سیدعتیق ،صفدر حسین


طالبان افغانستان پر مکمل قابض ہوچکے ہیں اور انہوں نے جنگ ختم ہونے کا اعلان کردیا ہے ،اب وہ کیا کریں گے؟ یہ ایک قیاس ہے ۔دنیا نے ان کی واپسی کو کیسے دیکھا یہ اور کیا ردعمل دیا یا مستقبل میں طالبان کی زیرقیادت افغانستان کیا ہوگا اس بارے میں اب تک دنیا کے اہم ممالک کی جانب کیا موقف سامنے آیا ہے ؟ اس رپورٹ میں جائزہ لیتے ہیں


پاکستان

طالبان کے 20 سال بعد افغانستان پر غلبے کےبعد پاکستان ایک بار پھر مرکزی حیثیت حاصل کرچکا ہے ،کیوں کہ امریکی انخلاء کے بعد دنیا کی کئی طاقتیں افغان معاملات میں بے اثر ہو کررہ چکی ہیں ۔گذشتہ روز اس وقت جب کہ افغانستان کے صدارتی محل میں انتقال اقتدار کے حوالے سے مذاکرات جاری تھے ،

عین اس وقت افغانستان کے متعدد اہم رہنمائوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح وفد اسلام آباد کیلئے روانہ ہوچکا تھا ،یہ ایک دیگر معاملہ ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان چند گھنٹوں کے اس سفر کے دوران ہی افغان صدر اشرف غنی بھی ملک چھوڑ کر اقتدار طالبان کے حوالے کرچکے تھے

تادم تحریر طالبان وفد پاکستان میں ہی موجود ہے جہاں پیر کے روز ان کی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں ہوئی ہیں ۔فی الوقت پاکستان کی جانب سے یہی موقف جاری کیا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مستحکم اور پائیدار امن کیلئے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے ۔

ابھی تک چونکہ طالبان نے اپنی باقاعدہ حکومت کے قیام اور سربراہ کا اعلان نہیں کیا ،اس لئے پاکستان کا اسے تسلیم کرنا یا نہ کرنے کے بارے رائے رکھنا قبل ازوقت ہے تاہم وزیر اعظم نے آج یکساں نصاب کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا

ذہنی غلامی کی زنجیریں توڑنا بہت مشکل ہے ،لیکن افغانستان نے ابھی غلامی کی زنجیریں توڑی ہیں ۔
واضح رہے کہ 1996 میں افغانستان میں قائم ہونے والی طالبان حکومت کو صرف تین ممالک تسلیم نے کیا تھا ،جس میں متحدہ عرب امارات ،سعودی عرب اور پاکستان شامل تھے

روس

روس کے افغانستان کیلئے خصوصی نمائندے ضمیر کابلوف نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا طالبان قیادت سابق کٹھ پتلی حکومت سے کہیں بہتر ہیں ،

دوسری جانب سے ابھی تک کابل میں روسی سفارتخانہ پوری طرح فعال ہے ،جبکہ ماضی قریب میں بھی طالبان قیادت کی جانب سے بین الاقوامی روابط کے دوران روسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کو خصوصی اہمیت دی گئی ،جس سے مستقبل کے بہتر تعلقات کا امکان ظاہر کیا جاسکتا ہے

چین

چین نے گذشتہ ماہ بیجنگ کے دورہ کے موقع چینی وزیر خارجہ نے طالبان کو افغانستان کی اہم سیاسی و عسکری قوت قراردیا تھا ،تاہم کابل پر قبضہ کے بعد چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے چین کے طالبان کیساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے

 

ایران

کئی حوالے سے ماضی میں ایک دوسرے کے بارے میں تلخ رویہ رکھنے والے طالبان اور ایران کے مابین کئی سطح پر ہم آہنگی دیکھنے میں آرہی ہے ،جس کا اظہار طالبان کی حالیہ کامیابیوں کے بعد ملک کی مذہبی اقلیتوں کو مکمل آزادی اور تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی ہے ۔


یہ بھی پڑھیں

 

ایران کے نومنتخب صدرابراہیم رئیسی نے اپنے خطاب میں افغانستان میں امریکہ کی فوجی شکست کو جنگ سے تباہ ملک کے پائیدار امن اور ترقی و خوشحالی کے موقع میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا اگرچہ ان کے بیان میں طالبان کی کامیابی اور کابل کے سرنڈر کا ذکر موجود نہیں

تاہم انہوں نے کہا ہم افغانستان میں بدلتے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں

حماس

علاوہ ازیں گذشتہ شام کو طالبان کے دوحہ دفتر کی جانب سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق فلسطین کے سابق وزیر اعظم اور حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے طالبان کے نائب امیر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ملاعبدالغنی برادر کیساتھ ملاقات کی ہے


پیر کا روز کابل پر طالبان کے غلبے کا پہلا دن کیسا رہا ؟

افغانستان مں طالبان کا قبضہ مکمل ہونے کے دوسرے روز بھی کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہجوم موجود ہے جو کسی نہ کسی طرح یہاں سے نکلنا چاہتے ہیں ۔ اگرچہ طالبان قیادت کی طرف سے عام معافی کا اعلان بھی کیا گیا ہے مگر پھر بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ ائیرپورٹ کی طرف بھاگے جا رہے ہیں ۔

پیر کے روز سوشل ویب سائٹس کے ذریعے سامنے آنے والی ویڈیوز مں دیکھا جا سکتا ہے کہ انسانوں کا ہجوم طیاروں کے ارد گرد جمع ہے ۔ ایسے مں پیر کی صبح امریکی فوج کی فائرنگ سے بھی پانچ اموات ہوئیں جب کہ تین افراد امریکی جہاز سے لٹک کر نکلنے کی کوشش مں جہاز سے گر کر ہلاک ہوئے ۔

کابل میں داخل ہونے والے طالبان سپاہیوں کا شہریوں کی جانب سے استقبال

یوں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد اب تک ہونے والی اموات کی یہ ابتدائی اطلاعات ہیں ۔ امریکہ نے اپنے سفارتی عملے کو کابل سے نکال کر سفارت خانہ بند کر دیا ہے جب کہ برطانیہ اور دیگر مغربی ممالک بھی اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

انڈیا شہری بھی نکلنے والوں میں پیش پیش ہیں ۔ اب تک صرف پاکستان، چین ،اور روس نے اپنے سفارت خانے کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانہ بیرونی دنیا کے تمام لوگوں کو نکلنے کے لئے سہولت فراہم کر رہا ہے ۔


ایئرپورٹ پر ملک سے نکلنے کے ہزاروں خواہشمندوں کا سمندر ،فائرنگ و حادثات میں 5 ہلاکتیں

میڈیا اور غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں سمیت انسانی حقوق کے لئے کام کرنیوالوں کو پاکستان میں ہی ویزے کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ اس مشکل وقت میں پاکستان کا یہ کردار عالمی طاقتوں کے مقابلے میں بہت اچھا ہے ۔

اس سارے منظر نامے  کو دیکھتے ہوئے  مستقبل مںن طالبان کے ساتھ عالمی برادری کے تعلقات کا اندازہ لگانا اب مشکل نہں رہا ۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو مغربی میڈیا آڑے ہاتھوں لے رہا ہے ۔ نیویارک ٹائمز ،اورانڈیپنڈنٹ سمیت تمام مغربی میڈیا آج امریکہ کی بیس سالہ جنگ میں ناکامی پر سیخ پا ہے ۔

اب مغربی دنیا کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کے کھربوں ڈالر بے کار مں ضائع ہوئے ۔ اس لئے مستقبل قریب میں طالبان کے ساتھ امریکہ یا اس کے قریبی حلیفوں برطانیہ اور فرانس وغیرہ کے تعلقات بہتر ہونے کی امیدکم ہوتی نظر آرہی ہے ۔

البتہ پاکستان چین اور روس سے تعلقات طالبان کے لئے غنیمت ہوں گے ۔ عرب ممالک بطور خاص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے خود کو افغانستان سے یوں الگ کر رکھا ہے جسے کبھی آشنا ہی نہ تھے حالانکہ روس کے خلاف مزاحمت کے زمانے سے ہی عرب ممالک افغان وار کے بڑے کھلاڑیوں میں شامل تھے ۔

مگر اس بار مکمل طور پر افغانستان کے معاملات سے انہوں نے خودکو الگ کر رکھا ہے ۔ عرب ممالک میں سے صرف قطر واحد ملک ہے جس سے طالبان یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ ان کا ساتھ دے گا ۔ مگر قطر پر امریکی اثر و رسوخ سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔قطر پر امریکہ اور ترکی صرف دو ممالک اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔

ترکی کی پوزیشن اب بہت کمزور ہو چکی ہے ۔ ترکی کے پاس ترپ کا پتہ مارشل عبدالرشدت دوستم تھا جسے آخری وقت مں کھیلا گیا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔ یہ واحد چال تھی جس کے ذریعے ترکی طالبان پر اثر انداز ہو سکتا تھا ۔

پڑوسی و دوست ممالک سے تعلقات اور ترکی کا مخمصہ

مگر دوستم کے فرار نے ترکی کو بظاہر زبردست دھچکا پہنچایا ہے۔ ترکی نے نیٹو کا ایک سرگرم رکن ہونے کی وجہ سے کابل ایئرپورٹ  کی نگرانی کی ذمہ داریاں بھی سنبھال رکھی تھیں لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بعد ترکی کا کردار محدود سے محدود تر ہو چکا ہے ۔

اگر ترکی اور طالبان قیادت کے درمیان کوئی مفاہمت نہ ہوسکی تو عین ممکن ہے کہ ترکی بھی کابل سے کوچ کرنے پر مجبور ہو جائے ۔ ترکی اب پاکستان کے اثر و رسوخ کو استعمال کر کے افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گا

اسی وجہ سے ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے وزیر اعظم سے رابطہ کر کے تعاون کی مانگاہے  ۔


یہ بھی پڑھیں

افغان گریٹ گیم کا اس وقت سب سے اہم کھلاڑی پاکستان بن چکا ہے ۔چونکہ کابل حکومت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات گزشتہ بس سالوں کے دوران کبھی خوش گوار نہیں رہے ییں۔ غنی حکومت کی جانب سے پاکستان پر طالبان کی مدد کے الزامات لگائے جاتے رہے

افغان منظر نامہ ،کیا پاکستان ایک بار پھر اہمیت کا حامل بن چکا ہے  ؟

یہی وجہ ہے کہ غنی حکومت کی رخصتی پر پاکستانی عوام خوشی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ لیکن کیا طالبان قیادت دشمن کے دشمن کو دوست سمجھتے ہوئے مستقبل میں خوش گوار تعلقات قائم رکھ پائے گی اس کا انحصار افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر کی سرکوبی پر ہے ۔

گزشتہ عرصے میں طالبان قیادت کی جانب سے چین۔ روس اور پاکستان کو یہ یقین دہانی کروائی جا چکی ہے کہ طالبان افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ۔ جب کہ پاکستان کو مطلوب کالعدم ٹی ٹی پی کے متعدد راہنما اس وقت افغانستان میں موجود ہیں

پاکستان کے دورے پر آنے والا افغان وفد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ہمراہ

اور جو وہاں جیلوں میں قید تھے اب آزاد کئے جا چکے ہں ۔ ایسے میں طالبان کی اسلامی امارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کا انحصار اس بات پر ہے کہ طالبان قیادت کالعدم ٹی ٹی پی یا دیگر پاکستان مخالف گروہوں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے ؟


یہ بھی پڑھیں

اگر طالبان قیادت معاہدے کے مطابق ٹی ٹی پی اور شمالی ترکستان کی تحریک جہاد اسلامی،القاعدہ اور داعش وغیرہ کے خلاف حسب وعدہ کارروائی کرتی ہے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں ۔ البتہ انڈیا، امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات بحال ہونے میں ابھی بہت وقت لگ سکتا ہے  ۔

ایک کے بعد ایک شہر اور ایک بعد دوسرے صوبے میں گھنٹوں کے حساب سے سفر کرتے طالبان بالآخر کابل پہنچ کر اس پرقبضہ کرچکے ہیں ،پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد اب اگلا مرحلہ یعنی قیادت کے کا انتخاب آن پہنچا ہے

امارت کا اگلا امیر کون ہوگا پوری دنیا منتظر

اب پوری دنیا یہ دیکھ رہی ہے  کہ افغانستان کی اسلامی امارت کا اگلا سربراہ کسے مقرر کیا جائے گا ؟ اس وقت  طالبان کے تین سینئر قائدین سرفہرست ہیں جن میں ملاہیبت اللہ ،ملاعبدالغنی برادر اور ملایعقوب شامل ہیں

البتہ اس حوالے سے کوئی سرپرائز یعنی کسی ایسے نام کا اعلان بھی ممکن ہے جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کررہا ، عالمی برادری کے ساتھ تعلقات پر نئے سربراہ کی تقرری بھی اثر انداز ہو گی ۔ تاہم ممکن ہے امریکہ کے زیر اثر بہت سے ممالک نئی افغان حکومت کو تسلیم نہ کریں لیکن اس کے باوجود حقیقت یہی ہے کہ طالبان افغانستان کی فیصلہ کن اور واحد قوت رہیں گے

 

Translate »