خنسہ گل ، پیس کالج ہری پور

اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغؔ
ہندوستان میں دھوم ہماری زبان کی ہے

قومی زبان سے مراد وہ زبان ہے جس کو ملک کی اکثریت بولنے اور سمجھنے کی قابلیت رکھتی ہو۔قومی زبان ملکی اقداروثقافت میں اہم مقام کی حامل ہو تی ہے۔قومی زبان ملک میں بسنے والے لوگوں کے درمیان رابطے اوراتحاد کا زریعہ ہوتی ہے۔قومی زبان کے سبب ملک کے باشندے متحد رہتے ہیں۔یہ قوم کی ثقافت اور تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے۔ اور بین الاقوامی سطح پر قومی زبان محصوص ملک کی نمائندگی کرتی ہے۔ لہذا ملک میں بسنے والے لوگ اپنی قومی زبان کو مقدم جانتے ہیں۔

جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اسکے بانی اور پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح نے مارچ1948ء کو اس کی قومی زبان اردو کو قرار دیا۔متحدہ ہندوستان میں انگریز سامراج کے دوران اردو ہندی تنازعات وقفے وقفے سے جاری رہتے کبھی اردو کے بجائے ہندی کو قومی زبان کا درجہ دینے کی بات ہوتی تو اُس پر مسلمان ہند کے اختلافات جنم لیتے تھے۔لیکن اب چونکہ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک الگ آزاد اور خود مختار ریاست حاصل کرنی تھی۔ اس کی قومی زبان اردو قرار دی گئی جو تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔

وہ عطردان سا لہجہ میرے بزرگوں کا
رچی بس ہوئی اردو زبان کی خوشبو

اردو کو 1948ء میں قائد اعظم نے قومی زبان کے طور پر چنا۔ اردو کا رسم الخط عربی سے مشابہ ہے۔ اردو دیگر زبانوں عربی،ترکی، فارسی، ہندی وغیرہ کے الفاظ کا مجموعہ ہے اس کے ذخیر الفاظ کم و بیش ساڑھے چودہ لاکھ ہے۔ اردو کو پاکستان کی قومی زبان منتخب کیا گیا۔ پاکستان میں رہنے والی اکثریت اردو سمجھتی اور بولتی ہے۔ اردو کو پاکستان کی ثقافت میں خاص اہمیت حاصل ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف بولیاں بولی جاتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق دور حاضر میں پاکستان میں تقریباً تہتر مختلف زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں جو اپنے علاقے کی ثقافتی شان میں اضافہ کرتی ہیں لیکن مجموعی طور پر پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ اور مختلف ادوار میں اس کے فروغ کے لیئے کئی نامور ادیبوں، محققین اور محبان اردو نے اقدامات اٹھائے

ہم ہیں تہذیب کے علم بردار
ہم کو اردو زبان آتی ہے

قائد اعظم نے مارچ 1948میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے اردو کو قومی زبان منتخب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے فرمایا
”میں آپ پر واضح کر دوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی، اس کے علاوہ اور کوئی زبان نہیں۔ جو کوئی بھی آپ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ ایک زبان کے بغیر کوئی بھی قوم مضبوطی سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر کام نہیں کر سکتی۔ اس لیے جہاں تک سرکاری زبان کا تعلق ہے، پاکستانی زبان اردو ہوگی“

چونکہ پاکستان میں مختلف علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں اور قیام پاکستان کے وقت پاکستان دو حصوں مشرقی اور مغربی پاکستان پر مشتمل تھا۔مشرقی پاکستان کی اکثریت بنگالی زبان بولتی تھی جب کہ مغربی پاکستان کی زبان اردو تھی پنجاب کی اکثر آبادی پنجابی زبان جانتی تھی اسی طرح باقی صوبوں کی اپنی زبانیں تھیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اردو ہی کو کیوں قومی زبان کا درجہ دیا گیا؟ پنجابی یا بنگالی کو کیوں نہیں دیا گیا؟


یہ بھی پڑھیں


اس سوال کا جواب مختلف حوالوں سے دیا جا سکتا ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ اس وقت اردو ہی وہ زبان تھی جو ملک کی بیشتر آبادی بول اور سمجھ سکتی تھی۔ بنگالی یا پنجابی اور دیگر علاقائی زبانیں خاص علاقوں تک محدود تھیں۔ لیکن اردو کا مسکن نہ صرف مغربی پاکستان بلکہ ہندوستان کے بھی بہت سے علاقے تھے۔ حتیٰ کہ بنگالی عوام بھی اردو سمجھتے تھے۔

ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جس تاریخی، ثقافتی اور ادبی پس منظر کی حامل اردو زبان تھی اس جیسے عظیم پس منظر سے باقی زبانوں کا تعلق نہ تھا۔ ہمارے بہت زیادہ تہذیبی اور ثقافتی اثاثہ ادب اردو زبان میں محفوظ ہے۔ اس میں برصغیر پاک و ہند کے وسیع رقبے پر صدیوں راج کیا۔

اردو جسے کہتے ہیں، تہذیب کا چشمہ ہے
وہ شخص مہذب ہے جسے یہ زبان آتی ہے

پاکستان کی بنیاد دو بنیادی عناصر نے تشکیل دی۔ مذہبی اختلاف اور لسانی اختلاف۔ اردو جس نے ہندوستان کی سرزمین پر جنم لیا ارتقاء کے مراحل سے گزر کر آخر ایک مضبوط ثقافتی اہمیت کی حامل ہو گئی۔ کئی شعراء اور ادیبوں نے اسے اپنے خیالات کا وسیلہ بنایا اور آخر کار ہندوستان میں 1832ء میں اسے سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا۔ ہندی جو ہندوستان کے اکثریتی لوگوں کی زبان تھی اردو نے اسے بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

8157ء کے بعد 1867میں اردو ہندی تنازعہ کی بنیاد پڑی۔ اس لسانی اختلاف نے پاکستان حاصل کرنے کے جذبے کو پزیرائی دی۔ ہندوستانی مسلمانوں نے مذہبی اور لسانی اختلافات کی بنیاد پر ایک الگ وطن حاصل کیا۔ جب یہ وطن تشکیل پایا تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کی قومی زبان بھی وہی ہونی طے پائی جس میں اس کا ادبی، ثقافتی اور تاریخی سرمایہ محفوظ تھا۔ اور یہ بلا شبہ اردو زبان ہی تھی۔

سلیقے سے ہواؤں میں جو خوشبو گھول سکتے ہیں
ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اردو بول سکتے ہیں

گو ہندوستان کئی زبانوں کی آماجگاہ تھا جن میں سے ہر زبان اپنے لحاظ سے اہمیت رکھتی تھی آخر اردو کو ہی بطور قومی زبان کیوں چنا گیا؟ اس کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ اس میں مسلمانوں کا تمام تہذیبی، ثقافتی سرمایہ جمع تھا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی جذباتی وابستگی بھی اسی زبان سے تھی

قیام پاکستان کے بعد اردو کے علاوہ کسی اور زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے کی کوئی ایک بھی وجہ نہیں تھی۔ اگر قائد اعظم کسی اور زبان کو قومی زبان کے طور پر رائج کرتے تو اس کا نقصان یہ ہوتا کہ نوجوان نسل کبھی بھی اردو کے عظیم شعراء ادیبوں اور اپنے عظیم ثقافتی سرمائے اور شاندار ماضی سے روشناس نہ ہو سکتی۔

قائد اعظم نے مسلمانوں کے خیالات و افکار کو مد نظر رکھ کر اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا۔ اردو وہ واحد زبان تھی جو تمام پاکستانی سمجھ اور بول سکتے تھے۔ اور یہ خصوصیت قومی زبان کے تقاضے پر بھی پوری اترتی ہے۔

ہندوستان کے مسلمان اپنے ثقافتی، مذہبی، تاریخی اور ادبی پس منظر کی بنا پر اردو کو مقدم جانتے تھے اس میں ان کا ثقافتی سرمایہ جمع تھا۔ لہذا قدرتی طور پر انہیں اردو سے جذباتی لگاؤ تھا۔ قائد اعظم وہ عظیم راہنما تھے جنہوں نے ان جذبات کا احترام کیا۔ مسلمانوں کے اس لگاؤ کو سمجھا اور اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا۔ قائد کی مادری زبان گجراتی تھی وہ انگلستان سے تعلیم یافتہ تھے۔ لیکن انہوں نے اپنی ثقافت اور تہذیب کا احترام ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا۔

ڈھاکہ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
بنگالی اس صوبے کی سرکاری زبان ہوگی یا نہیں، اس کا فیصلہ اس صوبے کے عوام کے منتخب نمائندیں کریں گے۔لیکن میں آپ پر واضح کر دوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی، اس کے علاوہ اور کوئی زبان نہیں۔اردو کو بطور قومی زبان رائج کرنے کا فیصلہ نہایت دانشمندانہ تھا۔ اور اس حقیقت میں کوئی شک باقی نہیں ہے۔ چونکہ پاکستان کے تمام باشندے اردو زبان بول اور سمجھ سکتے ہیں یہ ہر علاقے کے نصاب کا حصہ ہے۔ لہذا اردو زبان ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والوں کے لیئے اتحاد اور ربط کا ذریعہ ہے۔

اگر کسی علاقائی زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا جاتا تو اس سے تعصب اور لسانی اختلافات جنم لینے کے امکانات قوی ہوتے لہٰذا پاکستان میں اردو اتحاد کا ذریعہ ہے۔

ہر ملک کی نمائندگی اس کی قومی زبان کرتی ہے۔ پاکستان کی نمائندگی اردو ہی کر سکتی ہے۔ چونکہ اردو کسی اور ملک کی قومی زبان نہیں لہٰذا بین الاقوامی سطح پر اردو وہی لسانی اظہار ہے جس سے ہم پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔ اردو ہی ہماری شناخت ہے۔ یہ وہ زبان ہے جو ہمیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے۔
یہ حروف تہجی اور ذخیرہ الفاظ کے اعتبار سے دنیا کی بڑی زبانوں میں شمار کی جاتی ہے۔ دیگر زبانوں پر اردو کا رعب قائم ہے۔

وہ کرے بات تو ہر لفظ سے خوشبو آئے
ایسی بولی وہی بولے جسے اردو آئے

افسوس کی بات یہ ہے کہ بانی پاکستان کے فرمان کے باوجود یہاں اردو کا نفاذ نہ کیا جا سکا۔ آج یہاں اردو کو وہ وقعت اور پزیرائی حاصل نہیں جو اس کا جائز حق تھا۔ نصاب میں شامل ہونے کے باوجود طلباء اس میں دلچسپی نہیں رکھتے وہ اس کی بطور قومی زبان اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ طلبہ سے کیا گلہ حکومتی سطح پر ہر فیصلہ اردو میں نہیں بلکہ انگریزی میں ہوتا ہے۔ عدالتوں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں یہاں تک کہ ہر چھوٹے بڑے محکمہ میں انگریزی کا تسلط قائم ہے۔

ہمیں اردو کو فروغ دینے کے لیئے سب سے پہلے خود اردو کو نافذ کرنا ہو گا۔ ”اردو پڑھو، اردو بولو“ کے تحت قوم میں شعور بیدار کرنا ہو گا۔ ہمارے لیئے اہم صرف اردو ہے۔ دیگر تمام زبانوں کی اہمیت ثانوی ہے۔ ہمیں اردو کو اپنی روز مرہ بول چال میں اہمیت دینا ہو گی۔ مختلف ادارے اس مقصد کے لیئے کوشاں ہیں ان شاء اللہ اردو مزید ترقی کرے گی۔

وہ بولتا ہے نگاہوں سے اس قدر اردو
خموش رہ کے بھی اہل زبان لگتا ہے

قائد اعظم تحریک پاکستان میں اردو کے کردار سے آگاہ تھے۔ مذہب کے بعد اہم چیز جو قیام پاکستان کی وجہ بنی وہ اردو ہی تھی۔ اگر متحدہ ہندوستان میں مذہبی اور لسانی اختلافات جنم نہ لیتے تو ہم ویسے ہی انگریزوں اور ہندوؤں کی غلامی میں ہوتے

اس مضمون کا اختتام اس شعر سے

شہد و شکر سے شیریں اردو زباں ہماری

One thought on “علیحدہ وطن کی تحریک کو جنم دینے والی اردو پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن”

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Translate »