جبران شنواری ،لنڈی کوتل


پاک افغان طورخم بارڈر کو افغان حکومت نے پیدل آمد و رفت کیلئے بند کر دیا ،مقامی ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر کو صبح افغان حکومت کی جانب سے بند کردیا گیا جس سے پاکستان میں پھنسے افغانیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں طالبان حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا.

ذرائع کے مطابق افغان بارڈر حکام پاک افغان بارڈر طورخم کو دونوں جانب پیدل آمد و رفت کیلئے کھول دینا چاہتے ہیں تاکہ دونوں طرف سے پیچیدگیوں کو ختم کیا جا سکے اور لوگوں کی آمدورفت میں مشکلات نہ ہو ذرائع کے مطابق طورخم بارڈر عام لوگوں کی آمدورفت کے لئے غیر معینہ مدت کیلئے بند رہیگا جب تک افغان اعلیٰ حکام کی جانب سے کوئی حکم نامہ نہیں آتا

ادھر پاک افغان بارڈر پر افغانستان جانے والے سینکڑوں افغان شہری پاکستان طورخم پر پھنس گئے ہیں جو اپنے ملک  افغانستان جا رہے تھے جن میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں ہیں ۔ ذرائع کے مطابق پولیس حکام نے اعلانات کے ذریعے پھنسے ہوئے افغانیوں کو مطلع وہ کہ وہ واپس جائیں اور جب تک طورخم بارڈر کھل نہیں جاتا اس وقت تک طورخم آنے کی زحمت نہ کریں.


یہ بھی پڑھیں 


واضح رہے کہ طورخم بارڈر پر ایکسپورٹ امپورٹ بحال رہی جس میں افغانستان سے سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ معدنی پتھر جبکہ پاکستان سے سیمنٹ اور دیگر ایکسپورٹ افغانستان جاتی رہیں ہیں۔ طورخم گیٹ پر پیدل آمدو رفت معطل رہنے کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا.

ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے طورخم بارڈر کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کے دوران بتایا تھا کہ 12 ستمبر کو پاک افغان سرحدات کو پیدل آمد و رفت کیلئے کھول دیا جائے گا جس پر 12 ستمبر کو طورخم بارڈر پر سینکڑوں افغان شہریوں کا ہجوم گیٹ کھولنے کے انتظار میں کھڑا رہا،

تاہم گیٹ کرونا ایس او پی کے مطابق کھلا رہا اور افغانستان سے آنے والے مریضوں اور پاکستانیوں کو پاکستان آنے کی اجازت تھی جبکہ باقی لوگوں کو آنے کی اجازت نہیں تھی یہی خبر افواہ بن گئی کہ گیٹ کھلا ہوگا اس لئے دونوں طرف ہجوم بن گیا جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا اس لئے لوگوں کو واپس لوٹنا پڑا۔

Translate »