Spread the love

جبران شینواری
لنڈی کوتل


دو روز قبل طالبان کی جانب سے طورخم بارڈر کا انتظام سنبھالے جانے کے بعد دو طرفہ تجارت مختصر تعطل کے بعد ایک بار پھر جاری ہوگئی ہے جبکہ اس راستے جانے والی مال بردار گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ،

جو کہ سابقہ اشرف غنی حکومت میں امپورٹ اور ایکسپورٹ والی گاڑیوں کی تعداد کم تھی،مقامی ذرائع کے مطابق دو دنوں میں سنکڑ وں گاڑیاں سرحد کے دونوں اطراف  جا چکی ہیں،

کسٹم ایجنٹ فضل اللہ اور ڈرائیور نوزت خان کیمطابق افغان گمرک میں رشوت کا خاتمہ ہو گیا ہے اور تجارتی معاملات میں کافی آسانیاں پیدا کی گئی ہیں

 


یہ بھی پڑھیں


گزشتہ روز افغان طورخم،گمرک اور جلال آباد پر طالبان کا قبضہ ہونے کے بعد  پاک افغان بارڈر طورخم کے راستے امپورٹ اور ایکسپورٹ کی گاڑیوں مں اضافہ ہوا ہے جوکہ گذشتہ کئی ماہ سے افغانستان کی صورتحال کے باعث سست روی کا شکار تھیں

جس کی وجہ سے تجار، کاروباری طبقہ اور ٹرانسپورٹرز سخت پریشان تھے اور بمشکل سو ڈیڑھ سو گاڑیاں دونوں طرف جاتی تھیں اور ہزاروں گاڑیاں افغان گمرک میں پھنسی ہوتی تھیں لیکن اتوار کی شب افغان طورخم اور گمرک پر طالبان کے قبضے کے بعد جب مال بردار گاڑیوں کو ایک بار پھر آنے جانے کی اجازت دی گئی

جس کے بعد دو دنوں مں 100 سے زائد گاڑیاں ٹرانزٹ کی، 322 امپورٹ اور 194 گاڑیاں ایکسپورٹ کی دونوں طرف روانہ ہوئیں  اور پیر کے روز شام تک 120 ٹرانزٹ گاڑیاں جا چکی تھی جس کی تصدیق کسٹم حکام نے بھی کی ہے

افغان بارڈر پر مال لانے اور لے جانے والے ایک ڈرائیور نے اپنا نام ظاہر کئے بغیر بتایا کہ اس سے قبل افغان حدود میں داخل ہوتے ہی افغان پولیس اورکسٹم حکام مال بردار گاڑیوں سے 50 ہزار روپے تک رشوت لیتے تھے ،اور جو گاڑی مالکان رشوت نہ دیتے بعض اوقات ان کی گاڑیاں بلاوجہ ہفتوں روک کر رکھی جاتیں اور انہیں بلاوجہ تنگ کیا جاتا تھا ،تاہم ان کے پاس اس کام کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا

البتہ طورخم کسٹم کے ڈی سی عمیر زاہد نے بتایا کہ فی الحال ان کے پاس مکمل معلومات نہیں ہیں اس لئے اس بارے میں مزید کچھ نہیں بتاسکتے ۔

طورخم پر رشوت ستانی اور تنگ کرنے کا سلسلہ ختم ہوا ،ڈرائیوروں کا بیان

تاہم اس حوالے سے مقامی ڈرائیوروں کا کہنا کہ دو روزقبل جب سے طالبان نے طورخم بارڈ ر کا کنٹرول سنبھالا ہے رشوت ستانی اور بلاوجہ تنگ کرنے کا  سلسلہ ختم ہوگیا اور اب انہیں صرف مقررہ محصولات ادا کرنا ہوتے ہیں ۔
ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ سرحد کے آرپار تجارت میں آسانی سے نہ صرف مقامی لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے بلکہ دونوں ممالک کی معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے

جبکہ مقامی حکام کے مطابق طورخم بارڈ کی عارضی بندش کے بعد آمد ورفت کا سلسلہ ایک بار پھر بحال ہوگیا ہے اور گذشتہ روز 44 پاکستانی شہری طورخم کے راستے وطن واپس آئے ہیں

دریں ڈپٹی کمشنر خیبر منصور ارشد نے بھی اعلیٰ سول و پولیس حکام کے ہمراہ طورخم بارڈ رکا دورہ کیا اور حالات کا جائزہ لیا

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ڈی پی او خیبر وسیم ریاض ،اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل اکبر افتخار احمد اور ایف سی حکام بھی اس موقع پر ان کے ہمراہ تھے

ڈپٹی کمشنر خیبر کا طورخم سرحد کا دورہ،حالات کا جائزہ

دورہ کے دوران ڈپٹی کمشنر خیبر منصور ارشد نے طورخم بارڈر زیرو پوائنٹ پر موجودہ صورتحال، ٹرانزٹ مال بردار گاڑیوں کی بلا تعطل نقل و حرکت اور افغانستان میں پھنسے پاکستانی شہریوں کے بزریعہ طورخم بارڈر پاکستان واپسی کے عمل کا جائزہ لیا ۔
سیکورٹی فورسز حکام نے انہیں  طورخم بارڈر زیرو پوائنٹ پر مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت کے متعلق بریفننگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ طورخم بارڈر زیرو پوائنٹ پر حالات معمول کے مطابق ہیں اور  مال بردار گاڑیوں کی بلاتعطل نقل و حرکت جاری ہے۔

نشنل کمانڈ اینڈ اپریشن سنٹر کے احکامات کے مطابق کرونا وباء کے باعث جاری شدہ پالیسی  اور مجوزہ طریقہ کار کے مطابق پاکستانی شہریوں کی بذریعہ طورخم بارڈر آمدورفت کا سلسلہ جاری رہے گا جس میں افغانستان میں پھنسے پاکستانی شہری بزریعہ طورخم بارڈر پاکستان داخل ہوسکیں گے۔

Translate »