0 0
Read Time:4 Minute, 13 Second

جبران شینواری

لنڈی کوتل


طورخم بارڈ کے آرپار مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت میں کمی،ایک ہزار سے زائد خالی گاڑیاں کئی روز سے افغانستان جانے کی منتظر طورخم بارڈ پر کھڑی ہیں ۔

اگرچہ افغانستان میں طالبان کے آنے کے بعد ابتدائی دنوں میں دونوں ممالک کے مابین تجارت میں یکدم اضافہ ہوا تھا۔لیکن حالیہ دنوں کے دوران گاڑیوں کی چیکنگ اور جانچ پڑتال کا عمل سخت ہونے اور افغانستان سائیڈ پر کسٹم کے نظام میں ردوبدل کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے ،

ذرائع کے مطابق افغانستان میں طورخم ،جلال آباد اور کابل میں کسٹم کا عمل مکمل ہوتا تھا لیکن اب یہ تمام معاملات طورخم بارڈر پر ہی طے کئے جاتے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کی تعداد کم ہورہی ہے ۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ افغان بارڈ پر ایک ہزار سے زائد مال بردار گاڑیاں سرحدپار جانے کی منتظر کھڑی ہیں جبکہ افغانستان سے روزانہ 70 سے 80 گاڑیاں پاکستان آپاتی ہیں ۔مقامی تاجروں کیمطابق تازہ پھلوں، ٹماٹر کی 340 گاڑیاں بارڈر کراس کرکے پاکستان آنے کی منتظرہیں

پہلے تازہ پھلوں اور سبزیوں کی ڈھائی سو گاڑیاں روزانہ آتی تھیں طورخم ،جلال آباد اور کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امپورٹ ایکسپورٹ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تھا لیکن اب بمشکل روزانہ 45 خالی گاڑیاں بارڈر پار کرکے پاکستان آتی ہیں جس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز مشکل صورتحال سے دوچار ہو چکے ہیں


یہ بھی پڑھیں


افغان کسٹم ذرائع کے مطابق پہلے طورخم کسٹم ہاؤس، جلال آباد اور کابل مں کسٹم ہوا کرتی تھی اب یہ سارا محصولات کا کام افغان طورخم میں ہوتا ہے اور دوسرا طالبان کے زیر کنٹرول حکام اور پاکستانی حکام کی ایک ایک گاڑی کی چکنگ پر ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت لگاتے ہیں جس کی وجہ سے آر پار آنے جانے والی گاڑیوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے

مقامی کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کے مطابق تازہ پھلوں کے ڈرائیوروں اور مالکان نے پاکستانی طورخم کی حدود میں غیر ضروری چیکنگ پر برہمی اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تازہ پھل اور اجناس بر وقت پر منزل پر نہںن پہنچائی جاتیں ان کے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے جس سے ان کا بہت بڑا مالی نقصان ہوتا ہے

کسٹم کلیئرںنگ ایجنٹس اور ڈرائیوروں کا کہناتھا افغانستان طورخم میں طالبان کے آنے سے کرپشن اور بھتہ خوری کا خاتمہ ہوچکا ہے تاہم پاکستانی طورخم اور ضلع خیبر کی حدود میں پولیس اہلکار کھلے عام بہت زیادہ غیر قانونی پسے لیتے ہیں اور  ٹریفک پولیس بھی اپنے کمیشن کیلئے بلاجواز بھاری چالان کرتی ہے

انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ ڈرائیوروں کو غیر ضروری چالانوں اور تنگ کرنے کے واقعات کا فوری نوٹس لیا جائے اور ان کا تدارک کیا جائے تاکہ مال بردار گاڑیاں بلاتعطل دوطرفہ تجارت کو جاری رکھ سکیں


افغانستان میں بڑی مارکیٹ ،حالات کی بہتری سب کیلئے فائدہ مند ہوگی ،امجد رحمان

افغانستان کے غیریقینی حالات مں کوئی سرمایہ کاری نہیں کریگا، افغانستان میں حکومت قائم ہونے کے بعد درآمدات اور برآمدات میں اضافہ ہوگا،تجارت بڑھنے میں دو ماہ لگ سکتے ہیں، افغانستان بڑی مارکیٹ ہے، کسٹم اپریزمنٹ کلکٹر امجد رحمان کی میڈیا سے گفتگو۔

کسٹم کلکٹر پشاور اپریزمنٹ امجد علی نے چارج سنبھالنے کے بعد طورخم کا پہلا دورہ کا اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹر شاہد جان, ڈی سی ٹرانزٹ امانت خان ودیگر بھی موجود تھے

کسٹم کلکٹر امجد علی نے زیرو پوائنٹ, امپورٹ ٹرمینل, سکینر اور ایکسپورٹ گٹ آوٹ کا دورہ کیا جہاں پر کسٹم عملہ نے انہں بریفنگ دی اس موقع پر کسٹم کلکٹر امجد علی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تجارت کو فروغ دینے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے

اور اس حوالے سے تاجروں کو ہر ممکن سہولیات دینے کی کوشش کرینگے،انہوں نے کہا کہ افغانستان ہماری ایکسپورٹ کے لئے بڑی منڈی ہے جہاں سے ہماری ملکی برامدات کو نہ صرف افغان عوام بلکہ وسطی ایشیا کے ممالک تک پہنچائی جا سکتی ہیں

غیریقینی صورتحال تجارت میں کمی کی بنیادی وجہ ہے

انہوں نے کہا کہ افغانستان کیساتھ ایکسپورٹ کی کمی کی اصل وجہ افغانستان میں غیر یقینی صورتحال ہے جونہی وہاں پر حالات ٹھیک ہونگے تو ایکسپورٹ اور امپورٹ بڑھ جائیں گی ۔ جس سے ملکی تجارت میں اضافہ ہوگا اور عوام کو کاروبار کے بے شمار مواقع میسر آئیں گے

کسٹم کلکٹر اپریزمنٹ امجد علی نے کہا کہ جتنی تیزی سے افغانستان کے اندر حکومت قائم ہوگی اور امن و استحکام آئیگا اتنی تیزی سے سرمایہ کار افغانستان کے اندر سرمایہ کاری کی طرف راغب ہونگے جس سے افغانستان اور پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان کو تجارت کے حوالے سے بہت فائدہ ہوگا

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام آئیگا تو پاکستانی مصنوعات کو سنٹرل ایشیا کے ممالک تک پہنچانا آسان ہوگا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Translate »