مسرت اللہ جان،پشاور


کم و بیش اس کی عمر ساٹھ سال کی تھی فالج کے باعث اس کے زبان میں لکنت تھی اور اس کا پوتا اسے ہاتھوں سے پکڑ کر لا رہا تھا . قبائلی علاقہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس کا قد کاٹھ اچھا تھا اور اسے دیکھ کر پتہ نہیں چلتا کہ یہ اپنے دل میں بہت بڑا زخم لئے پھر رہا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے بھی متاثر کررہا تھا . فالج کا حملہ اور ہاتھ کا رعشہ بھی اسی وجہ سے آیا تھا اس کے ہاتھ میں عصا تھا جس کے سہارے وہ اپنے پوتے کے ہمراہ راقم سے ملنے کیلئے پشاور پریس کلب آیا. جہاں کم و بیش چار سال بعد ہماری ملاقات ہوئی .

قیوم خان سے راقم کی ملاقات پشاور ہائیکورٹ میں ہوئی تھی جہاں پر وہ میرے دوست وکیل فضل شاہ مہمند کیساتھ بیٹھا ہوتا تھا راقم کوریج کیلئے جایا کرتا تھا تو قیوم خان سے ملاقات ہوجایا کرتی تھی وہ اپنے دو بیٹوں کے قتل کے بعد انصاف کیلئے عدالتوں کے چکر لگایا کرتا تھا راقم کیلئے بھی ایک معمول کی سٹوری تھی کیونکہ عدالتوں کی کوریج کرتے ہوئے روزانہ سینکڑوں ایسے افراد سے ملاقات ہو جاتی ہیں جو انصاف کے حصول کیلئے کئی سالوں سے مارے مارے پھر رہے ہوتے ہیں

کم و بیش وہ سال 2008 سے کبھی فاٹا ٹریبونل ‘ کبھی کمشنر فاٹا اور کبھی پشاور کے مقامی عدالتوں سمیت پشاور ہائیکورٹ میں اپنے بیٹے کے قاتلوں کی گرفتاری کیلئے مارا مارا پھر رہا ہوتا ‘ قیوم خان پولیس میں رہ چکا تھا اور ریٹائرڈمنٹ کے بعد بھی وہ بڑا چست تھا ‘ جب بھی اس سے ملاقات ہوتی ‘ چائے پیتے گپ شپ لگاتے لیکن کبھی راقم نے اس کی کہانی سننے کی زحمت نہیں کی .


یہ بھی پڑھیں 


کیونکہ ہر روز ہر کی کی کہانی سننا بھی بڑے دل گردے کی بات ہے کیونکہ ناانصافی کا سن سن کر دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے ‘ افسوس بھی ہوتا ہے لیکن صحافی کچھ کربھی نہیں سکتے اس لئے فضول میں اپنے آپ کو کڑھانے سے بہتر ہے کہ خاموشی سے کام کئے جائو.

پھر ایک دن وکیل دوست نے راقم پر زور دیا کہ اس کی کہانی سنو تو مجھے اندازہ ہو جائیگا کہ اس کے ساتھ کیا زیادتی ہوئی ہے الغرض پشاور ہائیکورٹ کے گیٹ پر کرسیوں پر بیٹھ کر قیوم خان کا قصہ سنایا جس میں اس نے بتایا کہ اس کے دو جواں سال بیٹوں کو سال 2001 اور سال 2002 میں مارا گیا جس میں وہاں کی خاصہ دار بھی ملوث تھی اس کے دونوں بیٹوں کی لاشیں اس کے گھر پہنچا دی گئی اور یوں دو میٹرک پاس جوانوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا ‘ جس کی قتل کی ایف آئی بھی درج نہیں کی جاتی تھی لیکن بعد ازاں عدالتی احکامات پر کچھ اقدامات اٹھائے گئے لیکن پھر اسے کہا گیا کہ چونکہ یہ کیس فاٹا کا ہے اس لئے وہ پشاور سے مقامی عدالت کے بجائے فاٹا ٹریبونل چلا گیا ‘ کمشنر فاٹا کی عدالت میں حاضری دیتا رہا لیکن اسے انصاف نہیں ملنا تھا

فاٹا ٹریبونل نے دو بچوں کے قتل میں خاصہ دار وں کے ملوث ہونے کی رپورٹ سے متعلق پولٹیکل انتظامیہ کو ہدایات تھی کہ ملکان پر مشتمل جرگہ بنایا جائے جو قیوم خان کو انصاف فراہم کرے تاہم سال 2017 سے جرگہ ممبران تو بنا دئیے گئے جنہوں نے قیوم خان سے سفید کاغذ پر واک کا اختیار بھی لے لیا لیکن اللہ بھلا کرے قیوم خان جو ایک زمانے میں ہٹا کٹا تھا اب عدالتوں کے چکر کاٹ کاٹ کر قیوم خان بابا بن گیا ہے ‘ سفید داڑھی ‘ بال اور فالج نے اسے متاثر کردیا ہے اپنے جواں سال بیٹوں کے لئے انصاف کے حصول کیلئے اس نے اپنی مقدور بھر کوششیں کیں مالی وسائل لگائے لیکن انصاف نداراد.

جرگہ سے عدالتوں کا 20 سالہ سفر

اب قیوم خان بابا کو کہا جارہا ہے کہ چونکہ پولٹیکل نظام تبدیل ہو گیا ہے اس لئے اب جرگہ نہیں ہوگا اور اب گذشتہ اٹھارہ سال کی محنت جو قیوم خان بابا نے اپنے دو جواں سال بیٹوں کے قتل کے بعد کی تھی وہ ختم ہوتی نظر آرہی تھی. اس نے راقم کے وکیل دوست سے رابطہ کرکے کہا تھا کہ مجھے صحافی تک پہنچا دو میں اپنی بات اس سے کرونگا اور تین دن کے انتظار کے بعدوہ اپنے پوتے کے ہمراہ پشاور پریس کلب آیا..

اسے دیکھ کر لگ نہیں رہا تھا کہ یہ وہی قیوم خان ہے جس کا چہرہ ہر وقت مسکراتا رہتا جو ہر آنے جانیوالے کو چائے پلانے کی آفر کرتا اور چائے پلاتا. فالج نے اس کے زبان کو متاثر کیا ہے لیکن اس کا عزم ابھی تک تازہ ہے اس کے چہرے کی لکیریں کچھ زیادہ ہی گہری ہوگئی ہیں جس سے قیوم خان کی زندگی میں گزرے فکروں کی نشاندہی بھی ہوتی ہیں کہ کس طرح ضلع خیبر کا یہ بوڑھا بابا اپنے بچوں کے انصاف کے حصول کیلئے اٹھارہ سال سے کھڑا ہے

حالانکہ وہ خود کہتا ہے کہ میں اب تھک گیا ہوں ‘ مالی حالات میرے ایسے نہیں رہے جو پہلے ہوا کرتے تھے لیکن اب میں وزیراعظم عمرا ن خان کے پورٹل پر شکایت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا پتہ مجھے انصاف مل جائے.

قیوم خان بابا کی خواہش پر اس کے موبائل فون کے ذریعے وزیراعظم عمران خان کے پورٹل پر شکایت تو درج کرادی ‘ اس کے پوتے کے موبائل نمبر سے ای میل سے لنک بھی کردیا اسے انصاف مل سکے گا یا نہیں کیونکہ جن خاصہ داروں نے فائرنگ کرکے اس کے جوا ں سال بیٹوں کو قتل کیا تھا وہ تو پتہ نہیں کہاں پر ہونگے لیکن اس کے دو جواں سال بیٹوں کی کمپنسیشن جو اس کا بنیادی حق بھی ہے اور جس کی دعویداری اسی تبدیلی والی حکومت کے مردان سے تعلق رکھنے والے ممبر موجودہ قومی اسمبلی بھی لگایا کرتے تھے کہ جس کے قاتل نامعلوم ہو تو ریاست اس کی ذمہ دار ہوتی ہیں.

بوڑھے قبائلی کی دہائی کون سنے گا ؟

تو کیا اب مدینے کی ریاست کے دعوے کرنے والے موجودہ حکمران اس بوڑھے قبائلی ریٹائرڈ پولیس اہلکار کو دلاسہ دے سکیں گے انہیں انصاف فراہم کرسکیں گے انکی مالی امداد کرسکیں گے .یہ وہ سوال ہیں جو راقم قیوم خان بابا کو پشاور پریس کلب سے رخصت کرتے وقت بھی سوچ رہا تھا کہ کب ٹوٹیں گی غلامی کی یہ زنجیریں ‘ کب سب کو یکساں انصاف ملے گا کب تک قیوم خان جیسے بوڑھے باپ اپنے ساتھ دو جواں سال بچوں کے نہ دکھائی جانیوالے لاشے اپنے کندھوں پر لاکر اس نظام کو ‘ ایلیٹ کلاس کو ‘ عدالتی نظام کے سامنے لائیں گے کہ کیا پتہ انہیں اب انصاف مل جائے.

سال 2001 اور سال 2002 کے دو جواں سال بیٹوں کا غم لئے دو بیٹوں کا باپ قیوم خان باباکو اس دنیا میں انصاف مل سکے گا یا نہیں .اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن راقم کا وجدان اور ایمان یہی کہتا ہے کہ اللہ کے ہاں دیر اور سویر ضرور ہے لیکن اتنی اندھیرنگری وہاں پر نہیں..جن لوگوں نے ظلم کیا انہیں بھی اسی طرح کے ظلم کا نشانہ بننا پڑے گا .اور جن کو یوم آخرت پر یقین ہے وہاں بھی ان ہی لوگوں کا سامنا قیوم خان جیسے بابا سے ہوگا جو سلام کے بعد ہر کسی سے انصاف کا پوچھتے ہیں.

ویسے راقم کو سمجھ بھی نہیں آرہی کہ قیوم خان بابا سمیت ان جیسے ہزاروں ‘ لاکھوں افراد کو کو فاٹا انضمام سے کتنا فائدہ ہوا کیا انہیں انصاف مل سکے گا ، یہ وہ سوال ہیں جو قیوم خان بابا بھی پوچھتا ہے اور اس کے سوالوں سے گھبرا کر راقم بھی اس کی پائوں کو دیکھتا ہے جس میں پھٹے اور پرانے چپل ہیں مگر اس کا عزم ٹوٹانہیں ..

کہ انصاف کیلئے وہ اٹھے گا اٹھے گا اور اٹھے گا. لیکن کیا اس پاکستانی معاشرے میں اٹھارہ سال میں بھی انصاف نہ ہو تو یہ انصاف پھر کیسے ملے گا یہ سوال ہم سب کیلئے سوالیہ نشان ہے.

One thought on “20 سال قبل فاٹا میں‌ دونوجوانوں‌کا قتل اور ریاست مدینہ میں‌انصاف کا متلاشی بوڑھا”

Comments are closed.

Translate »