احمد کمال

اسلام آباد


پنجشیر کا قصہ بھی تمام ہوا ،طالبان کامزاحمت کے آخری گڑھ پر قابوپانے کے بعدافغانستان کے تمام صوبوں پر کنٹرول مکمل ،ملک حالت جنگ سے نکل آیا ہے ،طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہم نے مزاحمت کرنیوالوں کیساتھ مذاکرات کی متعدد بار کوششیں کی لیکن ان کا جواب منفی آیا ۔

جس کے نتیجے مجبوراً ہمیں طاقت کا استعمال کرنا پڑا تاہم اس دوران عام شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا
واضح رہے کہ وادی پنجشیر سوویت قبضہ کے دوران اور بعدازاں 1996 میں طالبان کے دائرہ اختیار سے بھی باہررہا اور افسانوی شہرت حاصل کرنے والے شمالی اتحاد کے کمانڈر احمدشاہ مسعود کی قیادت میں یہ علاقہ طالبان کیلئے سردرد بنا رہا

،تاوقتیکہ احمد شاہ مسعود ایک خود کش حملے میں مارے گئے ،تاہم اس دوران نائن الیون کے واقعہ نے پوری دنیا کی سیاست کا پانسہ پلٹ کر رکھ دیا اور القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے اور انہیں پناہ دینے کی پاداش میں طالبان نے افغانستان کی طالبان حکومت کےخلاف جنگ کا آغاز کردیا ۔


یہ بھی پڑھیں


طالبان کے خلاف امریکی قیادت میں ہونے والی اس جنگ میں شمالی اتحاد میں شامل جنگجوئوں نے طالبان کے خاتمے اور کابل سمیت بڑے شہروں پر قبضہ میں اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ،افغانستان میں شکست کے بعد طالبان زیرزمین چلے گئے اور اگلے چند سالوں کے دوران ہی انہوں نے اپنی مزاحمتی قوت کو ایک بار پھر یکجا کرتے ہوئے امریکی مفادات کو زبردست زک پہنچانا شروع کردی

15 اگست کا نامکمل سفر اپنے اختتام کو پہنچا

جس کے نتیجے میں امریکی 2020 میں ایک معاہدے کے نتیجے میں افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادی نکلنے پر آماد ہ ہوگئے اور یوں اگلے ایک سال میں اتحادی افواج نے بتدریج اپنا بوریا بستر لپیٹنا شروع کردیا ۔اگرچہ امریکہ کے ابتدائی تخمینوں کے مطابق طالبان کو کابل تک پہنچنے میں چھ ماہ لگ سکتے تھے لیکن ماضی کے کئی اندازوں کی طرح ایک بارپھر یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا اور امریکی ابھی کابل ایئر پورٹ پر موجود ہی تھے کہ طالبان کی بڑھتی پیش قدمی صرف ڈیڑھ دو ہفتوںمیں ہی کابل پرجا کر منتج ہوئی

ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے حوالے سے کہا ہم یقین دلاتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گےہم ہر ملک کیساتھ تعاون اور تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں

کیوں کہ ایک کے بعد ایک صوبہ اور ایک کے بعد دوسرا وارلارڈ طالبان لشکر کےسامنے خس و خاشاک کی طرح تحلیل ہوتے گئے اور بالاآخر افغان ملی اردو بھی ہوا میں تحلیل ہوگئی ،لیکن پنج شیر کی وادی میں سابق نائب صدر اول اور خود کو قائمقام صدر قرار دینے والے امراللہ صالح نے معروف کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کے ساتھ مل کر مزاحمت کا محاذ قائم کیا جو مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد پیر کی صبح طالبان کے ہاتھوں فتح ہوگیا ۔

امراللہ صالح اشرف غنی کی طرح ملک سے فرار ہوگئے ،طالبان کا دعویٰ

جہاں اطلاعات کے مطابق امراللہ صالح اپنے صدر اشرف غنی کی طرح ملک سے فرار ہوچکے ہیں ،جبکہ احمد مسعود کسی آبرومندانہ معاہدے کی تلاش میں صلح کیلئے راہ ڈھونڈ رہے ہیں

آج کابل میں پنجشیر کی تسخیر کے بعد طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس کے دوران آئندہ کے لائحہ عمل ،حکومت کی تشکیل سمیت دیگر تمام موضوعات پر کھل کر بات کی

ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے حوالے سے کہا ہم یقین دلاتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے

ہم ہر ملک کیساتھ تعاون اور تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں لیکن یہ تعاون غیرمشروط ہونا چاہئے کیوں کہ مشروط تعاون اور ملکی معاملات میں دخل اندازی کےخلاف ہم نے 20 سال جدوجہد کی ہے

ترجمان کا کہنا تھا افغانستان میں اب جنگ ختم ہوچکی ہے اور اب ہم ایک پرامن اور مستحکم افغانستان کی امید رکھتے ہیں ۔اب جو بھی ملک میں ہتھیار اٹھائے گا وہ ملک دشمن سمجھا جائے گا

جبکہ کابل ائرپورٹ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ قطر ،ترکی اور متحدہ عرب امارات کی ٹیمیں ایئرپورٹ کی بحالی کے کام میں مصروف ہیں اور بہت جلد ہم فلائٹ آپریشن شروع ہوجائے

اس کے علاوہ انہوں نے سابق افغان فوج کے تربیت یافتہ اہلکاروں کو طالبان کے ساتھ فوج میں بھرتی کرنے کا بھی اعلان کیا ۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغانستان میں اپنےسفارتخانے کھولیں کیوں افغانستان کو تسلیم کیا جانا اس کا حق ہے

پریس کانفرنس کے دوران ذبیح اللہ مجاہد نے اس تاثر کو بھی سختی کیساتھ رد کیا کہ اندرونی اختلافات کی وجہ سے حکومت کے اعلان میں تاخیر ہورہی ہے انہوں نے کہا بعض تکنیکی مسائل کی وجہ سے تاخیر ہوئی تاہم جلد حکومت کا اعلان کردیا جائے گا اور رہبراعلیٰ ملا ہبت اللہ اخونزادہ بہت جلد عوام کے سامنے آئیں گے

امراللہ صالح و احمد مسعود کجا است؟

علی الصبح طالبان کی جانب سےپنجشیر کے آخری ضلع اور صوبائی صدرمقام بازارک پرقبضے کا اعلان کیا گیا اور طالبان کے گورنرہائوس پر امارت اسلامی کا پرچم لہراتے ہوئے ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ۔اسکے علاوہ بھی کئی ایسی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئیں جن سے طالبان کے دعوے کی صداقت ثابت ہوتی ہے

البتہ آخری وقت اور آخری گولی تک طالبان کا مقابلہ کرنے کا اعلان کرنے والے نام نہاد قائمقام صدر امراللہ صالح کے بارے میں یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ پنجشیر سے فرار ہوچکے ہیں ،جبکہ احمد مسعود کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ کسی مخفی مقام پر موجود ہیں اور طالبان کے ساتھ کسی آبرومندانہ معاہدے کے ذریعے خود کو حوالے کرنا چاہتے ہیں

البتہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی دعویٰ کیا کہ امراللہ صالح فرار ہو کر ازبکستان چلے گئے ہیں

فہیم دشتی کو کس نے مارا؟

واضح رہے کہ پیر کی صبح مزاحمتی فرنٹ کی جانب تصدیق کی گئی کہ ان کے ایک اہم کمانڈر اور ترجمان فہیم دشتی طالبان کے حملے میں مارے جاچکے ہیں ،تاہم بعض پروطالبان سوشل میڈیا اکائونٹس اور ترجمان
ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پنجشیر مذاحمتی اتحاد کے ترجمان فہیم دشتی امارت اسلامی کے ساتھ جھڑپ میں نہیں بلکہ جنرل جرات اور کمانڈر قدرت کے درمیان لڑائی میں مارے گئے۔

جنرل جرات نے امارت اسلامی کی بیعت کا اعلان کیا جس پر ان کے درمیان جھگڑا ہواجبکہ پنجشیر میں طالبان کی جانب سے لڑنے والوں کیلئے عام معافی کا اعلان کردیا اور ہتھیار ڈالنے والے جنگجوئوں کو رقم دیکر ان کے گھروں کو روانہ کردیا گیا

Translate »