Spread the love

                       مسر ت اللہ جان


24 جنوری 2019 کی ایک خبر ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ خیبر پختونخواہ حکومت نے سکولوں کے طلباء کی تعلیمی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی بناء پر طلباء و طالبات کے وی آئی پی موومنٹ کے دوران استقبالیہ میں کھڑے ہونے پر پابندی عائد کردی ہے

2019 میں ایک نجی ٹی وی چینل کی ویب سائٹ پر شائع ہونیوالی اس خبر کیساتھ پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق صدر کی تصویر بھی دی گئی ہے مگر نجی ٹی وی چینل نے بھی انتہا کرتے ہوئے سال 2012 کی تصویر لگائی ہے

جس میں دو سکول کے بچے پیپلز پارٹی  کے صدر کو گلدستہ پیش کررہے ہیں.حالانکہ اس وقت ہزارہ میں ایک وی آئی پی موومنٹ کے باعث سرکار کی طرف ہونیوالے پروگرام میں گھنٹے سڑک کنارے سکول کے بچوں کو جھنڈے دیکر کھڑا کیا گیا تھا.

نجی ٹی وی چینل نے ایک تیر سے دو شکار کئے ایک طرف خوشامد اور چاپلوسی کی انتہا کرتے ہوئے سرکار کو بتایا کہ پیپلز پارٹی والے ان چیزوں کی پروا نہیں کرتے. جبکہ دوسری طرف یہ خبر بھی چلا دی کہ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایلمنٹری فرید خٹک نے وی آئی پی موومنٹ کے دوران سکول کے بچوں کے کھڑے ہونے پر پابندی عائد کردی ہے

اور اس بارے میں اعلامیہ جاری کردیا ہے کہ اب آئندہ کسی بھی سرکاری سکول میں بچوں کو وی آئی پی موومنٹ کیلئے خوش آمدید کہنے کیلئے استعمال نہیں کیا جائیگا.ساتھ میں یہ بھی کہا گیا کہ سکول میں بچے پڑھنے کیلئے آتے ہیں اس طرح کی غیر تعلیمی سرگرمیوں سے بچوں کا تعلیمی سال ضائع ہوتا ہے


یہ بھی پڑھیں 

  1. کڑوا سچ ‘ خوشامد اور چاپلوسی
  2. چہ خر دا خرہ کم وی نو غوگ ئی دا پریکولے دے”
  3. خیبر پختونخواہ کے "ڈمان” اور ہندوستانی فنکاروں کے گھر
  4. پیارے دا جی گل کے نام……از مسرت اللہ جان

2 جولائی 2021 کو ایک خط ضلع مانسہرہ کے ایک سکول کی پرنسپل کی طرف سے جاری ہوا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ انہیں تین لاکھ روپے ادا کئے جائیں کیونکہ مدینے کی ریاست کے دعویدار عمران خان ناران دورے پر آئے تھے

اور کم و بیش آٹھ سکولوں کے بچوں،بچیوں کو جن کی تعداد ایک ہزار ایک سو انیس کی قریب تھی وزیراعظم کو خوش آمدید کہنے کیلئے بلایا گیا تھا جس پر ان سکولوں کے کم و بیش تین لاکھ سے زائد کے اخراجات آئے ہیں جنہیں ادا کیا جائے

سب سے کم طلباء 61 کی تعداد میں جبکہ سب سے زیادہ طلباء 300 کی تعداد میں مدینے کی ریاست کا دعوے کرنے والے حکمران کی شان میں کھڑے ہونے کیلئے بلائے گئے تھے.اب سوال یہ ہے کہ کیا کاغان ‘ ناران کا علاقہ خیبر پختونخواہ کے ایریا میں نہیں آتا یا پھر ان آٹھ سکولوں کے ایک ہزار ایک سو انیس بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثرنہیں ہوئی یا پھر انہیں والدین نے صرف خوش آمدید کیلئے سکولوں میں داخل کروایا ہے یا پھر وہاں پر قانون کی عملداری نہیں ہے

سال 2019 سے لیکر 2021 تک ان دو واقعات میں جہاں حکمرانوں کی منافقت بھرے چہرے نظر آتے ہیں کہ کس طرح یہ بھوکی ننگی عوام کو ” تبدیلی کے نام پر ڈانس” پارٹی کروا کر اپنے مقاصد کیلئے استعمال کررہی ہیں

وہیں پر میڈیا کا کردار بھی نظر آتا ہے کہ کس طرح میڈیا بھی طوائفوں سے بڑھ کر کردار ادا کررہا ہے ‘ اگر پیپلز پارٹی والے چور اور کرپٹ تھے تو آج کے حاجی حکمران تو چور نہیں ‘ یہ تو عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں

یہ الگ بات کہ ان ووٹوں میں بوٹوں کا کردار بہت زیادہ ہے -کاغان میں دورے کے دوران کیا میڈیا اور صحافی موجود نہیں تھے جنہوں نے سڑک کنارے یا جلسے کیلئے آنیوالے ان بچوں کی کوئی فوٹیج نہیں بنائی ‘

کوئی ویڈیو کوئی تصویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل نہیں ہوئی جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کچھ صحافتی ادارے خوشامد میں کس حد تک گر چکے ہیں کہ انہیں سڑک کنارے سکول کے بچوں کا کھڑا ہونا نظر نہیں آیا . ہاں یہ الگ بات کہ میڈیا پر یہ بیان کیا گیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ناران میں پہنچی تھی جو ریاست مدینہ کے دعویدار سادہ وزیراعظم کے استقبال کیلئے آئے تھے.

موجودہ حکمران اتنے سادہ ہے کہ ان کی موجودگی میں وزیراعظم ہائوس کا آٹھ ارب چوالیس کروڑ ستتر لاکھ روپے کا ضمنی مطالبہ زر حال ہی میں قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا اتنے سادہ وزیراعظم ہیں کہ پچپن روپے فی کلومیٹر والے ہیلی کاپٹر میں پھرتے ہیں ‘

پٹ آنوں والی چپل پہنتے ہیں ‘ ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے اور ان کی موجودگی میں بھوکی ننگی عوام یومیہ ڈھائی کروڑ روپے ان کی سادگی پر قربان کرتی ہے۔جو کہ سالانہ تقریب نو ارب روپے ادا کرنے کے بعد قوم کو سادگی ،انصاف ،اور قناعت کے درس ملتے ہیں ۔قرضوں پر قرضے لیکر چلنے والے ایٹمی طاقت کے مالک پاکستان کا حال اگلے حکمرانوں کے آنے تک کیسا ہوگا؟ یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے .

اسی حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں یہ بیان دیا کہ خیبر پختونخواہ میں کوئی کچا گھر نہیں ‘ غربت ختم ہو چکی ہے اور تبدیلی کے اس دور میں لوگ اس حال کو پہنچ چکے ہیں کہ انہیں غریب ڈھونڈنے کو نہیں مل رہا

موصوف کی ان باتوں پر قومی اسمبلی میں بڑے ڈیسک بجائے گئے کہ واقعی سچ بول رہا ہے . ویسے پاکستان کے دفاع کی طرح مضبوط موصوف کے اس بیان کے بعد سمجھ نہیں آرہی کہ اگر واقعی اس ملک سے غربت اور غریب ختم ہوچکے ہیں تو پھر جابجا ہر شہر میں لنگر خانے کیوں کھولے جارہے ہیں

جہاں پر غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے کھانا فراہم کیا جاتا ہے .مدینے کی ریاست کے حکمران سچے ہیں جو لنگر خانے کھول کر کوئی بھوکا نہ سوئے جیسے نعرے لگا رہے ہیں یا پھر نوشہرہ سے تعلق رکھنے والی”بھاری بھر کم شخصیت”سچ بول رہے ہیں ‘ کہ غربت ختم ہو کر رہ گئی ہیں اور کوئی کچا گھر نہیں رہا.

مدینے کی ریاست کے دعویداروں کی منافقت کا حال یہ ہے کہ اپنی ہی حکومت کے جاری کردہ احکامات پر عملدرآمد نہیں کراپارہے سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے ویلکم پارٹیوں میں آنے سے متعلق پابندی سے لیکر تین لاکھ روپے کے سکولوں کے بچوں کو لانے والی گاڑیوں کے اخراجات ‘

کیا حکمران یہ پیسہ غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادا کرینگے یا پھر بیرونی ممالک سے آنیوالی فنڈنگ سے جس میں بہت سارے ایسے افراد کی فنڈنگ بھی ہے جن کے اپنے مخصوص مقاصد ہے اور ان کیلئے موجودہ حکمرانوں نے بہت ساری آسانیاں پیدا کردی ہیں اور مزید آسانیاں پیدا کررہے ہیں .

ویسے منافقوں کی اس حکومت سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ عوام نے سابق چوروں ‘ کرپٹ زدہ اور خاندانوں تک محدود حکمرانوں کو بخش دیا ہے کیونکہ موجودہ تبدیلی والی سرکار نے انہیں اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ گزرے حکمران انہیں اب فرشتے نظر آنے لگے ہیں..

اللہ خیر کرے .. اگلے دو سال بعد آنیوالے حکمران کیسے ہونگے یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے لیکن یہ بات یقینی ہے کہ اگلے حکمران موجودہ مدینے والی ریاست کے دعویداروں سے بھی ہر حال میں دو ہاتھ آگے ہونگے.

Translate »