے قائد نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ
”میں واضح الفاظ میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو اور صرف اردو ہو گی۔ جو شخص آپ کو اس سلسلے میں غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کرے وہ پاکستان کا پکا دشمن ہے۔ ایک مشترک قومی زبان کے بغیر کوئی قوم نہ تو پوری طرح متحد ہو سکتی ہے اور نہ کوئی کام کر سکتی ہے“ (۳)

بعض متعصب اور عناد پرستوں کا کہنا ہے کہ قائد اعظم کو اردو زبان سے محبت نہیں تھی ان کی تمام تقاریر انگریزی زبان میں ہیں۔ یہ عظیم قائد کی حکیمانہ سوچ و افکار کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اغیار کی زبان اور لباس میں رہتے ہوئے انہیں شکست فاش سے دوچار کیا۔ سید انجم جعفری اپنی ایک نظم میں قائد کی اردو سے محبت کو یوں بیان کیا ہے۔

مسافر کے لیئے ہر شہر میں رخت سفر اردو
زبانیں اور بھی ہیں ملک میں انجم، مگر اردو
تجھے اے قائد اعظم ارادت صرف اردو سے
کہ مجبوری تھی انگریزی محبت صرف اردو سے (۴)

قائد اعظم جب بھی اردو کی بات کرتے تھے تو اسے برطانوی ہند کے مسلمانوں کے لیئے فکری و علمی احیاء کا ذریعہ قرار دیتے تھے۔ قائد نفاذ اردو کے اس لیئے بھی خواہاں تھے اور ایسے ادب کے خواہش مند تھے جو قرآن و سنت کی بنیادوں پر استوار ہو۔ کیوں کہ مسلمانوں کا مذہبی و علمی ورثہ تفاسیر، احادیث، اور تاریخ وغیرہ اردو میں موجود تھا۔

وہ بخوبی سمجھتے تھے کہ ذریعہ تدریس کے لیئے یہاں صرف اور صرف اردو ہی موزوں، موثر اور کارآمد ہے۔ اسی لیئے ایک موقع پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ
”درس و تدریس کے سلسلے میں زبان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔۔ تعلیمی عمل کو موثر اور غیر موثربنانے میں زبان اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ زبان ہی ہے جو استاد اور شاگرد کے درمیان رابطے اور وسیلے کا کام دیتی ہے۔ پاکستان میں اردو زبان ملک کے طول و عرض میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے اور رائج کرنے کا سوال آج کل بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے اردو زبان کے ضمن میں یہ بات سوچنا ہے کہ اسے قومی زبان سمجھ کر بطور ذریعہ تعلیم نافذ کیا جائے“ (۵)

قائد نے کبھی اپنی ذات کو ملک و قوم پر فوقیت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو ان کی مادری زبان یا تعلیمی زبان نہ ہونے کے باوجود انہوں نے اسے قومی زبان کا درجہ دیا۔ کیوں کہ یہ معاملہ ان کی ذات کی حد سے ماوراء نوزائیدہ مملکت کی تمام علاقائی اقوام کو ایک وحدت میں پرو کر ایک قوم بنانے کا تھا۔

تمدن و معاشرت کی یگانگت کی بنیاد زبان

چونکہ معاشرت اور تمدن کی بنیاد زبان ہی ہوتی ہے۔ جو کسی بھی قوم کو متحد رکھنے کے لیئے نسخہ اکسیر ہے۔ اس کی واضح مثال مشرقی و مغربی پاکستان تھے۔ جن کا تمدن و ثقافت تو الگ الگ تھی مگر اردو زبان نے انہیں ایک وحدت بنا دیا۔ یہی وجہ ہے جب اردو کے ساتھ معاندانہ رویہ ترک نہ کیا گیا تو مذہب ایک ہونے کے باوجود پچیس سال بعد بنگلہ دیش ہم سے الگ ہو گیا۔

قائد کو زبان کے مسئلے کی حساسیت اور سنگینی کا مکمل ادراک و شعور تھا۔ اسی لیئے آپ نے اردو کو پاکستان کی قومی و سرکاری زبان قرار دیا اور بطور خاص ڈھاکہ میں اردو کو قومی و سرکاری زبان بنانے پر زور دیا۔ مشرقی بنگال میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ

”مجھے پاکستان کی ریاستی زبان کے سوال پر اپنے خیالات کا اعادہ کرنے دیجیئے۔ اس صوبے میں دفتری استعمال کے لیئے صوبے کے افراد جو زبان استعمال کرنا چاہیں کہ سکتے ہیں لیکن رابطہ کی زبان جو ریاست کے مختلف صوبوں میں رابطے کا وسیلہ ہے وہ صرف اردو ہو گی، کوئی دوسری نہیں۔“ (۶)

قائد نے اپنی زندگی میں ہر محاذ پر اردو کی بطور قومی زبان اہمیت و ضرورت کو اجاگر نہ کیا ہو۔ جہاں اردو زبان کو سرکاری۔ قومی، دفتری معاشرتی اور ریاستی زبان قرار دیا وہیں نوجوانوں کو بھی نفاذ اردو کے لیئے بہت اکسایا۔

قائد پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند تھے ان کی رحلت نے وطن عزیز مین اغیار کی سازشوں کو پنپنے کا موقع دیا جو آگے چل کر ملک دولخت ہونے کا باعث بنیں۔ قائد نے اپنے عرصہ حیات میں ہر موقع پر یہ واضح کیا کہ انہیں اردو زبان سے بے پناہ محبت و عقیدت تھی۔

قائد کے فرمودات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم اردو کو بطور قومی زبان نافذ و رائج کریں اب بھی صرف اردو ہی پاکستان کے باشندوں کی انفرادیت کو زندہ کر کے انہیں ایک قوم میں بدل سکتی ہے۔ اس لیئے ہمیں اردو کے نفاذ و ترویج کو قومی فریضہ سمجھنا چاہیئے۔

ریاست کو چاہیئے کہ وہ اردو کے تحفظ، ترویج اور نفاذ کے ذریعے علمی، سائنسی اور صنعتی شعبوں میں ترقی کی رفتار کو بڑھائے اس مقصد میں کامیابی کی کلید صرف اور صرف اردو ہے۔

حوالہ جات
(۱) سید قاسم محمود، قائد اعظم کا پیغام، لاہور مطبوعہ 1967ء صفحہ 197
(۲) نور تحقیق (جلد ۲ شمارہ ۸) شعبہ اردو۔ لاہور گریژن یونیورسٹی لاہور صفحہ 242
(۳) عارف افتخار، مقتدرہ قومی زبان، ماضی حال اور مستقبل، مشمولہ اخبار اردو، ماہنامہ جلد 26 شمارہ 7، اسلام آباد، مقتدرہ قومی زبان جولائی 2009ء صفحہ 3
(۴) انجم جعفری سید، میر کارواں 1958ء ص 134
(۵) نور تحقیق ص 245
(۶) محمد یاسین شیخ، قائد اعظم اور قومی تعلیم ص 145

 

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %

Average Rating

5 Star
0%
4 Star
0%
3 Star
0%
2 Star
0%
1 Star
0%

2 thoughts on “قائد اعظم کا تصور قومی زبان،عالمی مقابلہ میں اول انعام یافتہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Translate »