سید عتیق


افغانستان سے موصول ہونے والی تازہ اطلاعات کے مطابق کابل سے قندھار جانے والی شاہراہ پر واقع صوبہ غزنی کا دارلحکومت غزنی بھی طالبان کے قبضے میں آ چکا ہے ۔ اس طرح غزنی دسواں صوبائی دارلحکومت ہے جس پرگذشتہ ایک ہفتے کے دوران طالبان نے قبضہ کیا ہے ۔
‏‏

گورنر غزنی کو افغان حکومت نے گرفتار کر لیا

اس سے قبل غزنی کے گورنر دائود لغمانی طالبان کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت سرنڈر کرنے کے بعد غزنی سے کابل چلے گئے تھے مگرافغان حکومت نے انہیں کابل پہنچنے سے پہلے وردک صوبے مںے داخل ہوتے ہی گرفتار کر لیا

گورنر دائود لغمانی کو پولیس چیف کے ہمراہ کابل جانے کی ضمانت پر طالبان نے رہا کر دیا تھا ۔ گورنر نے بغیر لڑے غزنی شہر طالبان کے حوالے کر دیا۔ محمد داؤد لغمانی کو طالبان نے بحفاظت شہر سے نکالا اور وردک صوبے کے سدن آباد ضلع کی طرف بھجا دیا۔ گورنر نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ شہر سرنڈر کرنے کی صورت میں انھں پولیس چیف سمت کابل جانے دیا جائے گا

طالبان ہرات میں بھی داخل

جنوب مغربی صوبے ہرات میں بھی شدید مزاحمت کے بعد طالبان داخل ہو چکے ہیں ۔‏ہرات شہر کے مرکز میں شدید لڑائی جاری ہے ۔ افغان نیوز ایجنسیوں کے مطابق طالبان گورنر آفس سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں ۔ ساتھ ہی ہرات کی سنٹرل جیل کی طرف بھی پش قدمی کر رہے ہیں ۔ایران کی سرحد پر واقع صوبہ ہرات کے ضلع شيندند میں اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ایئرفیلڈ پر بھی طالبان نے قبضہ کر لیا ہے۔


یہ بھی پڑھیں 


یہ افغانستان میں پائلٹس کی تربیت کا بڑا مرکز تھا۔ معروف کمانڈر اسماعیل خان شہر کی مغربی جانب سخت مزاحمت کر رہے ہیں۔ جبکہ طالبان شہر کی مشرقی جانب سے اندر داخل ہوئے ہیں ۔ اسی دوران یہ خبر بھی سامنے آئی کہ ہرات پر طالبان نے قبضہ کر کے جیل سے قیدیوں کو رہا کروا لیا ہے ۔

جب کہ پولیس ہڈرکوارٹر پر طالبان نے قبضہ کر لیا ہے ۔ یوں ہرات گیارہواں صوبائی دارلحکومت ہے جو ایک ہفتے کے دوران طالبان کے قبضے میں آیا ۔ طالبان ترجمان ذبیح  اللہ مجاہد کے ٹوئٹر اکائونٹ سے بتایا گیا ہے کہ لشکر گاہ اور قندھار طالبان کے قبضے میں آ چکے ہیں

مگر ابھی تک آزادانہ ذرائع سے ان خبروں کی تصدیق نہیں ہو سکی ۔ سوشل میڈیا پر قندھار اور لشکر گاہ سے افغان فورسز کے انخلاء کی ویڈیوز بھی شیئر کی جا رہی ہیں ۔

‏پکتیکا کے اہم مراکز بھی طالبان کے زیرکنٹرول

طالبان نے پاکستانی سرحد سے متصل مشرقی صوبے پکتیکا کے ضلع یحی خیل پر بھی مکمل قبضہ کر لیا ہے ، پولیس ہیڈرکوارٹرز اور دیگر مراکز پر بھی طالبان نے کنڑول حاصل کر چکے ہیں ۔

طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ ملا یعقوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان ‏لوگوں کا دل اور بھروسہ جیتیں ۔ہر قسم کی بدنظمی ختم کی جائے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جائے ۔ ہتھیار ڈالنے والوں کو امان دی جائے، ان کی زندگی کی حفاظت کی جائے۔”

قندھار کے مغرب اور نم روز کے مشرق میں موجود جنوبی افغانستان کا صوبہ ‏ہلمند ہے ۔ جس کے صدر مقام لشکرگاہ میں طویل محاصرے کے بعد طالبان نے صوبائی پولیسو ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا۔ افغان فورسز کے تعینات اہلکاروں میں سے کچھ نے ہتھار ڈال دیے، جبکہ کچھ نے گورنر ہاؤس کی جانب پسپائی اختیا ر کر لی ۔

ہلمند پولسل ہیڈکوارٹر سے طالبان کو ٹینکس، امریکی ہمویز، بڑی تعداد میں گاڑیاں اور بھاری اسلحہ ملا ہے ۔
مغربی صوبہ جوزجان کے صوبائی صدرمقام شبرغان شہر سے پسپا ہونے والے افغان فورسز کے اہلکاروں کو طالبان نے یتیم تاغ کے علاقے مںں رات گئے پکڑ لیا تھا  جنہوں نے بعد مںں طالبان کے سامنے ہتھار ڈال دیئے ۔

شمالی ‏صوبہ قندوز میں موجود افغان آرمی کی پامیر217 کور اور ائیربپورٹ سے پسپائی اختیار کرنے والے افغان فورسز کے اہلکاروں کو طالبان نے صوبہ بغلان کے شہرکہنہ کے علاقے میں پکڑا تو فورسز اہلکاروں نے ہتھار ڈال کر جان کی امان حاصل کر لی ۔

لڑائی سے متاثرہ ہزاروں خاندانوں کی کابل کی جانب نقل مکانی

دوسری جانب افغانستان میں طالبان اور حکومت کے مابین لڑائی کی وجہ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں ۔ زیادہ تر لوگ اپنا علاقہ چھوڑ کر کابل کا رخ کر رہے ہیں۔ مختلف شہروں سے مہاجرین کے قافلے کابل کی طرف آ رہے ہیں۔ کابل میں ان کے لے انتظامات کرنے میں حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے ۔

  افغان فوج کی ناکامی کی وجوہات

افغان فورسز کے سرنڈر کرنے سے متعلق امریکی جریدے فارن پالیسی  میگزین نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ” ‏افغانستان میں فوجی  اور پولیس اہلکاروں کو باقاعدگی سےتنخواہ نہںی ملتی۔ مناسب خوراک، پانی، گولہ بارود اور اسلحہ فراہم نہیں کیا جاتا سپلائی لائن غیرفعال ہیں۔ ہتھار،گولہ بارود اور دیگرسامان بلیک مارکیٹ میں فروخت ہوجاتا ہے، اور یوں زیادہ تر اسلحہ و ساز و سامان طالبان تک پہنچ جاتا ہے

اشرف غنی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ اور طالبان کو شراکت اقتدار کی پیشکش

افغانستان کے سابق نائب وزیر خارجہ ‏ارشاد احمدی نے کہا ہے کہ اشرف غنی فوری استعفی دیں اور لویہ جرگہ بلایا جائے ۔ اشرف غنی نے افغانستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ فوج ان کےلیے لڑنے کو تیارنہیں۔ ان کے پاس لڑنے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ اس لئے لوگ لاتعلق ہو گئے ہیں،

دوسری جانب  دوحہ میں چین ، امریکہ ، پاکستان ، ازبکستان ، برطانیہ  اور افغان حکومت کے نمائندگان طالبان کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں ۔ اس دوران افغان حکومت نے طالبان کو اقتدار میں شراکت کی پش کش کی ہے ۔ افغان حکومت چاہتی ہے کسی طرح طالبان کا راستہ روک دیا جائے مگر عملاً حکومت کو اب تک کوئی کاماپبی حاصل نہیں ہو پائی ۔

طالبان نے قندوز اور دیگر علاقوں مںن سرنڈر کرنے والے فوجیوں کو طالبان نے پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا ہے

ادھر طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ اور سابق طالبان چیف ملا عمر کے بیٹے مولوی یعقوب نے طالبان کے لئے ایک آڈیو پیغام مں اپنی فوج کے لئے ہدایات جاری کی ہیں ۔ اپنے پیغام میں طالبان راہنما کا کہنا تھا کہ ‏تمام صوبوں میں نظم و ضبط کے لئے پولیس ہیڈ کوارٹر فعال کیے جائیں  لوگوں کے مال، جائیداد، بازار، دکانوں، ہسپتال کسی بھی چیز کو نقصان نہ پہنچایا جائے ،عام لوگوں کے معمولات زندگی اور کاروبار بحال رہیں

ملاعمر کے بیٹے مولوی یعقوب کا طالبان کے نام آڈیو پیغام

طالبان ‏فوجی کسی سرکاری عہدیدار یا کمانڈر کےگھر میں داخل نہ ہوں ۔ حکومت کےحامی لوگوں کے گھر جائیداد کاروبار کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ ہتھار ڈال کر گھر واپس آنےوالوں کو کچھ نہ کہا جائے۔ نجی بینک معمول کےمطابق اپنا کام کریں، ہم حفاظت کریں گے۔ حکومتی بینکو ں کی مکمل حفاظت کی جائے۔

طالبان ملٹری کمیشن کے سربراہ ملا یعقوب کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان ‏لوگوں کا دل اور بھروسہ جیتیں ۔ہر قسم کی بدنظمی ختم کی جائے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت یقینی بنائی جائے ۔ ہتھیار ڈالنے والوں کو امان دی جائے، ان کی زندگی کی حفاظت کی جائے۔”

اس دوران طالبان نے قندوز اور دیگر علاقوں مںن سرنڈر کرنے والے فوجیوں کو طالبان نے پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیا ہے جب کہ قندھار ، شبر غان ، تخار ، قندوز کی جیلوں سے قیدیوں کے فرار کی ویڈیوز بھی سامنے آئی رہی ہیں ۔

جیلوں سے قیدیوں کے فرار کی وجوہات

طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ جیلو ں کا عملہ قیدیوں کو چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے ۔ قیدی یا تو خود تالے توڑ کر نکل آتے ہیں یا پھر انہیں جیل حکام کھول کر فرار ہو جاتے ہیں ۔ ایسے مںن خطرناک قیدیوں کے باہر آنے سے شہریوں کو مزید خطرات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے ۔

ایک برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ان جیلو ں میں چالیس سے پچاس فیصد قیدیوں کا تعلق طالبان سے تھا اس لئے  وہ جیلوں سے نکل کر دوبارہ طالبان کی صفوں میں شامل ہو جاتے ہیں ۔

Translate »