Spread the love

کمال احمد


نمروز کی مقامی انتظامیہ کے ترجمان نے شہر پر قبضہ کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ حکومت سے کمک نہ ملنے کی وجہ سے طالبان نے شہر پر قبضہ کرلیا ہے

نمروز پولیس کے ترجمان کے مطابق جمعرات کے روز طالبان شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئےتھے ،کیوں کہ مقامی انتظامیہ بروقت حکومت کی جانب سے کمک نہ ملنے کی وجہ سے شہر کا دفاع کرنے میں کامیاب نہیں ہو پارہی تھی

واضح رہے کہ اس سے قبل طالبان کی جانب سے ملک کے 80 فیصد اضلاع پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن انہوں نے صوبائی دارلحکومتوں کے بجائے چھوٹے شہروں اور اہم تجارتی مراکز پر توجہ مرکوز کئے رکھی
جبکہ طالبان نے صوبائی دارلحکومتوں پر قبضہ نہ کرنے کو اپنی حکمت عملی قرار دیا تھا جس کا مقصد شہری آبادی اور انسانی جانوں کا ضیاع ممکنہ حد تک روکنا تھا


یہ بھی پڑھیں:


تاہم طالبان نے حالیہ عرصہ کے دوران درجنوں اضلاع اور بین الاقوامی راہداریوں پر قبضے کے ساتھ ساتھ متعدد صوبائی دارلحکومتوں کے گرد گھیرا تنگ کررکھا ہے

لیکن امریکی انخلاء کے بعدایرانی سرحد کے قریب واقع زرنج شہر پہلا صوبائی دارلحکومت ہے جس پر طالبان نے باقاعدہ طور پر قبضہ کرلیا ہے

ذرائع ابلاغ کے مطابق طالبان نے شہر کی اہم انتظامی و سرکاری عمارات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔
جبکہ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹ میں کہا نمروز پہلا صوبہ ہے جو مجاہدین نے مکمل طور پر فتح کرلیا ہے ۔شہر کے گورنر ہائوس ،پولیس ہیڈکوارٹر ،انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر اور تمام سرکاری عمارات کٹھ پتلی انتظامیہ کے کارندوں سے خالی کروالی گئی ہیں

افغان صدر کا سابق ترجمان کابل میں قتل

دریں اثناء طالبان جنگجوئوں نے جمعہ کے روز افغان حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان دوا خان مینہ پار کو کابل شہر میں قتل کردیا ,ذبیح اللہ مجاہد نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ایک خاص حملہ قراردیا ہے

واضح رہے کہ طالبان نے کابل انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کے خلاف اہم سرکاری شخصیات کو نشانہ بنانے کی دھمکی تھی

Translate »