احمد کمال


گذشتہ رات گئے طالبان کے اہم ترین رہنما اور دوحہ میں سیاسی مذاکرات کار ٹیم کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر قندھار کے ایئرپورٹ پر اتر گئے ۔یہ ان کی تقریباً 20 سال بعد واپسی ہے کیوں کہ کابل سے طالبان حکومت کے خاتمے کے بعدوہ روپوش ہوگئے اور بعدازاں 2010 میں پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کی مشترکہ کاروائی کے دوران انہیں کراچی سے گرفتار کرلیا گیا تھا

جہاں اگلے 8 سال وہ پاکستان کی حراست میں رہنے کے بعد 2018 میں رہا ہو کر قطر چلے گئے اور وہاں انہوں نے سیاسی عمل میں حصہ لیتے ہوئے فروری 2020 میں امریکی انخلاء کے معاہدے پر دستخط کئے

1994 میں تحریک طالبان کی بنیاد رکھنے والے چار مرکزی قائدین میں شامل ملاعبدالغنی برادر کو طالبان کو ملاعمر کے بعد اہم ترین رہنما تصور کیا جاتا ہے ۔ اور ان کی ملاعمر سے انتہائی قریبی قرابت داری بھی بتائی جاتی ہے ،جنہوں نے 2001 کے سقوط کابل کے بعد طالبان کی مزاحمت کو زندہ اور فعال رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔


یہ بھی پڑھیں


یہی وجہ تھی کہ وہ ان طالبان رہنمائوں میں شامل تھے جن پر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے ان کے اثاثے منجمد کرنے اور ان پر سفر پابندیاں عائد کیں

لیکن 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رضامندی کے نتیجے میں ان کی قید سے رہائی اور ان پر سفرپابندیوں کا خاتمہ ہوا اور انہوں نے دوحہ کے سیاسی دفترکی سربراہی سنبھال لی اور اس عرصہ کے دوران انہیں ایک بار پھر مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ۔

پاکستان آمد ،اسیری و رہائی اور 20 سال بعد واپسی

اگرچہ انہوں نے ذرائع ابلاغ سے ہمیشہ دوری رکھی ،تاہم طالبان کی جانب سے کابل حاصل کئے جانے کے بعد انہوں نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا  جس میں انہوں نے کہا  کابل کو دوبارہ حاصل کرلینا بڑی کامیابی ہے لیکن ہمارا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے

ہمیں غرور و تکبر کا شکار ہونے کے بجائے عجز کا راستہ اختیار کرنا ہوگا

ہم ایک ایسا اسلامی نظام کا حامل افغانستان چاہتے ہیں جو آزاد ،متحد ،خوشحا ل ہو ،جہاں ملک کے تمام لوگوں کو بلاامتیاز مواقع حاصل ہوں اور وہ باہمی احترام اور برادارانہ ماحول میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہیں ۔ہم مستقبل کے افغانستان کے اپنے پڑوسی ممالک اور عالمی برادری کیساتھ مثبت ،احترام باہمی اور خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں ۔

طالبان کی جانب سے کابل سمیت پورے ملک میں تیز رفتار اور پرامن  واپسی اور افغان فوج اور حکومت کی تحلیل نے بہت سے عالمی اندازوں اور خدشوں کو غلط ثابت کیا ہے ۔بالخصوص امریکی صدر جوبائیڈن سمیت دنیا بھر کے کئی سیاسی و عسکری ماہرین کے لئے افغانستان کے معاملات کسی اچھنبے سے کم نہ تھے

ذبیح اللہ مجاہد کی پہلی پریس کانفرنس اور مستقبل کا لائحہ عمل

جبکہ گذشتہ رات کو ہی طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں طالبان کے مستقبل کے لائحہ عمل کو دنیا کے سامنے واضح کیا جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اسلامی قوانین کے مطابق ملک کو چلائیں گے

طالبان ترجمان کا کہنا تھا  کابل میں اپنی پہلی پریس کانفرنس کے دوران ذبیح اللہ مجاہد نے موجودہ اور مستقبل کے حوالے سے تمام ممکنہ پہلوئون پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا

ہم اپنے قوانین پر عمل کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ حق حاصل ہے۔ کسی کو افغان عوام کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ امارت اسلامیہ خواتین کے حقوق پر یقین رکھتی ہے، ہماری تمام بہنیں محفوظ ہیں، ہمارا خدا اور قرآن کہتا ہے کہ خواتین معاشرے کا اہم حصہ ہیں۔


انہوں نے کہا تعلیم ،صحت سمیت تمام شعبوں میں وہ ملک کی ترقی کیلئے شانہ بشانہ کام کریں گے ،خواتین کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوگا ،اور انہیں تمام حقوق اسلام و شریعت کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے حاصل ہوں گے

۔ وہ اسلامی روایات کا خیال رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا افغانستان میں میڈیا سمیت تمام اداروں کو سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی ،میڈیا آزاد ہوگا تاہم ہماری تین تجاویز ہوں گی جن کا احترام کرنا ہوگا

اول قومی مفاد کے خلاف کوئی مواد شائع نہ ،دوم  غیرجانبداری اور سوم نشریات اور مواد اسلامی اقدارے سے متصادم نہ ہوں

ذبیح اللہ مجاہد نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہم نہیں چاہتے تھے کہ ملک میں کوئی افراتفری ہو ،اس لئےہم نے کابل پر حملہ نہ کرنیکا فیصلہ کیا تھا،ہم پرامن انتقال اقتدار چاہتے تھے ،اس لئے ہم معاملات کو طے کئے جانے تک شہر میں داخل  نہیں ہوئے

انہوں نے کہا کابل کے حصول کے بعد امیر المومنین نے تمام سرکاری ملازمین ،سابق فوجی اراکین ،اور غیرملکی افواج کیساتھ کسی بھی حیثیت سے کام کرنے والوں کیلئے عام معافی کا اعلان کردیا ہے ۔اب کسی سے کوئی انتقام نہیں لیا جائے گا ۔

 

Translate »